وفاقی وزیر داخلہ کی کالعدم ٹی ٹی پی کو مشروط مذاکرات کی پیشکش

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کالعدم ٹی ٹی پی کو مشروط مذاکرات کی دعوت تو دے دی ہے مگر دیکھنا یہ ہو گا کہ افغان طالبان کیا کردار ادا کرتے ہیں؟

وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے ایک مرتبہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کو مشروط مذاکرات کی پیشکش کی ہے ، جبکہ آئی جی خیبر پختون خوا نے کالعدم ٹی ٹی پی اور داعش کو خطرہ قرار دے دیا ہے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کا کہنا تھا کہ کالعدم ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات میں ثالثی کا کردار افغان طالبان ادا کررہے تھے تاہم ٹی ٹی پی کی قیادت نے ایسے مطالبات رکھے ہیں جن کو تسلیم نہیں کیا جاسکتا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

اسمگلنگ کی روک تھام کےلیے آئی جی سندھ کا ڈی آئی جیز کے نام خط

پہلے تولو پھر بولو ، اینکر پرسن محمد مالک کے لیے یاد دہانی

انہوں نے کہا کہ "ہمارے دروازے ان (ٹی ٹی پی) کے لیے کھلے ہیں اگر وہ پاکستان کے قانون اور آئین کی پاسداری کرتے ہوئے ہم سے رابطہ کرنا چاہتے ہیں، لیکن اگر وہ لڑیں گے تو ہم جوابی وار کریں گے۔”

دہشتگردی کے تازہ واقعات کا ذکر کرتے ہوئے شیخ رشید احمد کا کہنا تھا کہ ماضی قریب میں دہشتگردی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے، گذشتہ تین کے دوران یعنی 15 اگست سے آج کی تاریخ تک دہشت گردی کے واقعات میں تقریباً 35 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ لاہور واقعے کے بعد گذشتہ رات تمام مسلح افواج، سول آرمڈ فورسز، آئی جیز پولیس، چیف سیکرٹریز، فرنٹیئر کور کے آئی جیز اور رینجرز کے آئی جی کو الرٹ اور چوکس رہنے کی ہدایت کردی گئی ہے۔

لاہور دھماکے کی تحقیقات کے حوالے سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں صرف اتنا کہا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے ہدف کے بہت قریب پہنچ گئے ہیں۔ اس دھماکے کے پیچھے جو جو عناصر ہیں سب کو کیفرکردار تک پہنچایا جائے گا۔ یہاں انہوں نے یہ بھی بتایا کہ انارکلی دھماکے کی ذمہ داری بلوچ نیشنلسٹ آرمی نے قبول کی تھی۔

دوسری جانب گذشتہ روز آئی جی خیبرپختون خوا نے نجی ٹی وی چینل کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا تھا کہ کالعدم ٹی ٹی پی ایک تھریٹ ہے اور کالعدم تنظیم داعش دوسرا تھریٹ ہے۔

ان دونوں گفتگوؤں کو لے کر تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید کی جانب سے مذاکرات کی پیش کش اس وقت ہوئی ہے جب پے در پے ملک کے اندر دہشتگردی کے واقعات رونما ہو رہے ہیں۔ اور یہ مذاکرات کی دعوت لاہور واقعے کے بعد سامنے آئی ہے۔ بنیادی طور پر دیکھنے کی بات یہ ہے کہ ٹی ٹی پی اس پیش کش کو کس طرح سے دیکھتی ہے۔ کیا وہ مثبت انداز میں جواب دیتی ہے یا پھر اپنی شرائط سامنے رکھتی ہے ۔ دیکھنا یہ بھی ہوگا کہ اس سارے پیرائے میں افغان طالبان اپنا کہاں تک اثرورسوخ استعمال کرتے ہیں یا پھر وہ ہری جھنڈی دکھا دیتے ہیں ، اگر ایسا ہوا تو حالات مخدوش ہو سکتے ہیں ، کیونکہ کالعدم ٹی ٹی پی ، کالعدم داعش اور دیگر دہشتگرد تنظمیں چھپے ہوئے دشمن ہیں ، جو چھپ کر وار کرتے ہیں ، اور ان کا نشانہ بھی عام طور پر معصوم لوگ اور نہتے لوگ ہوتے ہیں۔ تاہم کچھ بھی حکومت کو اس حوالے سے اپنی حکمت عملی جلد از جلد ترتیب دینا ہوگی تاکہ اس بڑھتی ہوئی عفریت کو روکا جاسکے۔

متعلقہ تحاریر