سیاسی شخصیات اور اداروں کا میڈیا سے شکوہ، میڈیا گریبان میں جھانکے

گذشتہ روز آرمی چیف نے کہا تھا اگر ہم مسئلہ ہیں تو میڈیا بھی مسئلہ ہے ، میڈیا کے لوگ انسان بن جائیں تو سب ٹھیک ہو جائے گا۔

کیا میڈیا کو اپنے گریبان میں جھانکے کی ضرورت ہے؟ پاکستان کے تمام اسٹیک ہولڈرز اور سیاست دانوں کے بعد ملک کے سب سے منظم ادارے کے سربراہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی میڈیا کو ملک کا سب سے بڑا مسئلہ قرار دے دیا ہے۔

گذشتہ روز طلبہ کے ایک گروپ سے غیررسمی گفتگو کرتے ہوئے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا تھا کہ پاکستان کا مسئلہ اگر ہم ہیں تو میڈیا بھی ہے، میڈیا کے لوگ انسان بن جائیں تو سب ٹھیک ہو جائے گا ، تحمل اور برداشت کا مظاہرہ کرنے والی قومیں ہی ترقی کرتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

جو نہیں ہونے والا وہ ہونے والا ہے، عامر لیاقت حسین کا معنی خیز بیان

وزیر خارجہ کی فلسطینی ہم منصب کو غیر متزلزل حمایت کی یقین دہانی

یہ شکایت آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی جانب سے اس وقت آئی ہے جب ملک میں تحریک عدم اعتماد کو لے میڈیا نے بھونچال کی کیفیت پیدا کی ہوئی ہے۔

مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کی مبینہ آڈیو لیک سامنے آنے پر مسلم لیگ ن نے میڈیا سے شکوہ کیا تھا کہ میڈیا اپنی حدود کو پھلانگ رہا ہے ۔ میڈیا ایک مبینہ آڈیو کو لے کر مریم نواز اور مسلم لیگ ن کی قیادت کے خلاف پروپیگنڈا کررہا ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے گذشتہ دونوں پاکستان کے سب سے بڑے میڈیا گروپ "جنگ گروپ” پر جانبداری کا الزام لگاتے ہوئے کہا تھا کہ جنگ اور جیو ہمارے خلاف پروپیگنڈا مہم چلارہے ہیں۔

وزیراعظم عمران خان تو ہر روز میڈیا سے شکوے کا اظہار کرتے ہوئے برملا کہتے ہیں کہ میرے خلاف تحریک عدم اعتماد کو لے کر الیکٹرانک میڈیا کے کئی بڑے چینلز اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز عوام میں غلط پرسیپشن پھیلا رہے ہیں۔

چف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کا شکوہ کہ میڈیا نے رانا شمیم کے کیس میں عدلیہ کو اسکینڈلائز کرنے کی کوشش کی ہے۔

اور اب آرمی چیف نے میڈیا سے شکوہ کرتے ہوئے اسے پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ قرار دے دیا ہے۔

غیرجانبدار تجزیہ کاروں کہنا ہے کہ ملک کے سب سے بڑے ادارے کے سربراہ کا میڈیا سے شکوہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ میڈیا کو اپنے گریبان میں جھانکے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ ملک کے تمام ادارے اور سیاست دان میڈیا سے شکوہ کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ جب تک میڈیا خود احتسابی کی جانب نہیں آئے گا اور فیک نیوز سے اجتناب نہیں برتے گا مسئلہ حل نہیں ہوگا اور میڈیا کی تنقید کی زد میں ہی رہے گا۔

تجزیہ کاروں کہنا ہے کہ حکومت نے میڈیا کو نکیل ڈالنے اور فیک نیوز کو روکنے کےلیے "پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی” بل لانے کی کوشش کی تو میڈیا سے جڑے تمام اسٹیک ہولڈرز سمیت تمام سیاسی جماعتیں بھی اس بل کے خلاف میدان میں آگئی تھیں، جبکہ حکومت کا دعویٰ تھا کہ اس بل کو لانے کا مقصد صرف اور صرف جعلی خبروں کو روکنا تھا اور میڈیا کی ترقی مقصود تھا۔ اتھارٹی تشکیل دینے کا مقصد ملک بھر میں کام کرنے والے تمام میڈیا پلیٹ فارمز کو ریگولیٹ کرنا تھا، جس میں پرنٹ میڈیا ،الیکٹرانک میڈیا اور سوشل میڈیا سب شامل ہیں۔ لیکن اس بل کے خلاف میڈیا کے تمام اسٹیک ہولڈرز میدان میں آ گئے۔ اس کا مطلب واضح ہے کہ میڈیا خود احتسابی کے عمل کی جانب جانا ہی نہیں چاہتا ہے۔

متعلقہ تحاریر