حکومت کے لیے ایک اور مشکل تیار، نیب آرڈیننس اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج
ڈاکٹر جی ایم چوہدری کا کہنا تھا کہ نیب ترمیمی آرڈیننس میں تمام بڑے لوگوں کی کرپشن کو قانونی بنا دیا گیا تو پیچھے چپڑاسی ہی رہ جائے گا۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے نیب ترمیمی آرڈیننس کے خلاف درخواست کی سماعت کی۔ عدالت نے سیکرٹری قومی اسمبلی، وفاقی حکومت اور سیکرٹری سینیٹ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 15 دن میں جواب طلب کرلیا ہے، جبکہ چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے اٹارنی جنرل کو آئندہ سماعت پر طلب کر لیا ہے۔
درخواست شہری لطیف قریشی کی جانب سے ڈاکٹر جی ایم چوہدری نے 13 اکتوبر کو دائر کی تھی جس کی سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے گذشتہ روز کی تھی۔
یہ بھی پڑھیے
ملک میں غیر اخلاقی ویب سائٹ کی بندش کو یقینی بنایا جائے، وزیراعظم
کالعدم ٹی ایل پی بھی پی ٹی آئی کی دھرنا سیاست پر چل نکلی
عدالت نے وزیر اعظم آفس، اعوان صدر، سیکرٹری قانون اور چیرمین نیب جاوید اقبال کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا ہے۔
عدالت میں دلائل دیتے ہوئے ڈاکٹر جی ایم چوہدری کا کہنا تھا کہ نیب ترمیمی آرڈیننس میں تمام بڑے لوگوں کی کرپشن کو قانونی بنا دیا گیا تو پیچھے چپڑاسی ہی رہ جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ نیب آرڈیننس نمبر XVIII 1999 کے سیکشن 4 اور 5A b ،ii کی وہ شقیں میں ترمیم کی گئی، عدالت نیب آرڈیننس کو غیر قانونی غیر آئینی انتہائی امتیازی اور بنیادی حقوق کی خلاف ورزی قرار دے۔
ڈاکٹر جی ایم چوہدری کا کہنا تھا کہ انصاف کے مفاد میں ہائیکورٹ اس طرح کی غیر قانونی اور غیر آئینی آرڈیننس کو کالعدم قرار دے، چیرمین نیب کی تقرری اشتہار اور مسابقتی عمل سے نہیں کیا گیا۔
ڈاکٹر جی ایم چوہدری کا کہنا تھا کہ معزز اعلیٰ عدالتوں میں مقرر ججز کی طرح بھرتیوں اور تقرریوں کے شفاف طریقہ قار پر عمل نہیں کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ حکومت کی جانب سے جاری ہونے والے 8 اکتوبر کے نوٹیفکیشن کو معطل کر دے۔ صدر مملکت عارف علوی نے چیف جسٹس کی مشاورت کے بغیر نئے نیب آرڈیننس کی منظوری دی۔ نیب آرڈیننس 2002 کی دفعات کے گزٹ میں شائع ہوا تھا اس پر عمل نہیں ہوا۔
ڈاکٹر جی ایم چوہدری نے درخواست میں سپریم کورٹ کے فیصلے ایس سی ایم آر 1996، 1349 کا حوالہ دیا ہے، چیرمین نیب کے تمام فیصلوں پالیسیوں احکامات تقرریوں کو کالعدم قرار دے۔









