سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کو پاسپورٹ جاری کردیا گیا
وفاقی وزارت داخلہ کی جانب سے جاری ہونے والے پاسپورٹ کی مدت 10 سال ہے۔

سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کو پاسپورٹ جاری کردیا گیا ہے۔ نواز شریف کو پاسپورٹ عام کیٹیگری میں جاری کیا گیا ہے۔
وزارت داخلہ نے وزیراعظم شہباز شریف کے بڑے بھائی اور سابق وزیراعظم نواز شریف کو پاسپورٹ جاری کردیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
حمزہ شہباز کیخلاف مقدمہ درج کرنیکا معاملہ، پولیس سے جواب طلب
تحریک عدم اعتماد رکوانے کیلیے عمران خان نے کوئی پیغام نہیں بھیجا تھا
وزارت داخلہ کی جانب سے سے جاری ہونے والے پاسپورٹ کی مدت 10 سال ہے۔ وفاقی حکومت نے کچھ عرصہ پاسپورٹ کی تجدید کی ہدایت جاری کی تھی۔
امید ہے کہ سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف وطن واپس آکر قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنے خلاف چلنے والے مقدمات کا سامنے کریں۔
واضح رہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف نومبر 2019 میں عدالتی حکم پر 8 ہفتوں کے لیے علاج کے غرض سے لندن گئے تھے۔ نواز شریف قطر ایئرلائنز کی پرواز کے ذریعے لاہور سے دوحہ اور پھر دوحہ سے لندن پہنچے تھے۔
اطلاعات کے مطابق پاسپورٹ 23 اپریل کو پاکستانی ہائی کمیشن لندن نے جاری کیا تھا۔ پاسپورٹ اپریل 2032 تک یعنی دس سال کے لیے جاری کیاگیا ہے۔ جاری پاسپورٹ ، سفارتی پاسپورٹ نہیں ہے۔ سابق وزیراعظم کسی بھی دن بیرون ملک سے وطن واپسی کا سفر شروع کرسکتے ہیں۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے اپنے بڑے بھائی وزیر نواز شریف کو سفارتی پاسپورٹ جاری کرنے کا حکم دیا تھا جن کی عید کے بعد پاکستان واپسی متوقع ہے۔
وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے کہا کہ سفارتی پاسپورٹ سابق وزیراعظم نواز شریف کا حق تھا اور انہیں جاری کیا جائے گا۔
نئی کابینہ کا حلف اٹھانے کے بعد میڈیا سے گفتگو میں مسلم لیگ (ن) کے رہنما رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ بدقسمتی کی بات ہے کہ تین بار وزیراعظم رہنے والے شخص کو قومی شہریت سے محروم کیاگیا۔
واضح رہے کہ گذشتہ دنوں اسلام آباد ہائی کورٹ نے مسلم لیگ (ن) کے سربراہ نواز شریف کو ممکنہ سفارتی پاسپورٹ کے اجراء کو روکنے کی درخواست کو مسترد کر دیا تھا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے درخواست کو ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے خارج کردیا ۔ درخواست نمٹاتے ہوئے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے درخواست گزار پر 5000 روپے جرمانہ عائد کیا تھا۔
عمران خان کی حکومت نے گزشتہ سال فروری میں نواز کے پاسپورٹ کی معیاد ختم ہونے کے بعد اس کی تجدید سے انکار کر دیا تھا اور اس وقت کے وزیر داخلہ شیخ رشید نے وطن واپس آنے پر خصوصی سرٹیفکیٹ جاری کرنے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔









