حسن نثار کی رپورٹ کارڈ میں خاتون تجزیہ کار ریما عمر سے بدتمیزی
سینئر صحافیوں اور سماجی شخصیات کی حسن نثار کے رویے کی مذمت،جیو نیوز کی انتظامیہ اور پیمرا سے حسن نثار کیخلاف کارروائی کا مطالبہ

سینئر صحافی اور تجزیہ کار حسن نثار کوجیو نیوز کے براہ راست پروگرام کے دوران خاتون تجزیہ کار ریماعمر سے بدتمیزی پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔
سینئر صحافیوں اور سماجی شخصیات نے حسن نثار کے رویےکو قابل مذمت قرار دیتے ہوئے جیو نیوز کی انتظامیہ اور پیمرا سے حسن نثار کیخلاف کارروائی کا مطالبہ کردیا۔
یہ بھی پڑھیے
حسن نثار کا اشتعال انگیز بیان، جیو نیوز منافرت کے خلاف اپنے اصول بھلا بیٹھا
وسیم بادامی سے تلخ کلامی، ارشد شریف لائیو شو چھوڑ گئے
گزشتہ روز جیو نیوز کے پروگرام رپورٹ کارڈ میں ریماعمر نے پاکستان کی موجودہ سیاسی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے موقف اپنا یا کہ ہم پتلی تماشے کی بات کرتے ہیں لیکن پتلی تماشا کرنے والے کا کوئی ذکر نہیں کرتے۔
#صحافت#جیو_نیوز#حسن_نثار pic.twitter.com/qM5D1o5QXj
— Absar Alam (@AbsarAlamHaider) March 28, 2022
ریما عمر نے مزید کہا کہ میں نے یہ تہیہ کیا تھا کہ جب بھی رپورٹ کارڈ میں آؤں گی اور پتلی تماشے کی بات ہوگی تو میں پتلی تماشہ کرنے والوں پر ضرور بات کروں گی کیونکہ اس شو پر لوگ اکثر بات کرتے ہیں کہ سیاست دان کس طرح اشاروں پر چلنا شروع ہوجاتے ہیں لیکن جو پتلی تماشہ کرتا ہے اس کی بات ہم اس طرح نہیں کرتے جس طرح کرنی چاہیے۔
انہوں نے کہاکہ جب ہم اس طرح کا تجزیہ کرتے ہیں تو ہمیں ان لوگوں پر بھی بات کرنی چاہیے جو اس سیاسی عدم استحکام کا باعث بنتے ہیں،ان کی چالیں اس کا باعث بنتی ہیں ، میں تو ان کی بات ضرور کروں گی چاہے کوئی کرے نہ کرے۔
ریما عمر کی بات کے جواب میں جب حسن نثار کو بولنے کا موقع دیا گیا تو وہ ذاتی حملوں پر اتر آئے ۔انہوں نے ریماعمر کی بات کو نازیبا لہجے میں دہراتے ہوئے سیاستدانوں کو تنقید کا نشانہ بنایا کہ یہ سیاستدان جو بڑھاپے کو پہنچ گئے ہیں کیا یہ لولے لنگڑے ،اندھے بہرے ہیں جو دوسروں کے اشاروں پر چلتے ہیں۔ انہوں نےریما عمر کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ آپ کی پیدائش سے پہلے کا ڈرامہ چل رہا ہے۔
ریما عمر نے کہا کہ میں تو اسکی بھی مذمت کرتی ہوں اور اپنے اصولوں پر قائم ہوں۔ حسن نثار نے کہا کہ آپ جوکرتی ہیں کرتی ہیں لیکن چیزوں کو گڈ مڈ اور کنفیوژ نہ کریں۔آپ کی سمجھ ابھی چھوٹی ہے ، کھلے گی آہستہ آہستہ۔ اس پر ریما عمر نے کہا کہ ایسا نہیں ہوسکتا ، میں آپ کی طرح cynic(دوسروں کو خود غرض سمجھنے والا) نہیں بننا چاہتی، میں جیسی ہوں اس طرح خوش ہوں۔ریما عمر کی اس بات پر حسن نثار ہتھے سے اکھڑ گئے۔انہوں نے کہاکہ بی بی cynic کا پتہ بھی ہے کہ cynicism کیا ہوتا ہے، اس ملک میں جو cynic نہیں ہے وہ ایبنارمل ہے ،پاگل ہے۔
