سیاسی معاملات میں فوج کو گھسیٹنا سیاستدانوں اور صحافیوں کو مہنگا پڑ سکتا ہے
گزشتہ ماہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے ایک سوال کے جواب کہا تھا کہ فوج نیوٹرل ہے اسے سیاست میں نہ گھسیٹا جائے۔
مختلف سیاستدانوں ، صحافیوں اور تجزیہ کاروں کی جانب سے پاک فوج پر براہ راست اور بلواسطہ طور پر تنقید اور سیاست میں گھسیٹنے کے بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے میجر جنرل بابر افتخار نے کہا ہے کہ افواج پاکستان کو سیاسی گفتگو میں گھسیٹنے کی کوشش کی جارہی ہے جو کسی بھی صورت ناقابل قبول ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ مسلح افواج کو غیر اخلاقی اور غیر قانونی عمل میں شامل کرنا سختی سے منع ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ آئندہ تمام سیاسی جماعتیں ، صحافی اور تجزیہ کار قانون کی پاسداری کریں گیں۔
ترجمان آئی ایس پی آر کا کہنا ہے مسلح افواج کو ملک کے مفاد کی خاطر سیاسی گفتگو سے دور رکھیں ۔ غیر مصدقہ اور اشتعال انگیز بیانات انتہائی نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
وزیراعظم جوش خطابت میں علامہ محمد اقبال کی تاریخ پیدائش بھول گئے
اینکر پرسن عاصمہ شیرازی اور رب نواز بلوچ کا غلط خبر پر غلط ٹوئٹ
ڈی جی آئی ایس پی آر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ کچھ سینئر سیاست دان ، صحافی اور اینالسٹ (تجزیہ کار) پبلک فورم پر مسلح افواج کے بارے میں گفتگو کررہے ہیں ، اس سلسلے میں مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو استعمال کیا جارہا ہے۔
گزشتہ ماہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے ایک سوال کے جواب کہا تھا کہ فوج نیوٹرل ہے اسے سیاست میں نہ گھسیٹا جائے۔
یہ ایک ماہ سے بھی کم عرصے میں ترجمان پاک فوج کی جانب سے دوسرا بیان سامنے آیا ہے۔
تاہم دو روز قبل میانوالی میں جلسہ عام سے خطاب کرتےہوئے سابق وزیراعظم عمران خان نے ایک مرتبہ پھر کہا کہ "اللہ ہمیں حکم دیتا ہے کہ حق کے ساتھ کھڑے رہیں اور باطل کے خلاف کھڑے ہو جائیں، اللہ نے آپ کو اجازت نہیں دی نیوٹول رہنے کی ، کیونکہ نیوٹرل تو صرف جانور ہوتا ہے۔ انسان نیوٹرل نہیں ہوتا ہے۔جب شیر ایک ہرن کو پکڑ لیتا ہے تو باقی ہرن بھاگ جاتے ہیں کیونکہ وہ نیوٹرل ہو جاتے ہیں۔”
گذشتہ روز ایبٹ آباد میں خطاب کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا "نیوٹرل بننے کی اللہ نے ہمیں اجازت نہیں دی‘بار بارکہتا ہوں نیوٹرل صرف جانور ہوتے ہیں‘ انسان نے اللہ کو جواب دینا ہوتا ہے۔”
ایبٹ آباد میں پی ٹی آئی کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیر شیخ رشید کا کہنا تھا کہ "کہا جارہا ہے کہ آپ کے جنرل کو کھڈے لائن لگا دیا جائے ، کیا ہماری فوج سو رہی ہے، کل مریم نواز نے جنرل فیض حمید کا نام لیا ، فوجی کہاں سوئے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف نے 14 مرتبہ جنرل قمر جاوید باجوہ اور لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید سے متعلق غیرپارلیمانی زبان استعمال کی فوج کہاں سو رہی تھی۔”
دوسری جانب فتح جنگ جلسے میں کور کمانڈر پشاور کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کہتا ہے کہ جو انٹیلی جنس کا آفیسر تھا میں نہیں چاہتا تھا کہ اس کی پوسٹنگ پشاور میں ہو ، ایک تقرری کیا ہوئی اس کی آنکھیں بھی گئیں ، اس کے کان بھی گئے وہ بیساکھیاں تھی جس پر عمران خان کی حکومت کھڑی تھی ۔وہ شخص جس سے یہ بے فیض ہوا تو حکومت زمین پر گر گئی۔
سینئر صحافی نجم سیٹھی نے کہا ہے کہ ” پاک فوج میں جنرلز کی پوسٹنگ اور ٹرانفرسز کا وقت قریب آن پہنچا ہے جبکہ کچھ ریٹائر ہو جائیں گے اور اب ان کی جگہ پر تقرر وتبادلے ہونگے۔ ذرائع کہہ رہے ہیں کہ جنرل فیض حمید کو جلد جی ایچ کیو میں ٹرانسفر کر دیا جائے گا۔”
پاک فوج میں جنرلز کی پوسٹنگ اور ٹرانفرسز کا وقت قریب آن پہنچا ہے جبکہ کچھ ریٹائر ہو جائیں گے اور اب ان کی جگہ پر تقرر وتبادلے ہونگے۔ ذرائع کہہ رہے ہیں کہ جنرل فیض حمید کو جلد جی ایچ کیو میں ٹرانسفر کر دیا جائے گا، نجم سیٹھی pic.twitter.com/KKXVBhUfqG
— Murtaza Solangi (@murtazasolangi) May 6, 2022
مریم نواز کے بیان کو لے کر سمیع ابراہیم نے فوج پر بلواسطہ تنقید کی تھی کہ وہ مریم نواز کے خلاف ایکشن کیوں نہیں لیتی ، جس پر ایف آئی اے نے انہیں نوٹس جاری کردیا ہے۔
گذشتہ روز وزیراعظم شہباز شریف نے سی پی این ای کے وفد سے ملاقات کی ۔ ملاقات کے دوران ان کا کہنا تھا کہ "فوج کی بڑی قربانیاں ہیں، پاک فوج کیخلاف بات کرنیوالوں کیساتھ کوئی رعایت نہیں ہوگی، فوج کسی پارٹی یا گروہ کا ادارہ نہیں، فوج 22کروڑعوام کاادارہ ہے۔”
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ "ہمارے اداروں کے ساتھ تعلقات بالکل ٹھیک ہیں، اسٹیبلشمنٹ نے ساڑھے3 سال جتناعمران خان کا خیال رکھا کسی کا نہیں رکھا۔”
انہوں نے کہا کہ "پی ٹی آئی انارکی پھیلانے کی کوشش کر رہی ہے، اسے انارکی پھیلانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی، قانون کے دائرے میں رہ کر احتجاج کریں تو ٹھیک ہے، انارکی پھیلائی تو قانون سختی سے نمٹے گا۔
مسلم لیگ (ن)کی نائب صدر مریم نواز سے متعلق بات چیت کرتے ہوئے شہباز شریف کا کہنا تھا کہ "آپ مریم کی باتوں کو سنجیدہ نہ لیں، وہ جذبات میں آکر بول جاتی ہیں۔”









