پی ڈی ایم احتجاج اور ٹی ایل پی دھرنا، محض اتفاق ہے؟
تحریک لبیک پاکستان نے مختلف شہروں میں جشنِ ولادتِ رسول ﷺ مناتے ہوئے ریلیاں نکالیں اور لاہور میں دھرنا بھی دے دیا ہے۔

گزشتہ روز ملک بھر میں 12 ربیع الاول روایتی عقیدت و احترام سے منایا گیا، تحریک لبیک پاکستان نے مختلف شہروں میں جشنِ ولادتِ رسول ﷺ مناتے ہوئے ریلیاں نکالیں اور لاہور میں دھرنا بھی دے دیا۔
تحریک لبیک کے رہنماؤں، عہدیداران اور کارکنوں کا مطالبہ تھا کہ لاہور ہائیکورٹ نے رواں مہینے تحریک کے سربراہ علامہ سعد رضوی کی گرفتاری کو بلاجواز قرار دے دیا ہے لہذا انہیں فی الفور رہا کیا جائے۔
یہ بھی پڑھیے
تحریک لبیک پاکستان کا احتجاج اور ملک کا پہیہ جام
کشمیر میں شکست، کیا مریم اس مرتبہ دھرنا دے پائیں گی؟
تحریک لبیک کی جانب سے ایسے وقت میں دھرنا دیا گیا ہے کہ جب وزیراعظم عمران خان اور وفاقی حکومت کو کئی بحرانوں کا سامنا ہے۔
عسکری عہدوں پر تعیناتی، ڈالر کی قدر میں تاریخ ساز اضافہ، پیٹرولیم سمیت دیگر اشیا کی بڑھتی قیمتیں اور آئی ایم ایف سے قرضے کی اگلی قسط سے متعلق مذاکرات سے نبردآزما حکومت کے لیے تحریک لبیک نے ایک نئی مشکل کھڑی کردی ہے۔
حکومت نے عدالتی حکم نامے پر عمل درآمد سے انکار نہیں کیا لیکن علامہ سعد رضوی کو رہا کرنے اور ان کی سیکیورٹی کا لائحہ عمل تیار کرنے میں حکومت اور اداروں کو بھی وقت درکار ہے۔
ان حالات میں تحریک لبیک کے رہنماؤں اور کارکنان کو سوچنا چاہیے کہ ان کے دھرنے سے کسی دشمن ملک کے ہاتھ تو مضبوط نہیں ہو رہے، اس سے قبل بھی مذہبی جماعت کے دھرنوں کی وجہ سے فرانس اور پاکستان کے سفارتی تعلقات کشیدہ ہوچکے ہیں۔
ملک کا پہیہ چلانے کے لیے عالمی مالیاتی اداروں سے رقم درکار ہے اور معاشی طور پر پاکستان اس وقت مزید کسی دھرنے، جلسے اور جلوس کا متحمل نہیں ہوسکتا۔
دوسری طرف اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پی ڈی ایم نے بھی حکومت کے خلاف احتجاجی تحریک کا اعلان کردیا ہے۔ تمام مذہبی و سیاسی رہنماؤں کو اس حوالے سے اپنی پالیسی پر نظرثانی کرنا چاہیے کہ اس وقت میں احتجاج اور دھرنے ملک کے لیے نقصان کا باعث بن سکتے ہیں۔









