توہین عدالت کیس ، رانا محمد شمیم پر عائد فرد جرم کی چارج شیٹ جاری

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے 20 جنوری بروز جمعرات کو سابق چیف جج گلگت بلتستان پر توہین عدالت کیس میں فرد جرم عائد کی تھی۔

سابق چیف جج گلگت بلتستان رانا شمیم، میر شکیل الرحمان، انصار عباسی اور عامر غوری کے خلاف توہین عدالت کا کیس معاملہ، اسلام آباد ہائی کورٹ نے رانا محمد شمیم پر عائد فرد جرم کی چارج شیٹ کی کاپی جاری کردی ہے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کی جاری کردہ چارج شیٹ کے مطابق رانا محمد شمیم نے 10 ستمبر 21 کو برطانیہ میں بطور بیان حلفی کے عنوان سے ایک دستاویز کو عملی شکل دی۔

یہ بھی پڑھیے

خام تیل کے ذخائر بھرگئے،فروری میں ریفائنریز بند ہونے کاخدشہ

لاہور دھماکے کےبعد سیاسی قیادت کی لاشوں پر سیاست

چارج شیٹ کے مطابق جولائی 2018 میں جب سپریم اپیلٹ کورٹ گلگت بلتستان کے چیف جج اور اس وقت کے چیف جسٹس آف پاکستان 27 فیملی ممبران کے ساتھ چھٹیاں گزارنے گلگت آئے تھے۔ دونوں فیملیز نے عدالت کے گیسٹ ہاؤس میں قیام کیا۔

چارج شیٹ کے مطابق اسی شام رانا شمیم کی مرحومہ اہلیہ چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار اور ان کی اہلیہ لان میں چائے پی رہے تھے۔ بقول رانا محمد شمیم کے انہوں نے چیف جسٹس آف پاکستان کو بہت پریشان پایا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے جاری چارج شیٹ میں کہا گیا ہے کہ ثاقب نثار اپنے رجسٹرار سے مسلسل فون پر بات کر رہے تھے، ثاقب نثار نے کسی کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس میاں عامر فاروق کی رہائش گاہ پر جانے کی ہدایت کی۔

ثاقب نثار نے ییغام رساں کو ہدایت جاری کیں کہ نواز شریف اور مریم نواز کو کسی بھی قیمت پر عام انتخابات سے قبل ضمانت پر رہا نہیں کیا جانا چاہیے۔ چارج شیٹ کے مطابق کچھ ہی دیر بعد ثاقب نثار نے جسٹس عامر فاروق سے بھی براہ راست بات کی۔

سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ نواز شریف اور مریم نواز شریف کو عام انتخابات کے مکمل ہونے تک جیل میں رہنا چاہیے، دوسری طرف سے یقین دہانی پر ثاقب نثار پرسکون ہوئے اور خوشی سے ایک اور کپ چائے کا مطالبہ کیا۔

چارج شیٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ پھر ان سے پوچھا کہ انہوں نے جسٹس عامر فاروق کو ایسا پیغام کیوں دیا، اور کس لیے؟ ثاقب نثار نے کہا رانا صاحب آپ کبھی سمجھ نہیں پائیں گے۔

عدالتی چارج شیٹ کے مطابق نواز شریف اور مریم نواز کی سزا کا انتظام کیا گیا جیسا کہ فون کالز سے ظاہر ہے، میں نے انہیں اپنی مرحومہ اہلیہ اور ان کی اہلیہ کی موجودگی میں بتایا کہ نواز شریف کو جھوٹا پھنسایا گیا ہے۔ یہ سن کر ثاقب نثار شروع میں تھوڑا پریشان ہوا لیکن پھر بھروسہ کیا اور کہا، رانا صاحب پنجاب کی کیمسٹری گلگت بلتستان سے مختلف ہے۔

سابق چیف جج کو جاری کی گئی چارج شیٹ کے مطابق رانا شمیم  نے زیر التوا کیس پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی، راناشمیم نے 10 نومبر 2021 کو برطانیہ میں بیان حلفی نوٹرائزڈ کرایا، رانا شمیم نے دستاویز کو لیک، عدلیہ کو اسکینڈلائز کرنے کی کوشش کی، پیپر عدالت پہنچا تو کوریئر سروس کے لفافے میں تھا، یہ عمل آپ کے اس بیان کو جھٹلاتا ہے کہ وہ خود سیل کیا تھا، راناشمیم کے بقول بیان حلفی خفیہ تھا تو لیک ہونے پر کوئی کارروائی نہیں کی۔

متعلقہ تحاریر