اسلام آباد میں سیاسی کچھڑی پک رہی ہے
سیاسی تجزیہ کاروں کی نظر میں 20 نومبر کی تاریخ اہم ہے۔
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سیاسی کچھڑی پکنا شروع ہر گئی ہے۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے التواء ، سپریم کورٹ میں وزیراعظم کی پیشی اور تحریک لبیک پاکستان پر پابندی ختم کرنے جیسے فیصلوں سے محسوس ہوتا ہے کہ حکومت بحرانی کیفیت سے دوچار ہے۔
20 نومبر کے بعد پاکستان میں سیاسی صورتحال میں تبدیلی آئے گی ، تاہم اگر عمران خان نے کوئی آخری قدم اٹھا لیا تو شاید نظام کو خطرات لاحق ہو جائیں۔
یہ بھی پڑھیے
اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کا اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کو خط
محکمہ بلدیات میں بڑے پیمانے پر افسران عہدوں سے فارغ
سینئر صحافی عبدالرزاق کھٹی کا اسلام آباد میں نیوز 360 کے نمائندے جاوید نور سے گفتگو میں کہنا تھا کہ ملک میں حکومتی پالیسیوں کے سبب تذبذب کی کیفیت پیدا ہو گئی ہے اور لوگ سوچ رہے ہیں کہ ملک میں کیا ہو رہا ہے ، کنفیوژن اسی وقت پیدا ہوتی ہے جب حکومت بحرانی کیفیت سے دوچار ہوتی ہے۔
عبدالرزاق کھٹی کا کہنا تھا کہ حکومت کی پریشانی سے اندازہ ہو رہا ہے کہ وہ کمزور پج پر چلی گئی ہے، اور اس کا سب سے بڑا سبب ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی ہے، اگر مہنگائی میں اتنا اضافہ نہ ہوتا تو شاید لوگ وزیراعظم کی بات سمجھ لیتے اور مان بھی لیتے لیکن اب لوگ کہہ رہے ہیں کہ بس، بہت ہو چکا۔
سینئر صحافی عبدالرزاق کھٹی کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ میں وزیراعظم کی پیشی ، تحریک لبیک پاکستان سے بین ہٹانا اور پارلیمنٹ میں قانون سازی کے حوالے سے، اپوزیشن سے شکست کھانا ، حکومت بالخصوص وزیراعظم کی بہت بڑی شکست ہے، اس سے عمران خان کی ساکھ متاثر ہوئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ طالبان ملک میں ہزاروں دہشت گردی کے واقعات میں ملوث رہے ہیں۔ آرمی پبلک اسکول سانحہ اور محترمہ بے نظیر بھٹو کے قتل کی ذمہ داری بھی طالبان نے قبول کی تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت طالبان سے مذاکرات کر رہی ہے جبکہ فریقین کو نہیں پوچھ رہی۔ پارلیمنٹ اور عدلیہ کو بھی اعتماد میں نہیں لیا جا رہا۔ ایک طرف 22 کروڑ عوام فریق ہیں تو حکومت طالبان سے مذاکرات کا فیصلہ خود سے کیسے کر سکتی ہے یعنی اس معاملے میں ریاست کی رٹ تو تیل لینے چلی گئی۔