اس پر پروگرام کی میزبان علینہ فاروق شیخ نے مداخلت کرتے ہوئے تحمل سےایک دوسرے کی بات سننے کا مشورہ دیا اور کہا کہ یہی جمہوریت کی خوبصورتی ہے ، آہستہ آہستہ سب ٹھیک ہوجائے گا۔ اس پر حسن نثار نے کہا کہ کب ٹھیک ہوجائے ، ہزار سال بعد ٹھیک ہوجائے گا؟ یہ خوبصورتی نہیں ہے یہ Striptease(کسی کو محظوظ کرنے کیلیے برہنہ ہونا) ہے۔
حسن نثار کی جانب سے براہ راست پروگرام کے دوران ریما عمر سے بدتمیزی کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے ۔ اس سے قبل دسمبر 2020 میں بھی حسن نثار نے جیو کے اسی پرورگرام میں ریما عمر سے بدتمیزی کی تھی۔
This is @reema_omer’s response. She has not been cut or edited in the program. pic.twitter.com/0r6LU6TQ2f
— GeoReportCard (@GeoReportCard) December 29, 2020
حسن ںثار نے پاکستانی جمہوریت پر گفتگو کرتے ہوئے الیکشن میں پیسہ چلنے پر تنقید کی تھی جس کے جواب میں ریما عمر نے اپنا موقف بیان کرنا چاہا تو حسن نثار نے چیختے ہوئے ان کی بات سے اختلاف کیا جس پر ریماعمر نے انہیں ٹوکتے ہوئے بلندآواز میں بات کرنے سے منع کیا اور کہا کہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ میں کوئی بات کرتی ہوں تو آپ بیچ میں بلند آواز میں مداخلت کرتے ہیں جس سے اچھاتاثر نہیں جاتا۔ اس پر حسن نثار نے کہا کہ میں بہرا ہوں اس لیے اونچا بولتا ہوں جس پر ریما عمر نے کہا کہ لیکن میں بہری نہیں ہوں۔
گزشتہ روز پیش آنے والے واقعے کا وڈیو کا کلپ سوشل میڈیا پر فوری طور پر وائرل ہوگیا اور سینئر صحافیوں ،سیاستدانوں اور سماجی کارکنوں کی جانب سے ریما عمر کے حق میں مہم شروع کردی گئی جبکہ ٹوئٹر پر ہیش ٹیگ ریما گزشتہ رات سے ٹرینڈنگ میں ہے۔ سینئر صحافیوں اور سماجی کارکنوں نے براہ راست پروگرام میں نازیبا گفتگو کرنے پر حسن نثار کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور اس کے ساتھ ہی حسن نثار کی گفتگو نہ کاٹنے پر پروگرام کے پینل پروڈیوسر اور میزبان علینہ فاروق شیخ کے پیشہ ورانہ رویے پر بھی تنقید ہورہی ہے۔
Why @FarooqAleena you were so polite and somehow apologetic to this mad and filthy character @HassanNisar? He was clearly attacking @reema_omer and you should have been stood in the male dominated show with the only female participant.. Sad to see other male participants silent! https://t.co/f3drfWW4OK
— Asad Ali Toor (@AsadAToor) March 28, 2022
صحافی اور بلاگر اسد علی طور نے اپنے ٹوئٹ میں پروگرام کی میزبان علینہ فاروق شیخ سے سوال کیا کہ آپ حسن نثار جیسے پاگل اور غلیظ کردار کے انسان سے اتنی شائستہ اور کسی حد تک معذرت خواہانہ گفتگو کیوں کررہی تھیں۔وہ ریما عمر پر براہ راست حملے کررہا تھا،ایسے میں آپ کو مردوں کی اکثریت والے پروگرام واحد مہمان خاتون کا ساتھ دینا چاہیے تھا،دوسرے مرد شرکا کو خاموش دیکھ کر افسوس ہوا۔
I’m in awe of @reema_omer grace and poise in face of outrageous behaviour. More power to you 👍 https://t.co/1ir45rOEOJ
— Fahd Husain (@Fahdhusain) March 28, 2022
سینئر صحافی فہد حسین نے لکھا کہ میں اشتعال انگیز رویے کے مقابلے میں ریما عمر کے برداشت اور نرم رویے کا قائل ہوگیا ہوں۔آپ کو اور ہمت نصیب ہو۔
