توہین عدالت کیس، مسلم لیگ (ن) اسلام آباد ہائی کورٹ کے ریڈار پر آگئی
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ اطہر من اللہ نے یہ اشارہ کردیا ہے کہ بیان حلفی کی سازش کے پیچھے کون سے عناصر کارفرما ہیں۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے ریڈار پر اب مسلم لیگ (ن) کی قیادت بھی آگئی ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے براہ راست نہ سہی بلواستہ طور پر بیان حلفی کے پیچھے چھپے عناصر کو دیکھنا شروع کردیا ہے۔
گذشتہ روز اسلام آباد ہائی کورٹ میں توہین عدالت کی سماعت کے موقع پر چیف جسٹس اطہر من اللہ نے رانا شمیم سے استفسار کیا کہ آپ نے اپنا بیان حلفی سربمہر بینک کے لاکر میں رکھوایا تھا ، یہ لاکر سے نکلا کیسے اور پھر مشتہر بھی ہوگیا اور پبلک بھی ہو گیا ، آپ نے اس پر کوئی قانونی چارہ جوئی کیوں نہیں کی؟
یہ بھی پڑھیے
نواز شریف کی واپسی کی تاریخ جاوید لطیف کو کس نے بتائی؟
افواج پاکستان قومی سلامتی پالیسی کے تحت کردار ادا کریں گی
اس پر رانا شمیم کے وکیل عبدالطیف آفریدی نےجواب دیا کہ ابھی اس حوالےسے ہم نے سوچا نہیں ہے۔
چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ آپ کو پتا ہے جن لوگوں کو اس بیان حلفی سے بلواستہ فائدہ پہچانے کی کوشش کی گئی ، ان کو ہی اس عدالت سے ریلیف ملا ہے ابھی چند دن پہلے ، اور ان کو ضمانت میں توسیع دی گئی ہے۔ تو کیا آپ کو لگتا ہے کہ یہ عدالت کسی طرح کی بےایمانی کرسکتی ہے؟
دوسری جانب معروف صحافی عرفان ہاشمی نےکہا ہے کہ جہاں پر بیان حلفی تیار کیا گیا وہ دفتر نواز شریف کا تھا، رانا محمد شمیم نے بیان حلفی پر دستخط بھی وہیں پر کیے تھے۔ عرفان ہاشمی کا کہنا تھا کہ لندن میں آپ کسی کے خلاف کوئی بات نہیں کرسکتے جب تک آپ کے اس کے لیگل ثبوت نہیں ہیں۔ سورس کی سیکورٹی کے معاملے کو بھی دیکھنا ہوتا ہے۔
لندن سے عرفان ہاشمی کے چونکا دینے والے انکشاف نے شریف فیملی کا کھیل ہی الٹا کردیا ہے: صدیق جان@SdqJaan pic.twitter.com/T9EjPwmVqU
— PTI (@PTIofficial) December 27, 2021
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ اطہر من اللہ نے یہ اشارہ کردیا ہے کہ بیان حلفی کی سازش کے پیچھے کون سے عناصر کارفرما ہیں۔ یعنی اطہر من اللہ کا یہ کہنا ہے کہ اسی عدالت نے ان عناصر کو ضمانت دی تھی، مطلب چیف جسٹس کا واضح اشارہ ن لیگ کی قیادت کی جانب ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے یہ بات بالکل نہیں بھولنی چاہیے کہ جب توہین عدالت کیس پہلی سماعت ہوئی تھی تو مسلم لیگ (ن) کے سرکردہ رہنما ایڈووکیٹ عطا تارڑ ، ترجمان ن لیگ مریم اورنگزیب اور رہنما اسلام آباد ہائی کورٹ پہنچے تھے مگر سماعت کے بعد سے مسلم لیگ ن کا کہیں اتا پتا نہیں ہے کہ وہ کہاں ہے ، حالانکہ اس کیس کا بلواستہ یا بلاواستہ تعلق تو ن لیگ کی اعلیٰ قیادت کے ساتھ ہے۔ اور دوسری بات یہ کہ مریم نواز نے توہین عدالت کیس کی پہلی سماعت سے دو روز قبل اپنے ایک ٹوئٹ میں اپنے والد کی بے گناہی کا بگل بجا دیا تھا۔ لیکن پہلی سماعت کے بعد اس طرف بھی بالکل خاموشی طاری ہے۔
تجزیہ کاروں کا مزید کہنا ہے کہ اب جبکہ کیس کلی طور پر توہین عدالت کی زمرے میں چلا گیا تو ن لیگ کہیں نظر نہیں آرہی ہے بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ ن تک دور دور نظر نہیں آرہی۔









