جانوروں کے ساتھ غیرمناسب سلوک، ملکی اور غرملکی این جی اوز سراپا احتجاج

ہائی کورٹ نے چڑیا گھر کی خراب صورتحال پر 380 جانوروں کو محفوظ پناہ گاہوں میں منتقل کرنے کا حکم دیا تھا۔

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں کچھ عرصہ سے جانوروں سے غیر مناسب سلوک کے واقعات سامنے آئے جن پر ملکی اور بین الاقوامی این جی اوز احتجاج کر رہی ہیں جبکہ اسلام آباد میں سول سوسائٹی کی جانب سے جانوروں کے حقوق بالخصوص آوارہ کتوں کو ظالمانہ طریقے سے مارنے کے خلاف احتجاج کیا گیا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کا اس حوالے سے اہم کردار سامنے آیا ہے جس نے گزشتہ روز آوارہ کتوں کو زہر دیکر مارنے پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نایاب نسل کے جانوروں کی درآمد پر پابندی بھی عائد کرچکی ہے جبکہ دوسری جانب معروف امریکی گلوکار ٹوڈشیا نے اسلام آباد میں بینجی پروجیکٹ کے نام سے ادارہ قائم کیا ہے۔ جس میں زخمی اور بیمار بلیوں، کتوں اور گدھوں کا علاج اور دیکھ بھال کی جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

شہباز گل کا گیس بحران پر شاہزیب خانزادہ کو کھلا چیلنج

آوارہ کتوں کو عدالتی ہدایات کے مطابق تلف نہیں کیا جا رہا

اسلام آباد سے دنیا کے تنہا ہاتھی کی کمبوڈیا منتقلی

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں گزشتہ کچھ عرصے کے دوران جانوروں سے ظالمانہ سلوک روا رکھے جانے کے کئی واقعات سامنے آ چکے ہیں،جن میں سے ایک ہاتھی کاون بھی تھا۔

اسلام آباد کے مرغزار چڑیا گھر میں 35 سالہ ہاتھی کاون نے کئی برس کسمپرسی میں گزارے جہاں اسے زنجیر سے باندھ کر رکھا گیا تھا۔ 2012 میں ساتھی ہتھنی کی موت کے بعد کاون شدید تنہائی کا شکار ہو گیا تھا۔اسے دنیا کا تنہا ترین ہاتھی قرار دیا گیا تھا۔

اسے مشکلات سے نجات دلانے کے لیے مقامی اور بین الاقوامی سطح پر مہم کا آغاز کیا گیا تھا۔

 امریکی گلوکار اور اسلام آباد میں کتے بلیوں کے لیے ادارے کا قیام

چڑیا گھر بند ،تمام جانور منتقل کردیے گئے۔

اسلام آباد کے چڑیا گھر میں خراب صورتحال  اور جانوروں سے نامناسب سلوک پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے چڑیا گھر کو بند کرنے اور تمام 380جانوروں کو محفوظ پناہ گاہوں میں منتقل کرنے کا حکم دیا تھا۔

بلی کو پھانسی دے دی

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بلی کو سفاکیت سے مارنے کا واقعہ رواں برس اگست میں پیش آیا جب ایک شخص نے بلی کو پھانسی دے کر اپنے فلیٹ کے باہر لوہے کی سیڑھی کے ساتھ لٹکا دیا تھا۔بلی کی لاش لٹکائے جانے کی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی تھی۔جس پر شہریوں نے غم وغصہ کا اظہار کیا تھا۔

پولیس نےجانوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی خاتون انیلہ عمیر کی درخواست پر مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا تھا۔تاہم بعد میں مقدمہ واپس لے لیا گیا۔

سول سوسائٹی احتجاجی مظاہرہ

 اسلام آباد میں سول سوسائٹی سے تعق رکھنے والے شہریوں کی جانب سے نیشنل پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس میں کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کی جانب سے کتوں کو زہر دے کر ہلاک کرنےکو ظالمانہ طریقہ قرار دیتے ہوئے ،اس اقدام کی مذمت کی گئی۔مظاہرین کا کہنا تھاکہ بے زبان جانور بھی حقوق رکھتے ہیں جس کی خلاف ورزی پر سی ڈی اے کے چیئرمین اور دیگر ملازمین کے خلاف کارروائی کی جائے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ بے زبان جانوروں کو تحفظ فراہم کیا جائے۔

