حکومت اور کالعدم ٹی ٹی پی میں جنگ بندی پر غیر معینہ مدت تک توسیع
فریقین کے درمیان مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق، بات چیت کا اگلا دور جون کے دوسرے ہفتے میں متوقع، فاٹا انضمام کی واپسی اور کالعدم ٹی ٹی پی کا خاتمہ دو بڑے چیلنج بن گئے

حکومت پاکستان اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان ( ٹی ٹی پی) نے جنگ بندی کو غیر معینہ مدت تک توسیع دیدی۔ فریقین نے قبائلی سرحدی علاقے میں 2 دہائیوں سے جاری عسکریت پسندی کے خاتمے کے لیے مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔
روزنامہ ڈان نے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ رات ختم ہونے والی جنگ بندی میں توسیع افغان دارالحکومت کابل میں فریقین کے درمیان بات چیت میں اہم پیش رفت کی نشاندہی کرتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے
پاکستان اور کالعدم ٹی ٹی پی کے درمیان ایک ماہ کی جنگ بندی کا معاہدہ
حکومت پاکستان اور کالعدم ٹی ٹی پی میں جنگ بندی کا معاہدہ خطرے میں پڑگیا
ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ فریقین نے امارت اسلامی افغانستان کے قائم مقام وزیر اعظم ملا محمد حسن اخوند کے ساتھ ان کے دفتر میں الگ الگ ملاقاتوں کے بعد جنگ بندی میں توسیع اور امن مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ نرم گو طالبان رہنما نے فریقین کے ساتھ ملاقاتوں میں اس خواہش کا اظہار کیا کہ بات چیت اور جنگ بندی کو غیرمعینہ مدت کیلیے جاری رہنے دیا جائے جس کے بعد ہونے والے مشترکہ اجلاس میں فریقین نے جنگ بندی کو غیر معینہ مدت تک بڑھانے اورپاکستان کے قبائلی علاقوں میں ہزاروں افراد کی نقل مکانی اور اموات کا سبب بننے والے تنازع کو ختم کرنے کے لیے مذاکرات کو آگے بڑھانے پر اتفاق کیا ۔
امارت اسلامی افغانستان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد اور کالعدم ٹی ٹی پی کے ترجمان محمد خراسانی نے رواں ماہ کے اوائل میں جنگ بندی میں 30 مئی تک توسیع کا اعلان کیا تھا۔جنگ بندی میں غیر معینہ مدت تک توسیع کے حوالے سے تاحال کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا ہے تاہم روزنامہ ڈان اس اہم پیش رفت کی تصدیق حاصل کرنے میں کامیاب رہا ہے۔
یہ پیشرفت افغان دارالحکومت میں سنسنی خیز اور وسیع مذاکرات کے بعد ہوئی ہے جس میں فریقین کے اعلیٰ سطح کے وفود نے شرکت کی تھی جبکہ ایک موقع پر بات چیت کا یہ سلسلہ ٹوٹنے کے قریب پہنچ گیاتھا۔ ذرائع نے بتایا کہ مذاکرات کے مرکزی ثالث امارت اسلامی افغانستان کے قائم مقام وزیر داخلہ سراج الدین حقانی نے مذاکرات کو دوبارہ پٹری پر لانے میں اہم کردار ادا کیا۔
ذرائع نے بتایا کہ حکومت پاکستان نے کالعدم ٹی ٹی پی کے کچھ مطالبات مان کر اپنی سنجیدگی کا مظاہرہ کیا تھا جس کے بعد امارت اسلامی افغانستان نے تجویز کیا تھاکہ اعتماد سازی کے لیے ابتدائی سے رسمی اور منظم مذاکرات کی طرف جانا اہم ہوگا۔ٹی ٹی پی سوات کے ترجمان مسلم خان سمیت دو اہم عسکریت پسند کمانڈروں کی قیدیوں کی رہائی اور صدارتی معافی بھی ایسا ہی ایک مطالبہ تھا۔
ذرائع نے بتایا کہ جاں بحق اور زخمیوں کے لیے معاوضے کی ادائیگی، مالاکنڈ میں شرعی نظام کا نفاذ، سرحدوں سے فوج کا انخلا اور فاٹا کے خیبر پختونخوامیں انضمام کو واپس لینا کالعدم ٹی ٹی پی کے اہم مطالبات تھے۔ملاکنڈ ڈویژن میں شرعی نظام عدل ریگولیشن 2009 اب بھی کام کر رہا ہے۔ یہ قانون مولانا صوفی محمد مرحوم کے ساتھ طویل مذاکرات کے بعد نافذ کیا گیا تھا۔
ذرائع نے بتایا کہ حکومت پاکستان کو ٹی ٹی پی کے کچھ مطالبات سے کوئی مسئلہ نہیں تھا لیکن فاٹا کے انضمام کی واپسی اور کالعدم ٹی ٹی پی کو غیر مسلح کرنا دو بڑے چیلنج ہیں ۔حکومت پاکستان کے مندوبین نے واضح کیا کہ آئینی ترمیم کے ذریعے ہونے والے انضمام پربات نہیں کی گئی قبائلی عوام اس مذاکرات کے اہم اسٹیک ہولڈرز ہیں۔
کالعدم ٹی ٹی پی مذاکرات میں ایسی دستاویزات لے کر آئی تھی جس میں قائداعظم محمد علی جناح نے قبائلی عوام کو ایک آزاد پاکستان کا ساتھ دینے پر ان کی خودمختاری کی ضمانت کا وعدہ تھا۔انہیں بتایا گیا کہ انضمام کو تبدیل کرنے کا مطلب فرنٹیئر کرائمز ریگولیشن کی طرف واپسی ہو گا جو برطانوی سلطنت کا ایک حصہ تھا اور اس میں کوئی ایسی چیز نہیں تھی جسے اسلامی سمجھا جا سکتا ہو۔ ان سے کہا گیا کہ وہ انضمام کے بعد نافذ کیے گئے ایسے قوانین کی نشاندہی کریں جنہیں وہ اپنے رسم ورواج کے خلاف سمجھتے ہیں۔
فاٹا کے خیبرپختونخوا میں انضمام کا محرک بننے والی 25 ویں آئینی ترمیم کو مارچ 2022 میں قبائلی عمائدین نے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔یہ معاملہ لارجر بینچ کےسامنے زیرالتوا ہے ۔
ذرائع نے بتایا کہ ٹی ٹی پی کا خاتمہ ایک اور اہم مسئلہ ہے۔ حکومتی وفد نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی مسلح گروپ کو پاکستان کی حدود میں داخل ہونے یا اس طرح کام کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اختیارات پر تبادلہ خیال کیا جا رہا ہے اور امارت اسلامی افغانستان اس سلسلے میں مکمل طور پر آن بورڈ ہے۔
مذاکرات کا اگلا دور جون کے دوسرے ہفتے میں متوقع ہے، ذرائع نے بتایا کہ ایک قبائلی جرگہ کابل میں کالعدم ٹی ٹی پی کے ساتھ براہ راست مذاکرات کر رہا ہے۔