دلیل کا جواب دلیل سے دیا جانا چاہئیے ،گالم گلوچ سے نہیں ۔۔۔ more power to @reema_omer https://t.co/hZcJL5DvSy
— Asma Shirazi (@asmashirazi) March 28, 2022
سینئر صحافی عاصمہ شیرازی نے لکھا کہ دلیل کا جواب دلیل سے دینا چاہیے گالم گلوچ سے نہیں۔
It’s time for #Pakistan media owners to punish bad behaviour on their platforms. There has to be accountability for habitual offenders like Hassan Nisar. In solidarity @reema_omer https://t.co/O3q45Su91j
— Mehreen Zahra-Malik (@mehreenzahra) March 29, 2022
سینئر صحافی مہرین زہرہ ملک نے لکھا کہ اب وقت آگیا ہے کہ پاکستانی میڈیا مالکان اپنے اداروں میں برے رویے کی سزا دیں۔ حسن نثار جیسے عادی مجرموں کا احتساب ہونا چاہیے۔
دراصل حسن نثار کو اپنے سے زہین خاتون کا مقابلہ صرف بدتمیزی اور ذاتی حملوں سے کرنا ہی آتا ہے۔ دلائل کے لئے عقل چاہئے۔
pic.twitter.com/ppd5uLf0gF— Amber Rahim Shamsi (@AmberRShamsi) March 28, 2022
سینئر صحافی عنبررحیم شمسی نے لکھا کہ دراصل حسن نثار کو اپنے سے زہین خاتون کا مقابلہ صرف بدتمیزی اور ذاتی حملوں سے کرنا ہی آتا ہے۔ دلائل کے لئے عقل چاہئے۔
Salute to you for your patience @reema_omer.
— Iffat Omar Official (@OmarIffat) March 28, 2022
اداکارہ عفت عمر نے لکھا کہ ریما عمر آپ کی برداشت کو سلام۔
@reema_omer should not sit in @GeoReportCard if this man @HassanNisar shares the segment. He is humiliating and insulting the people who disagree with his opinion. I don’t think so he is a Liberal person at all. https://t.co/La3B3AwPpF
— Jalila Haider جرقہ در ظلمت، انفجار در سکوت (@Advjalila) March 28, 2022
سماجی کارکن جلیلہ حیدر نےاپنے ٹوئٹ میں لکھا کہ اگر یہ شخص رپورٹ کارڈ کا حصہ ہوتو ریما عمر کو اس پروگرام میں نہیں بیٹھناچاہیے۔ وہ ان لوگوں کی تذلیل اور توہین کر رہا ہے جو اس کی رائے سے متفق نہیں ہیں۔ مجھے نہیں لگتا کہ وہ لبرل شخص ہے۔
جیو کی کیا مجبوری ہے کہ اس مخبوط الحواس شخص کو لا کر پڑھی لکھی خواتین کو بیعزت کرے؟
— Murtaza Solangi (@murtazasolangi) March 28, 2022
سینئر صحافی مرتضیٰ سولنگی نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا کہ جیو کی کیا مجبوری ہے کہ اس مخبوط الحواس شخص کو لا کر پڑھی لکھی خواتین کو بیعزت کرے؟
سر وہ تمیزدار کب تھے؟ شروع سے ہی بدتمیز آدمی ہیں لیکن اسکرین بھی مل رہی ہے اور بہت سارا پیسہ بھی، ان سیٹھوں کی جانب سے جن کے پاس فیلڈ میں کام کرنے والے اچھے صحافیوں کے لیے پیسے نہیں ہوتے۔ یہی ہماری صحافت ہے۔
— Naimat Khan (@NKMalazai) March 28, 2022
عباس ناصر کے ٹوئٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے سینئر صحافی نعمت خان نے لکھا کہ سر وہ تمیزدار کب تھے؟ شروع سے ہی بدتمیز آدمی ہیں لیکن اسکرین بھی مل رہی ہے اور بہت سارا پیسہ بھی، ان سیٹھوں کی جانب سے جن کے پاس فیلڈ میں کام کرنے والے اچھے صحافیوں کے لیے پیسے نہیں ہوتے۔ یہی ہماری صحافت ہے