کتوں کو بے دردی سے مارنے پر ہائی کورٹ کا اظہار برہمی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نےگزشتہ روز وفاقی دارالحکومت میں آوارہ کتوں کو زہر دے کر تکلیف سے مارنے پر برہمی کا اظہار کیا۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے شہری کی جانب سے دائر درخواست پر چیئرمین سی ڈی اے، وائلڈ لائف بورڈ اور میٹرو پولیٹن کارپوریشن کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے وضاحت طلب کرلی۔

عدالت کی جانب سے گزشتہ احکامات میں جانوروں کو تکلیف سے مارنے سے روکا گیا تھا اورآوارہ کتوں کے حوالے سے پالیسی مرتب کرنے کے احکمات جاری کیے گئے تھے۔عدالت نے کہا تھا کہ پالیسی مرتب کرتے وقت بین الاقوامی طریقہ کار اور اسلامی تعلیمات کو مد نظر رکھا جائے۔اس مقدمے کی مزید سماعت 16 نومبر کو ہوگی۔

نایاب جانوروں کی درآمد پر پابندی عائد

آسلام آباد ہائی کورٹ چند روز قبل نایاب نسل کے جانوروں کی درآمد پر پابندی عائد کر چکی ہے۔چیف جسٹس اطہر من اللّٰہ پر مشتمل عدالتِ عالیہ نے حکم نامے میں کہا تھا کہ ایف بی آر یقینی بنائے کہ آئندہ سماعت تک ایکٹ 2012ء کے بر خلاف کوئی جانور درآمد نہ کیئے جائیں۔ کرۂ ارض پر انسانی بقا جانوروں کی بقا اور ان کے قدرتی ماحول کو محفوظ رکھنے سے مشروط ہے۔

 فیصلے میں کہا گیا تھا کہ جانوروں کو محض انسانوں کی تفریح کے لیے قدرتی ماحول سے محروم کرنا بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

 امریکی گلوکار کے تعاون سے اسلام آباد پالتو جانوروں کا ادارہ قائم

معروف امریکی گلوکار ٹوڈشیانے اسلام آباد میں بینجی پروجیکٹ کے نام سے ادارہ قائم کردیاہے۔ جس میں بلیوں، کتوں اور گدھوں کے لیے الگ الگ پنجرے بنائے گئے ہیں۔ اس ادارے میں زخمی اور بیمار جانوروں کی دیکھ بھال اور ویکسینیشن کی جاتی ہے۔

شہری زخمی جانوروں کے بارے میں ہیلپ لائن پر کال کر کے اطلاع دے سکتے ہیں۔

پاکستان میں سالانہ ایک لاکھ افراد سگ گزیدگی کا شکار ہوتے ہیں۔عالمی ادارہ صحت۔

عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں سالانہ ایک لاکھ سے زائد افراد کو کتوں کے کاٹنے کے باعث ہسپتالوں میں داخل کرنا پڑتا ہے جن میں سے اکثر گلی محلوں میں پھرنے والے ان آوارہ کتوں کا شکار بنتے ہیں۔

پاکستان کے تمام چھوٹے بڑے شہروں، قصبوں اور دیہات میں آوارہ کتوں کی بہتات نے اس مسئلے کی سنگینی کو بڑھادیا ہے۔

آوارہ کتوں کو مارنے نہ تو اس مسئلے کا کیا حل ہے۔؟

جانوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیمیں پاکستان کے مختلف شہروں میں کتوں کو تلف کرنے کے طریقوں سے مطمئن نہیں اور اس حوالے سے وقتا فوقتا احتجاج ریکارڈ کرواتی رہتی ہیں۔

جانوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کا کہنا ہے کہ کتوں کی بڑھتی تعداد کو قابو کرنے کا واحد طریقہ یہی ہے کہ ویکسینیشن کرکے ان کی افزائش نسل روک دی جائے۔

متعلقہ تحاریر