سندھ ہائیکورٹ کا دعا زہرا کو 19مئی کو پیش کرنے کا حکم

دعا زہرا کے والد سید مہدی علی کاظمی نے وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف سے  بیٹی کو بازیاب کرانے کی اپیل کردی

سندھ ہائیکورٹ نے بازیابی اور والدین سے ملاقات ک درخواست  پر دعا زہرا کو 19 مئی کو آئندہ سماعت پر پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

عدالت نے ایس ایس پی ایسٹ اور ایس ایچ او الفلاح کو دعا کو پیش کرنے کی ہدایت  کرتے ہوئے پراسکیوٹر جنرل سندھ و دیگر کو 19 مئی کے لیے نوٹس جاری کردیے ۔

یہ بھی پڑھیے

کیا دعا، نمرا اور دینار انسانی اسمگلنگ ریکٹ کے ہتھے چڑھ گئیں؟

جبران ناصر نے دعا زہرہ کیس کے قانونی پہلو بتا دیئے

درخواست گزار سید مہدی علی کاظمی نے درخواست میں موقف اختیار کیا تھا کہ  ایس ایس پی ایسٹ،ایس ایچ او الفلاح اور تفتیشی افسر کو حکم دیا جائے کہ دعا زہرا کو بازیاب کرائیں،دعا  اور اسکی فیملی کو تحفظ فراہم کیا جائے۔

دوسری جانب دعا کے والد سید مہدی علی کاظمی نے وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف سے  بیٹی کو بازیاب کرانے کی اپیل کردی۔دعا زہرا کے والد نے بچی کی بازیابی کیلئے وزیراعلیٰ پنجاب سے اپیل کردی اپیل کرتے ہوئے کراچی کی رہائشی دعا زہرا کے والد نے اپنے ویڈیو بیان میں کہا ہے کہ وزیراعلیٰ حمزہ شہباز بچی کی بازیابی کیلئے کردار ادا کریں، پنجاب پولیس بچی کی بازیابی کیلئے سندھ پولیس سے تعاون نہیں کررہی۔

دعا کے والد نے مزید کہا کہ  گزشتہ دنوں میڈیا دعا زہرا کے جاری شدہ بیان دباؤ میں دلوائے گئے ۔میری بیٹی ابھی صرف 16 سال کی ہے او ر بالغ بھی نہیں ہوئی۔ بچی سے میرا کوئی رابطہ نہیں وہ کس حال سے میں ہے، بچی کا ٹی وی پر ہی ایک نکاح نامہ آیا تھا اور  وہ بھی جعلی ہے ۔عدالت کی جانب سے دعا کو اغوا کرنے والے اور ان کے معاونین کو گرفتار کرنے کا حکم جاری ہوچکا ہے ۔

متعلقہ تحاریر