تحریک عدم اعتماد ، حکومت نے شکست سے بچنے کے لیے قانونی توڑ نکال لیا

آرٹیکل 63 اے کے تحت ووٹنگ کے دن کسی حکومتی رکن کو قومی اسمبلی میں حاضر ہو کر ووٹ ڈالنے کی  اجازت نہیں ہو گی ، دوسری صورت میں ووٹ مسترد تصور کیا جائے گا۔

وفاقی حکومت نے حزب اختلاف کی جماعتوں کی جانب سے جمع کرائی گئی تحریک عدم اعتماد کو ناکام بنانے کے لیے حکمت عملی تیار کرلی ہے۔ اسپیکر قومی اسمبلی نے ووٹنگ والے دن حکومتی ارکان کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت نہ کرنے کی ہدایت کردی ہے۔

گذشتہ روز اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی زیر صدارت حکومتی ایم این ایز کا اہم اجلاس ہوا ۔ اجلاس میں ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال اور ووٹنگ آف نوکنفیڈنس موو (تحریک عدم اعتماد) کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیے

تحریک عدم اعتماد، وزیراعظم اور حزب اختلاف کو درپیش چیلنجز

وزیر اعظم عمران خان نے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو ’فری ہینڈ‘ دے دیا

اسپیکر اسد قیصر کی زیرصدارت اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے کسی ایم این اے کو قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد والے دن موجود ہونے کی اجازت نہیں ہوگی۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ اگر کوئی ایم این اے تحریک عدم اعتماد والے دن اسمبلی میں گیا اور اس نے ووٹ دیا تو آئین کے مطابق اسے نااہل قرار دے دیا جائے گا اور اس کا ووٹ شمار نہیں ہوگا۔

وزیراعظم کسی بھی حکومتی ایم این اے کو نااہل قرار دینے کے لیے اسپیکر قومی اسمبلی کو تحریری طور درخواست دیں گے اگر وہ ووٹ ڈالنے کے لیے حاضر ہوگا۔

حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیاکہ تحریک عدم اعتماد والے دن صرف ایک حکومتی نمائندہ قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کرے گا۔

ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ حکومتی اراکین قومی اسمبلی کو آئین کے آرٹیکل 63 اے کے تحت ووٹ ڈالنے کی اجازت نہیں ہو گی۔

یاد رہے کہ گذشتہ روز وزیراعظم عمران خان نے کراچی کا دورہ کیا تھا۔ دورے کے دوران وزیراعظم ایم کیو ایم کے مرکز بہادرآباد بھی تشریف لائے تھے۔ جہاں متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے اراکین قومی اسمبلی نے تحریک عدم اعتماد کے خلاف وزیراعظم کو مکمل حمایت کا یقین دلایا تھا۔

اسلام آباد واپسی پر وزیراعظم عمران خان نے بنی گالا میں حکومتی ایم این ایز سے ایک طویل ملاقات کی اور اراکین کی جانب سے اٹھائے گئے تحفظات کا ازالہ بھی کیا ۔ وزیراعظم نے اراکین کو ان کے حلقوں کے مسائل کے حل اور جلد ترقیاتی منصوبے شروع کرنے کی یقین دہانی کرائی۔

تصحیح

یہاں اس بات کی تصحیح کی ضرورت درپیش ہے کہ اگر حکومتی ارکان تحریک عدم اعتماد کی مخالفت میں ووٹ ڈالنے نہیں آتے تو تحریک عدم اعتماد کامیاب ہو جائے گی ۔ ایسا نہیں ہے کیونکہ حزب اختلاف نے تحریک عدم اعتماد جمع کرائی ہے ، وزیراعظم اعتماد کا ووٹ نہیں لے رہے۔

حزب اختلاف کی ذمہ داری

آئین کے آرٹیکل 63 اے کے تحت حزب اختلاف کی جماعتوں کو حکومتی ارکان کی حمایت حاصل نہیں ہوگی اور اگر کوئی حکومتی رکن تحریک عدم اعتماد کے حق ووٹ ڈالے گا بھی تو ووٹ خود بخود مسترد ہو جائے گا۔

اب گیند اپوزیشن کے کورٹ میں آگیا ہے ، 172 ووٹ مکمل کرنا تحریک عدم اعتماد جمع کرانے والوں کی ذمہ داری ہو گئی ہے۔ تاہم دو روز قبل پریس کانفرنس کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کے کوچیئرمین آصف علی زرداری نے 172 زائد اراکین قومی اسمبلی کی حمایت کا دعویٰ کیا تھا۔ جبکہ گذشتہ روز میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے بھی 172 ارکان کی حمایت کا دعویٰ کیا تھا۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا کہ حکومت نے قیامت کی چال چل دی ہے ، آرٹیکل 63 اے کے تحت کوئی پی ٹی آئی کا رکن قومی اسمبلی چاہتے ہوئے بھی تحریک عدم اعتماد کے حق میں ووٹ نہیں ڈال سکتا۔ اس ساری صورتحال میں متحدہ قومی موومنٹ پاکستان ، پاکستان مسلم لیگ (ق) ، بلوچستان عوامی پارٹی (بی اے پی) اور گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس (جی ڈی اے) کے اراکین قومی اسملبی کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔ اب تحریک عدم اعتماد جمع کرانے والوں نے اپنی تحریک کامیاب کرانے کے لے مذکورہ بالا پارٹیوں کی حمایت حاصل کرنا ہوگی۔

متعلقہ تحاریر