کراچی کو تاریخ کے خطرناک سمندری طوفان گلاب کا سامنا

محکمہ موسمیات کے مطابق شمال مشرقی بحیرہ عرب میں بننے والا طوفان اگلے 24 گھنٹوں میں سائیکلون کی شکل اختیار کرسکتا ہے۔

محکمہ موسمیات سندھ نے سمندری طوفان گلاب کا خددشہ ظاہر کرتے ہوئے کراچی سمیت سندھ کی ساحلی پٹی واقع شہروں کے لیے الرٹ جاری کر دیا ہے۔

محکمہ موسمیات کی جانب سے جاری ہونے والے الرٹ میں کہا گیا ہے کہ سندھ کے مختلف شہروں میں آج سے تیز ہواؤں کے ساتھ شدید بارشوں کا خدشہ ہے جس کی وجہ سے اربن فلڈنگ کا الرٹ جاری کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

سندھ کے وزیر بلدیات اپنے شہر سے گندا پانی صاف نہ کروا سکے

محکمہ موسمیات کے ڈائریکٹر کا کہنا ہے کہ شمالی مشرقی بحیرہ عرب میں بننے والا ٹراپیکل طوفان اگلے 24 گھنٹوں میں سائیکلون کی شکل اختیار کرسکتا ہے۔

ڈائریکٹر محکمہ موسمیات کے مطابق طوفانی بارشیں کراچی سمیت سندھ کے مختلف شہروں کو متاثر کرسکتی ہیں۔ جن شہروں کو طوفانی بارشیں متاثر کرسکتی ہیں ان میں حیدرآباد، عمر کوٹ ، سانگھڑ ، بدین ، ٹھٹھہ، میرپور خاص اور تھرپارکر سمیت دیگر شہر شامل ہیں۔

محکمہ داخلہ سندھ نے محکمہ موسمیات کے الرٹ کے بعد ماہی گیروں کو کسی بھی نقصان سے بچانے کے لیے 2 اکتوبر تک گہرے سمندر میں جانے اور شکار سےمنع کردیا ہے۔

دوسری جانب سندھ حکومت نے صوبے میں تین دن کے لیے رین ایمرجنسی نافذ کردی ہے۔ وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کسی بھی نا خوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لئے تمام محکموں کو الرٹ جاری کردیا ہے۔

ہندوستان سے آنے والے سمندری طوفان کے اثرات آج پاکستان میں داخل ہوں گے ، جمعرات اور جمعہ کو شدید بارش ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

نالے صاف نہ ہونے کی وجہ سے شہر قائد کے ایک مرتبہ پھر سے ڈوبنے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ ایڈمنسٹریٹر کراچی مرتضیٰ وہاب نے بھی کمر کس لی ہے اور شھر میں کے ایم سی اور ڈی ایم سی کے عملے کی چھٹیا منسوخ کردی گئی ہیں۔

محکمہ موسمیات کے مطابق شھر میں رات کو سسٹم کا پہلا حصہ شھر میں داخل ہوجائے گے۔ جمرات سے شروع ہونے والی بارشیں ہفتہ اور اتوار تک جاری رہنے کا امکان ہیں۔

دوسری جانب سندھ حکومت نے ٹیکنیکل بورڈ کے تحت ہونے والے تمام امتحانات ملتوی کردیے ہیں، جبکہ تیز بارشوں کے خدشے کے پیش نظر تعلیمی اداروں میں چھٹیوں کی تجویز بھی زیر غور ہے۔

سندھ حکومت کی جانب سے مچھیروں کو پہلے ہی ساحل سمندرے سے واپس بلا کر گھروں میں رہنے کی ہدایت کر دی گئی۔

Facebook Comments Box