کیا گورنر کو صدر کی منظوری کے بغیر عہدے سے ہٹایا جاسکتا ہے؟
کابینہ ڈویژن کے سینئر جوائنٹ سیکریٹری تیمور تجمل نے وزیراعظم کی ایڈوائس پر گورنر پنجاب کو عہدے سے ہٹانے کا نوٹی فیکیشن جاری کیا ہے۔
لاہور: صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی جانب سے وزیر اعظم شہباز شریف کی سمری مسترد کیے جانے کے باوجود گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ کو ان کے عہدے سے ہٹانے کے بعد صوبہ پنجاب میں آئینی بحران مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔
سینئر جوائنٹ سیکریٹری کیبٹ ڈویژن تیمور تجمل کے دستخط سے جاری نوٹی فیکیشن میں کہا گیا گورنر پنجاب کو وزیراعظم کی ایڈوائس پر عہدے ہٹایا گیا جارہا ہے۔ گورنر پنجاب کو عہدے سے ہٹانے کو نوٹی فیکیشن رات گئے جاری کیا گیا۔ اس سے قبل صدر مملکت عارف علوی نے کہا تھا کہ ان کی منظوری کے بغیر گورنر کو نہیں ہٹایا جاسکتا۔
یہ بھی پڑھیے
ایندھن اور بجلی پر سبسڈی کی گنجائش نہیں، عقیل کریم ڈھیڈی
ملک میں اومیکرون کے نئے ویریئنٹ کا پہلا کیس رپورٹ
نوٹی فیکیشن کے مطابق اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہٰی قائم مقام گورنر کے فرائض انجام دیں گے۔
ذرائع کے کہنا ہے کہ گورنر پنجاب کو عہدے سے ہٹانے کے بعد ان کو فراہم کی گئی سیکورٹی کو ہٹا لیا گیا ہے۔
پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ احکامات یہ ہیں کہ اگر عمر سرفراز چیمہ گورنر ہاؤس آنے کی کوشش کریں تو انہیں گورنر ہاؤس کے اندر نہ آنے دیا جائے۔
گورنر ہاؤس کے اندر اور باہر پولیس کی بھاری نفری تعینات کردی گئی ہے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے وزیراعظم شہباز شریف کی طرف سے گورنر پنجاب کو ہٹانے کی ایڈوائس مسترد کردی، صدرِ پاکستان نے کہا کہ گورنر کو ہٹانا جمہوری اصولوں کے خلاف ہوگا۔
President Dr. Arif Alvi strongly rejects Prime Minister’s advice to remove Governor Punjab
The President has conveyed to the Prime Minister of Pakistan that Governor Punjab cannot be removed without his approval. pic.twitter.com/72OIVfKJEW
— The President of Pakistan (@PresOfPakistan) May 9, 2022
صدر عارف علوی نے کہا کہ جمہوری نظام کے فروغ کیلیے موجودہ گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ اپنے عہدے پر کام جاری رکھیں۔
صدر کا کہنا تھا کہ گورنر پنجاب کو صدر کی منظوری کے بغیر نہیں ہٹایا جاسکتا۔ آئین کے آرٹیکل 101 کی شق 3 کے مطابق گورنر صدر کی رضا مندی تک گورنر رہے گا۔
صدر مملکت عارف علوی کا کہنا تھا کہ گورنر عمر سرفراز چیمہ پر نہ تو کوئی بدانتظامی کا الزام ہے اور نہ ہی کسی عدالت کی طرف سے انہیں کوئی سزا ہوئی ہے۔ انہوں نے آئین کے خلاف بھی کوئی کام نہیں کیا ہے۔
گورنر پنجاب کے آئینی کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے صدر مملکت نے کہا کہ گورنر پنجاب نے اس سے قبل پنجاب اسمبلی میں پیش آنے والے ناخوشگوار واقعات، وفاداری کی تبدیلی ، وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان احمد خان بزدار کے استعفیٰ کے درست ہونے کے حوالے سے سوالات اور رپورٹ بھی ارسال کی تھی۔
صدر مملکت نے مزید کہا کہ وہ اس مشکل وقت میں آئین پاکستان کی شقوں کے ساتھ کھڑے رہنے کے لیے پُرعزم ہیں اور گورنر پنجاب کو ان کے عہدے سے ہٹانے کے وزیر اعظم کے مشورے کو سختی سے مسترد کرتے ہیں۔
قانونی حیثیت پر سوالیہ نشان لگ گیا
وفاقی حکومت کے اس اقدام نے گورنر پنجاب کی برطرفی کے قانونی جواز کے حوالے سے کئی سوالات کو جنم دے دیا ہے ، جس کا فیصلہ صدر کی منظوری حاصل کیے بغیر کیا گیا، وہیں یہ سوالات بھی اٹھ گئے ہیں کہ اس کے بعد موجودہ پاکستان مسلم لیگ نواز (پی ایم ایل این) کی حکومت نے کیا حاصل کیا؟
مرکز اور پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کی قیادت والی حکومتیں صوبے میں اپنے پسندیدہ گورنر کے تقرر کے لیے مسلسل کوششیں کر رہی تھیں، جب کہ چند روز قبل وفاقی حکومت نے گورنر شپ کے لیے بلیغ الرحمان کا نام بھی دیا تھا۔
کابینہ ڈویژن کے نوٹی فیکیشن کے مطابق گورنر کی غیر موجودگی میں اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی قائم مقام گورنر کے طور پر فرائض سرانجام دیں گے اور یہ اقدام حمزہ شہباز حکومت کے لیے الٹا اثر ڈال سکتا ہے۔
تاہم، یہ ابھی تک واضح نہیں ہے کہ کیا اسپیکر پنجاب اسمبلی موجودہ پنجاب کابینہ سے حلف لیتے ہیں یا نہیں۔ کیونکہ اسپیکر پنجاب اسمبلی پہلے ہی حمزہ شہباز کے بطور وزیر اعلیٰ منتخب ہونے پر شدید تحفظات کا اظہار کر چکے ہیں اور اسے ‘غیر آئینی’ قرار دے چکے ہیں۔
دوسری جانب چیمہ نے قانونی اور آئینی ماہرین سے ملاقات کی اور کہا کہ وہ پنجاب کے اعلیٰ عہدے سے ہٹائے جانے کے بعد قانونی اور آئینی پہلوؤں پر مشاورت کے بعد فیصلہ کریں گے۔
تاہم آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی شخصیت کو اس کے آئینی عہدے ہٹانے کے لیے صدر مملکت ، وزیراعظم کی ایڈوائس کے پابند ہوتے ہیں ، آئین کے تحت وزیراعظم نے صدر کو گورنر کو انکے عہدے سے ہٹانے کی سمری ارسال کی تھی ، تاہم آئین کے آرٹیکل 101 کی شق 48 کے تحت صدر کے تمام اختیارات نمائشی ہیں۔ اصل پاور وزیراعظم کے پاس کیونکہ ہمارے ملک کو نظام صدارتی نہیں بلکہ پارلیمانی ہے۔
دوسری جانب وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ صدر مملکت وزیراعظم کی ایڈوائس کے پابند ہیں ، اس سے ہٹنا آئین شکنی ہوگی ۔ آئین سے ہٹنے والوں کو آئین اور عدالت کی سزا کے لیے تیار رہنا ہوگا۔









