این اے 133 کی نشست پر ضمنی انتخاب کا دنگل جاری، 199 پولنگ اسٹیشنز حساس قرار

الیکشن کمیشن نے امن و امان کی صورتحال کو کنٹرول کرنے کے لیے حساس پولنگ اسٹیشنز پر پولیس اور رینجرز کی اضافی نفری تعینات کی ہے۔

لاہور سے قومی اسمبلی کی نشست این اے 133 میں آج انتخابی دنگل جاری ہے۔ ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے درمیان کانٹے کا مقابلہ متوقع ہے۔ انتظامیہ نے امن و امان کے لیے پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری تعینات کی ہے۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما پرویز ملک کے انتقال کے بعد حلقہ این اے 133 میں آج بتاریخ 5 دسمبر بروز اتوار کو ضمنی انتخاب کا انتخابی کا دنگل جاری ہے۔ ماضی کے روایتی حریف ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے درمیان کانٹے دار مقابلہ متوقع ہے۔

یہ بھی پڑھیے

احمد حسن راناکا فیصل ووڈا اور فواد چوہدری  کے خلاف قانونی چارہ جوئی نا کرنے کا فیصلہ

بھارت پاکستان کیخلاف سائبر وارفیئر کی تیاری میں مصروف

لاہور کی قومی اسمبلی کی نشست میں نون لیگ کی ایم این اے شائستہ پرویز ملک اور پیپلز پارٹی کے اسلم گل سمیت 11 امیدوار مدمقابل ہیں جبکہ مرکز اور صوبے کی حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کے جمشید اقبال چیمہ اور انکی اہلیہ ٹیکنیکل غلطی کی وجہ سے الیکشن سے باہر ہیں۔

 این اے 133 ضمنی انتخابات کیلئے مجموعی طور پر 254 پولنگ اسٹیشنز قائم کیے گئے ہیں۔ الیکشن کمیشن نے 199 پولنگ اسٹیشنز کو حساس قرار دے دیا۔ حلقے میں کل ووٹرز کی تعداد 4 لاکھ 40 ہزار 485 ہے، جن میں مرد ووٹرز کی تعداد 2 لاکھ 33 ہزار 558 ہے جبکہ خواتین ووٹرز کی تعداد 2 لاکھ 2 لاکھ 6 ہزار 927 ہے۔ ضمنی انتخاب میں پولیس اور رینجرز امن و امان کو برقرار رکھنے کی ذمہ داری سر انجام دیں گے۔  خواتین کیلئے 395 اور مردوں کیلئے 436 پولنگ بوتھ بنائے گئے ہیں۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے اسلام آباد اور لاہور میں کنٹرول روم قائم کر دیئے گئے۔ انتخابی نتائج مرتب ہونے تک تمام کنٹرول رومز فعال رہیں گے جبکہ پریزائڈنگ افسران فارم 45 کی دستخط شدہ کاپی پولنگ ایجنٹوں کو فراہم کریں گے۔ واضح رہے کہ صوبائی الیکشن کمشنر پنجاب نے انتخابی سامان کی ترسیل بھی مکمل کردی گئی ہے۔ شکایات کے لیے اسلام آباد اور لاہور کے کنٹرول روم میں فون نمبرز بھی جاری کیے گئے ہیں۔

حلقہ این اے 133 میں تمام امیدواران اپنی اپنی جیت کے دعوے دار ہیں جبکہ گزشتہ 3 دہائیوں سے ن لیگ اس حلقے سے بھاری ووٹوں سے کامیاب ہوتی رہی ہے۔

حلقے کے لوگوں کا کہنا ہے کہ عین ممکن ہے کہ آج بھی ن لیگ ہی فاتح قرار پائے گی۔

واضح رہے کہ گزشتہ دنوں ضمنی انتخاب کیلئے حلقے میں ووٹوں کی خرید و فروخت کی مبینہ ویڈیو منظر عام پر آ چکی ہے جس کے تحت ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ 2 ، 2 ہزار روپے میں ووٹوں کو خریدتے ہوئے قرآن پاک پر حلف لیا گیا۔

حلقہ این اے 133 کی انتخابی مہم کے دوران ن لیگ کی شائستہ پرویز ملک اور پیپلز پارٹی کو ضابطہ اخلاق کی خلاف وزری پر جرمانے اور متعدد ارکان اسمبلی کو نوٹسز بھی جاری ہو چکے ہیں۔

حلقے میں پسماندہ علاقوں کے ساتھ ساتھ پوش علاقے بھی شامل ہیں ، حلقے میں ٹاون شپ، گرین ٹاون ، ملٹری سوسائٹی، کالج روڈ باگریاں چوک سمیت دیگر علاقے شامل ہیں۔

متعلقہ تحاریر