تحریک عدم اعتماد: عمران خان آئین کے آرٹیکل 94 کے تحت مزید کتنے دن وزیراعظم رہ سکتے ہیں؟

تحریک کی کامیابی کی صورت میں اسپیکر اسد قیصر اسمبلی اجلاس کو غیرمعینہ مدت کے لیے ملتوی کرسکتے ہیں جبکہ صدر مملکت ، وزیراعظم کو فرائض کی انجام دہی کا حکم دے سکتے ہیں۔

ملک میں سیاسی انتشار اپنے آخری حدوں کو چھونے لگا ہے۔ اتوار کے روز وزیراعظم عمران خان کی قسمت کا فیصلہ ہوگا کہ وہ آئندہ کےلیے وزیراعظم رہتے ہیں یا نہیں۔ عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کل ہو گی، حزب اختلاف کی جماعتوں کو وزیراعظم کے خلاف تحریک کی کامیابی کےلیے 172 ووٹوں کی ضرورت ہوگی اور اگر ایک ووٹ بھی کم ہوا تو تحریک ناکامی سے دوچار ہو جائے گا۔

آرٹیکل 94 کے مطابق صدر مملکت کے پاس یہ اختیار ہے کہ وہ وزیراعظم سے یہ کہ سکتے ہیں کہ جب تک نیا وزیراعظم حلف نہیں اٹھا لیتا آپ کام کرتے رہیں۔

قومی اسمبلی کا ایوان 342 ارکان پر مشتمل ہے تاہم پی ٹی آئی کے ایک ایم این اے زمان خان کے انتقال کے بعد اب ایوان 341 ارکان پر مشتمل ہے۔ حزب اختلاف کو سادہ اکثریت ثابت کرنے کے لیے 172 ارکان کی حمایت درکار ہو گی۔

یہ بھی پڑھیے

وزیراعظم آج شام سے لیٹر گیٹ پر نئے انکشافات کا سلسلہ شروع کریں گے

وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کا استعفٰی منظور، پنجاب اسمبلی تحلیل

اپوزیشن اتوار کے روز تحریک عدم اعتماد کامیابی کے لیے 172 ووٹ پیش نہ کرسکی تو تحریک ناکام ہوجائے گی، اور عمران خان بطور وزیراعظم اپنی کارروائی جاری رکھیں گے۔

قائد حزب اختلاف شہباز شریف کا تحریک عدم اعتماد کے دن اراکین قومی اسملبی کو فول پروف سیکورٹی فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ شہباز شریف نے وفاقی سیکریٹری داخلہ کو خط لکھا دیا ۔

وزیراعظم کو ہٹانے کے لیے اپوزیشن کے پاس 162 ایم این ایز اپنے موجود ہیں ۔ حزب اختلاف کا دعویٰ ہے کہ 24 ایم این ایز ایسے ہیں جو حکومت سے ناراض ہیں ، اور وہ بھی ان کو سپورٹ کریں گے۔ پاکستان مسلم لیگ ن کاکہنا ہے کہ 16 ایم این ایز ایسے ہیں جو ان کے ساتھ رابطے میں ہیں ، پیپلز پارٹی کہتی ہے کہ 6 ایم این ایز ایسے ہیں جو حزب اختلاف کی حمایت کریں گے، اور فضل الرحمان کہتے ہیں کہ 7 ارکان ایسے ہیں جنہوں نے تحریک حمایت کی یقین دہانی کرائی ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر تحیک عدم اعتماد کامیاب ہو بھی جاتی ہے تو بھی حکومت کی تبدیلی میں اسپیکر قومی اسمبلی اور صدر روڑے اٹکا سکتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ جیسے ہی تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوتی ہے ویسے ہی اسپیکر قومی اسمبلی کا اجلاس غیرمعینہ کے لیے ملتوی کرسکتا ہے۔ یہ غیرمعینہ مدت 14 دن بھی ہوسکتی ہے اور ڈیڑھ ماہ بھی ہوسکتی ہے۔ یعنی  بطور وزیراعظم ، عمران خان پرائم منسٹر ہاؤس میں بیٹھے رہیں گے۔ اور شہباز شریف صاحب ووٹنگ میں جیتنے کے بعد بھی انتظار کرتے رہ جائیں گے۔

تجزیہ کاروں کا مزید کہنا ہے کہ صدر مملکت اور اسپیکر قومی اسمبلی کو آرٹیکل 94 اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ وہ اسمبلی اجلاس کو غیرمعینہ مدت تک ملتوی کرسکتے ہیں ، اب یہ صدر مملکت کا صوابدیدی اختیار ہو گا کہ وہ اجلاس کب بلواتے ہیں۔

قانونی ماہرین کا کہنا ہے آئین یہاں آکر خاموش ہے کہ ایک بار تحریک عدم اعتماد کامیاب ہو گئی اور اس کے بعد اگر صدر مملکت وزیراعظم کو حکم دیتے ہیں کہ آپ اپنے فرائض دیتے رہیں تو ان کی حدود کیا ہوں گی؟۔ تحریک کی کامیابی کےبعد وزیراعظم اسمبلیاں تحلیل نہیں کرسکتےہیں یہ بات تو طے ہے۔ تاہم اس کے علاوہ وزیراعظم کے پاس کون کون سے اختیار ہیں آئین اس پر خاموش ہے۔

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک تحریک عدم اعتماد پیش نہیں ہوسکتی تب تک وزیراعظم کے پاس اختیار ہے کہ وہ آرٹیکل 58 اور آرٹیکل 112 کے تحت اسمبلی تحلیل کرسکتے ہیں۔

متعلقہ تحاریر