طلعت حسین صحافت کے بعد علم نجوم کے بھی خود ساختہ ماہر
وزیراعظم عمران خان جنرل فیض کو ان کے عہدے پر تین ہفتوں تک برقرار رکھنا چاہتے ہیں، اس دوران وہ مزید اہم فیصلے کرسکتے ہیں، طلعت حسین
صحافی سید طلعت حسین نے ٹوئٹر پر 19 نومبر 2021 کو متوقع چاند گرہن کی تفصیلات کے حوالے سے ایک تصویر شیئر کی ہے۔ انہوں نے اس پوسٹ کو کئی کیپشن تو نہیں دیا لیکن اسے جس وقت میں شیئر کیا گیا ہے تو چند ایک باتیں واضح ہیں۔
— Syed Talat Hussain (@TalatHussain12) October 26, 2021
آج شام وزیراعظم ہاؤس سے نئے ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی کی تقرری کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے، اس مراسلے کے جاری ہونے میں کچھ ہفتوں کا تعطل آیا جس میں کوئی غیر معمولی بات نہ تھی۔
ستاروں کی چال والی پوسٹ سے چند لمحے قبل طلعت حسین نے چند سطور تحریر کیں۔ انہوں نے کہا کہ بلآخر وزیراعظم عمران خان نے سمری جاری کردی لیکن نئے ڈی جی آئی ایس آئی 20 نومبر کو چارج لیں گے، اس کا مطلب ہے کہ وزیراعظم جنرل فیض کو مزید تین ہفتوں تک عہدے پر برقرار رکھنا چاہتے ہیں، اب ان تین ہفتوں میں وہ مزید کئی اہم فیصلے کرسکتے ہیں۔
So PM Imran finally issues the summary but the new DG ISI Gen Nadeem will only take charge on 20th November. PM Imran wants Gen Faiz to retain his post for 3 more weeks. And in these 3 weeks he may take other decisions. The mess has just got messier.
— Syed Talat Hussain (@TalatHussain12) October 26, 2021
یہ بھی پڑھیے
آئندہ سال پاکستانی معیشت کے لیے ترقی کاسال ہوگا، فچ کی پیشگوئی
معیشت کے تمام اعشارئیے خطرے کی گھنٹی بجانے لگے
میڈیا پر وزیراعظم عمران خان سے منسوب یہ خبریں پھیلیں کہ وہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کو ہی بطور آئی ایس آئی سربراہ کام جاری رکھنے دینا چاہتے ہیں۔
بعد ازاں آرمی چیف سے نئی تعیناتی سے متعلق مشاورت مکمل ہونے کے بعد امکان ظاہر کیا جا رہا تھا کہ وزیراعظم عمران خان اپنے دورہ سعودی عرب سے قبل نوٹیفکیشن جاری کروا دیں گے لیکن ایسا نہ ہوا۔
ہفتوں سے جاری الجھن آج دور ہوگئی ہے لیکن اب اس بات پر نئی بحث چھڑ گئی ہے کہ اس مراسلے کی منظوری ہونے اور اسے جاری کرنے میں غیر ضروری تعطل کیوں آیا؟
تجزیہ کاروں اور خواہ مخواہ کے میڈیا پنڈتوں کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے اپنی اہلیہ بشریٰ بی بی سے مشاورت کر کے، ستاروں کی چال کے دیکھ کر فیصلے کی منظوری دی ہے۔
طلعت حسین ایک ذمہ دار صحافی کے طور پر شہرت رکھتے ہیں لیکن افسوس کی بات ہے کہ وہ بھی اس پراپیگنڈے کا حصہ بن گئے ہیں۔
تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ طلعت حسین اور اس قسم کی گفتگو کرنے والے تمام صحافیوں کو رویت ہلال کمیٹی میں بھیج دینا چاہیے تاکہ وہاں بیٹھ کر ستارے کی چالیں، طوطے کی فال، کنڈلیاں نکالتے رہیں اور پیشگوئیاں کر کے قوم کو آنے والے حالات سے متعلق آگاہ کریں۔
ٹوئٹر صارفین نے بھی طلعت حسین کی اس پوسٹ کو کچھ زیادہ پسند نہیں کیا اور ان سے مختلف سوال کیے۔











