سینئر قانون دان اشتر اوصاف کو اٹارنی جنرل آف پاکستان مقرر

اشتر اوصاف سابق وزیراعظم نوازشریف کے دور میں بھی اٹارنی جنرل رہ چکے ہیں، آرٹیکل 63اے کی تشریح سے متعلق صدارتی ریفرنس اور لیٹر گیٹ کی تحقیقات کیلیے ممکنہ کمیشن  اشتر اوصاف کیلیے کڑا امتحان ثابت ہوسکتے ہیں

وزیراعظم میاں محمد شہبازشریف  نے سینئر قانون دان اشتر اوصاف علی  کو اٹارنی جنرل آف پاکستان  تعینات کرنے کی منظوری دیدی ۔

اشتراوصاف علی سابق وزیراعظم نوازشریف کے دور میں بھی اٹارنی جنرل رہ چکے ہیں۔اشتراوصاف علی16-2015میں وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے قانون وانصاف بھی رہ رہ چکے ہیں ۔

یہ بھی پڑھیے

ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ پر احتجاجاً ڈپٹی اٹارنی جنرل اپنے عہدے سے مستعفی

شہباز شریف نے اٹارنی جنرل کے خط کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھا دیئے

اشتراوصاف علی دومربتہ99-1998اور13-2012 میں ایڈووکیٹ جنرل پنجاب بھی رہے ہیں جبکہ 12-2011میں پراسیکیوٹر جنرل  پنجاب بھی رہ چکے ہیں۔

ماہرقانون کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نے انتہائی اہم موقع پر اشتر اوصاف  کے کاندھوں پر بھاری ذمے داری ڈال دی ہے۔آرٹیکل 63اے کی تشریح سے متعلق صدارتی ریفرنس اور لیٹر گیٹ کی تحقیقات کیلیے ممکنہ کمیشن  اشتر اوصاف کیلیے کڑا امتحان ثابت ہوسکتے ہیں۔

علاوہ ازیں آئی جی موٹروے پولیس انعام غنی کو  بھی عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے،انعام غنی کو   اسٹبلیشمنٹ ڈویژن رپورٹ کرنے کی ہدایت  کردی گئی ہے۔پولیس سروس گریڈ 21 کے خالد محمود کو آئی جی موٹروے کو عارضی چارج تفویض کردیا گیا ہے۔خالد محمود موٹروے پولیس میں ہی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔

متعلقہ تحاریر