کیا حزب اختلاف ٹی ٹی پی کے معاملے پر حکومت کو ٹف ٹائم دے پائے گی؟

اپوزیشن جماعتیں مہنگائی، تحریک عدم اعتماد، نیب آرڈیننس اور انتخابی اصلاحات پر حکومتی بنچز کو چیلنج کرنے میں ناکام رہی ہیں۔

قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کی جماعتوں نے کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے ساتھ کیے گئے حالیہ معاہدوں کو پارلیمنٹ میں لانے کا مطالبہ کردیا ہے۔

سینئر فوجی قیادت نے صدر مملکت عارف علوی ، وزیراعظم عمران خان ، اراکین پارلیمان ، سینیٹرز اور آزاد جموں و کشمیر کے وزیراعظم کو ٹی ٹی پی اور ٹی ایل پی کے ساتھ معاہدوں کے حوالے سے ان کیمرہ بریفنگ دی۔

یہ بھی پڑھیے

فیصل رضا عابدی نے عالمی جنگ کی تیاری پکڑ لی

حکومت پاکستان اور کالعدم ٹی ٹی پی میں فائر بندی پر اتفاق

قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کی جماعتوں نے ٹی ٹی پی اور ٹی ایل پی سے معاہدوں کے معاملے پر حکومت کو ٹف ٹائم دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ بدقسمتی سے ابھی تک اپوزیشن مہنگائی، الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں، دھاندلی، تحریک عدم اعتماد، نیب آرڈیننس اور انتخابی اصلاحات سمیت عوامی مفاد کے تمام مسائل پر حکومت کو کسی ایک پوائنٹ پر بھی ٹف ٹائم دینے میں بری طرح ناکام رہی ہے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اپوزیشن ٹی ٹی پی اور ٹی ایل پی کے معاملے پر حکومت کو ٹف ٹائم دے پائے گی؟

قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ جہاں افغانستان کے حوالے سے پالیسی ، ٹی ٹی پی سے مذاکرات ہو یا ٹی ایل پی کے ساتھ معاہدے کی بات ہو ، ان سارے معاملات پر یکطرفہ فیصلے نہیں ہو سکتے ہیں، پارلیمان ، نیشنل سیکورٹی اور سینیٹ کی منظوری کے بغیر ان پر کوئی پالیسی نہیں بن سکتی ، اور جو بھی قانون پارلیمان کی منظوری کے بغیر بنے گا اس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہوگی۔

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بلاول بھٹو زرداری کا پیغام شیئر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ "صدر اور وزیراعظم کون ہوتے ہیں کہ وہ پارلیمان کو اعتماد میں لئے بغیر اپنے طور پر آرمی پبلک اسکول کے بچوں، قومی قیادت اور فوجی جوانوں کو شہید کرنے والی تحریک طالبان پاکستان سے مذاکرات کی بھیک مانگیں؟”

وزیراعظم اور صدر کے پاس ٹی ٹی پی کے ساتھ معاہدہ کرنے کا کیا اختیار ہے جو آرمی پبلک سکول کے طلباء اور فوجیوں کے قتل کا ذمہ دار ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے مزید کہا کہ تمام پالیسیوں اور قوانین پر بحث کی جائے اور پارلیمنٹ سے منظوری لی جائے۔

قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ہم سب نے مل کر طے کیا ہے کہ ہم مہنگائی، ای وی ایم کے نام کو ووٹ پر نقب لگانے کی حکومتی سازش اور نیب آرڈیننس میں بار بار ترامیم کے خلاف بھرپور کردار ادا کریں گے۔

متعلقہ تحاریر