ٹیکنالوجیز طاقت کے موجودہ توازن پر اثرانداز ہوں گی، جنرل (ر) زبیر حیات

پریذیڈنٹ سنٹر فار ایروسپیس اینڈ سکیورٹی اسٹڈیز کا کہنا ہے اس شعبے میں دنیا کے ساتھ ہم آہنگ ہونے کے لئے ہمیں نجی اور سرکاری شراکت داری کا راستہ اپنانا ہوگا۔

سنٹر فار ایئرو سپیس اینڈ سیکورٹی سٹڈیز کے سیمنار میں اعلیٰ ریٹائرڈ فوجی افسران اور سول ماہرین نے کہاہےکہ ملکی خود داری اور قومی سلامتی کے لئے ضروری ہے کہ پاکستان ابھرتی ہوئی اور خلل ڈالنے والی ٹیکنالوجیز پر عبور حاصل کرے اور انہیں  ملکی ترقی کیلیے بروئے کار لائے۔

اسلام آباد میں سیمینار ہوا جس کا عنوان تھا "خلل ڈالنے والی ٹیکنالوجیز اور جنگ کا مستقبل”۔ سمینار میں شرکاء میں سابق چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل زبیر محمود حیات (ریٹائرڈ)، ڈاکٹر رضوانہ عباسی ایسوسی ایٹ پروفیسر نمل، ڈاکٹر عادل سلطان ایکٹنگ ڈین فیکلٹی آف ایئرو سپیس اینڈ سکیورٹی اسٹڈیز ایئر یونیورسٹی، اور ایئر مارشل فائز امیر (ریٹائرڈ) سابقہ وائس چانسلر ایئر یونیورسٹی شامل تھے۔

یہ بھی پڑھیے

مشکل فیصلے کرنے کے سوا کوئی دوسرا آپشن نہیں تھا، مفتاح اسماعیل

اہلخانہ نے سابق صدر پرویز مشرف کی موت کی جھوٹی خبروں کو مسترد کر دیا

سیمینار کی سربراہی پریذیڈنٹ سینٹر فار اسپیس اینڈ سیکورٹی سٹڈیز ایئر مارشل فرحت حسین خان (ریٹائرڈ) نے کی جبکہ ایئر مارشل اشفاق آرائیں (ریٹائرڈ) نے بطور نگران فرائض سر انجام دیے۔

ایئر مارشل اشفاق آرائیں (ریٹائرڈ) نے ابھرتی ہوئی اور خلل ڈالنے والی ٹیکنالوجیز کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور اس رائے کا اظہار کیا کہ دنیا کی بیشتر طاقتیں ان ٹیکنالوجیز کو حاصل کرنے کی دوڑ میں سبقت حاصل کرنا چاہتی ہیں۔ ایسے میں یہ ضروری ہے کہ پاکستان بھی ان ٹیکنالوجیز سے ہر ممکن فائدہ اٹھائے، اور دشمن کے خلاف تیاری مکمل رکھے۔

اپنے کلیدی نوٹ میں جنرل زبیر محمود حیات (ریٹائرڈ) نے اس خیال کا اظہار کیا کہ یہ ٹیکنالوجیز طاقت کے موجودہ توازن پر اثرانداز ہوں گی اور بین الاقوامی سیاست اس پر دور رس اثرات مرتب کر سکتی ہیں۔ انہوں نے اس امر پر بھی زور ڈالا کہ پاکستان کو ان ٹیکنالوجیز پر ہونے والی بحث اور عمل میں شرکت کرنا ہوگی، تاکہ ملکی مفادات کا دفاع کیا جا سکے۔

ڈاکٹر رضوانہ عباسی نے اس بات پر روشنی ڈالی کے مذموم مقاصد رکھنے والے ممالک ان ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے دوسرے ممالک کے دفاعی نظام کو ناکارہ بنانے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ جس کے نتائج خطرناک ثابت ہوں گے۔ اس تناظر میں انہوں نے بین الممالک اعتماد سازی کی تجاویز پیش کیں۔

ایئر مارشل فائز امیر (ریٹائرڈ) نے اس امر کی طرف توجہ دلائی کہ آج کے دور میں سیٹلائٹس اور سائبر صلاحیت کے بغیر  عسکری کامیابی کی امید خام خیالی ہے۔ انہوں نے اس تشویش کا بھی اظہار کیا کہ پاکستان کو سائبر جنگ کا خطرہ پیش آسکتا ہے اور بھارت کو امریکہ اسرائیل اور روس سے ملنے والا تعاون اسکے مذموم مقاصد میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

ڈاکٹر عادل سلطان نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ ٹیکنالوجی بہت تیزی سے ترقی کر رہی ہے جس کی وجہ سے پاکستان جیسے ترقی پذیر اور منحصر ممالک کے لئے ہم قدم رہنا مشکل نظر آتا ہے۔ انہوں نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ ہمارے ملک میں تحقیق و تجدید کا بنیادی ڈھانچہ نہایت کمزور ہے، اور متعلقین میں تعاون کا فقدان پایا جاتا ہے۔

پریذیڈنٹ سنٹر فار ایروسپیس اینڈ سکیورٹی اسٹڈیز ائیرمارشل فرحت حسین خان (ریٹائرڈ) نے تجویز کیا کہ اس شعبے میں دنیا کے ساتھ ہم آہنگ ہونے کے لئے یہ ضروری ہے کہ ہم نجی اور سرکاری شراکت داری کا راستہ اپنائیں۔

متعلقہ تحاریر