امریکی مراسلہ: قومی سلامتی کمیٹی کا دوسرا اجلاس، کیا معاملہ اب سپریم کورٹ میں حل ہوگا؟

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نیشنل سیکورٹی کمیٹی کا جاری کردہ اعلامیے ناکافی ہے اسد مجید اور عمران خان کے خط میں کیا فرق ہے کیا نہیں ہے ، ہر چیز واضح ہونی چاہیے تھی۔

امریکی مراسلے کا معاملہ ، سازش یا صرف دھمکی ، وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت قومی سلامتی کمیٹی کا اہم اجلاس ہوا ، اجلاس میں امریکا میں تعینات سابق پاکستانی سفیر اسد مجید نے مبینہ دھمکی آمیز مراسلے پر بریفنگ دی۔

نیشنل سیکورٹی کمیٹی کی 20 دنوں میں یہ دوسری میٹنگ تھی جس میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی، تینوں مسلح افواج کے سربراہان اور دیگر سول اور عسکری قیادت نے شرکت کی۔

یہ بھی پڑھیے

احسن اقبال کا سی پیک اتھارٹی بند کرنیکا فیصلہ، حکومت نے نیا چیئرمین لگادیا

صدر عارف علوی نے تین وفاقی وزرا سے حلف لے لیے

اجلاس کے اعلامیے کے مطابق ایک مرتبہ پھر یہ کنفرم ہو گیا کہ واشنگٹن میں پاکستانی سفارتخانے کو ایک ٹیلی گرام موصول ہوا تھا۔

اجلاس میں قومی سلامتی کمیٹی کی پچھلی میٹنگ کے منٹس کی توثیق کی گئی۔ یعنی عمران خان کی پہلی تو سچ ثابت ہوگئی کہ انہوں نے جو اپنی 27 مارچ کی تقریر کے دوران جو خط لہرایا تھا وہ وہی دھمکی آمیز مراسلہ جو واشنگٹن میں سابق سفارت کار اسد مجید کو ملا تھا۔

سابق وزیراعظم عمران خان نے اپنے تقریر کے دوران اس دھمکی آمیز مراسلے کو اپنی حکومت کے خلاف سازش قرار دیا تھا جبکہ تحقیقاتی اداروں نے اس مراسلے کو سازش نہیں بلکہ مداخلت سے جوڑا تھا۔

نیشنل سیکورٹی کمیٹی کی گذشتہ میٹنگ میں یہ طے پایا تھا کہ مراسلے میں دھمکی آمیز زبان استعمال کی گئی ہے اور مراسلے کو پاکستان کے اندرونی معاملے میں مداخلت قرار دیا گیا تھا۔ کل کی میٹنگ میں یہ کنفرم ہو گئی کہ خط آیا تھا اور اس خط میں سفارتی آداب کے خلاف دھمکی آمیز زبان استعمال کی گئی تھی۔

انٹیلی جنس اداروں نے اس مراسلے کی انکوائری کی ہے ، تاہم اس انکوائری میں کوئی سازش نظر نہیں آئی تاہم ایک بات تو کنفرم ہے کہ خط آیا تھا۔

وزیراعظم شہباز شریف کی صدارت میں ہونے والی میٹنگ میں بھی یہ بات طے پا گئی کہ مراسلہ آیا تھا ، جس میں دھمکی آمیز زبان کے استعمال کا ذکر تھا مگر سازش کا ذکر نہیں تھا جبکہ سابق وزیراعظم عمران خان کا استدلال ہے کہ میری حکومت کے خلاف سازش ہوئی ہے۔

اب ضرورت اس امر کی ہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان فوری طور پر اس مراسلے پر ایک تحقیقاتی کمیشن قائم کرے ، جو اس بات کی تحقیق کرے، جیسا کہ عمران خان کہہ رہے کہ میری حکومت کو گرانے کے لیے سازش کی گئی ، اگر کمیشن یہ طے کردیتا ہے کہ سازش ہوئی تھی تو عمران خان کے انصاف کیا جائے اور اگر سازش ثابت نہیں ہوتی تو عمران خان کو سزا دی جائے اور عمران خان پر عوام کو ریاست کے خلاف بھڑکانے کا چارج بھی لگایا جائے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نیشنل سیکورٹی کمیٹی کا جاری کردہ اعلامیے ناکافی ہے اسد مجید اور عمران خان کے خط میں کیا فرق ہے کیا نہیں ہے ، ہر چیز واضح ہونی چاہیے تھی۔ یہ خط واضح حقیقت ہے تاہم سازش کو مبینہ کہا جاسکتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ عمران خان صاحب اپنے موقف سے پیچھے ہٹیں گے ، وہ بالکل اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے ، ان کا موقف یہ صرف یہ ہے عدالت کمیشن بن جائے ، جب کہا جارہا ہے کہ سازش نہیں ہوئی تو عدالتی کمیشن بنانے میں کیا حرج ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ جس طرح سے عمران خان نے اپنی بات کو اپنے سپورٹرز کے سامنے رکھ دیا ہے اس کو دیکھنا ہوگا۔

متعلقہ تحاریر