وزیراعظم سیکرٹریٹ کو "ڈومین” کا سبق پڑھنے کی ضرورت

آئی ایم ایف سے قرضے کی نئی قسط پر مذاکرات جاری ہیں، ڈالر تاریخ کی بلند ترین سطح پر، مہنگائی میں بےتحاشہ اضافہ اور وزیراعظم عسکری تقرریوں میں الجھ گئے۔

وزیراعظم عمران خان اور پی ٹی آئی حکومت گزشتہ تین سال سے مختلف بحرانوں کی زد میں ہے۔ اس بار لیکن وزیراعظم نے ایک ایسے معاملے کو متنازع بنا دیا ہے جس کی پاکستانی سیاست کی تاریخ میں شاید کوئی مثال نہیں ملتی۔

رواں مہینے کے پہلے ہفتے میں پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے معمول کی پوسٹنگز کا ایک مراسلہ جاری کیا گیا۔ مراسلے کے مطابق پانچ جنرلز کی مختلف عہدوں پر تقرری کی گئی تھی جس میں ڈی جی آئی ایس آئی کا عہدہ بھی شامل تھا۔

یہ بھی پڑھیے

مہنگائی عمران خان کے لیے سونامی ثابت ہوگی

آئی ایم ایف نے شوکت ترین کے دعوے کی تصدیق کردی

یہ مراسلہ جاری ہونے کی دیر تھی کہ حکومت اور عسکری حکام کے درمیان ایک قسم کا ڈیڈلاک ہوگیا۔ اطلاعات کے مطابق وزیراعظم لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کو بطور آئی ایس آئی سربراہ کام جاری رکھنے دینا چاہتے ہیں لیکن جی ایچ کیو کو کچھ اور منظور ہے۔

گزشتہ روز ڈالر کی قیمت پاکستانی کرنسی کے مقابلے میں تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے، اوپن مارکیٹ میں ڈالر 174 روپے جبکہ مقامی سطح پر 173 روپے میں دستیاب ہے۔

ڈالر میں اضافے سے صرف دو روز قبل ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بھی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی تھیں، اس وقت پیٹرول  137 روپے فی لیٹر فروخت ہورہا ہے۔

دوسری جانب وزیر خزانہ، سیکرٹری خزانہ اور گورنر اسٹیٹ بینک اس وقت امریکہ کے شہر واشنگٹن میں آئی ایم ایف سے مذاکرات کے لیے موجود ہیں۔

یہ مذاکرات پاکستان کو ملنے والی قرضے کی نئی قسط سے متعلق ہورہے ہیں جس کے تحت پاکستان کو ایک ارب ڈالر دئیے جائیں گے۔

ایک موڑ پر یہ چہ مگوئیاں گردش کرنے لگیں کہ پاکستانی وفد کے آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات ناکام ہوگئے ہیں لیکن  وزارت خزانہ کے ترجمان نے ٹویٹ کرتے ہوئے ایسے کسی بھی امکان کو رد کردیا ہے۔

ملک اس وقت بڑے بحرانوں سے گزر رہا ہے، وزیراعظم عمران خان کو چاہیے کہ عسکری معاملات میں بےجا مداخلت کے بجائے اپنی ساری توجہ ملکی معیشت کو ٹھیک کرنے پر مرکوز کریں۔

روزمرہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں بےتحاشہ اضافہ ہوچکا ہے۔ اشیائے خور و نوش کی قیمتیں آسمان سے باتیں کررہی ہیں، ایسے میں سویلین قیادت کو مہنگائی کم کرنے اور زرمبادلہ کے ذخائر بڑھانے کے لیے ہنگامی اقدامات کرنے چاہئیں۔

Facebook Comments Box