گرے لسٹ سے نکلنے کا عمل اکتوبر میں مکمل ہوگا جشن منانے کی ضرورت نہیں، حنا ربانی کھر

وزیر مملکت برائے خارجہ کا کہنا ہے ، ایف اے ٹی ایف کی ٹیم اکتوبر میں پاکستان کا دورہ کرے گی، پاکستان حق دار ہے کہ دوست ممالک ہماری مدد کریں۔

وزیر مملکت برائے خارجہ حنا ربانی کھر نے کہا ہےکہ پاکستان کا ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکلنے کا عمل شروع ہوا ہے ، اکتوبر تک یہ عمل مکمل ہو گا ابھی جشن منانا قبل از وقت ہوگا۔ یہ سفر کا اختتام نہیں بلکہ آغاز ہے۔ ان کا کہنا ہے پاکستان حق دار ہے کہ دوست ممالک ہماری مدد کریں۔

وزیر مملکت برائے خارجہ حنا ربانی کھر کا اسلام آباد میں نیوز کانفرنس سے خطاب میں کہنا تھا کہ ہمیں فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے حوالے سے کوششیں جاری رکھنا ہوں گی اور ابھی تو گرے لسٹ سے نکلنے کا عمل شروع ہوا ہے ،جشن منانا قبل از وقت ہوگا، جب کسی ملک کو گرے لسٹ سے نکالا جاتا ہے تو تکنیکی ٹیم اس ملک کا دورہ کرتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

نجی چینلز کے بعد سرکاری نیوز ایجنسی  کے صحافی اور ورکرز بھی تنخواہوں کیلئے پریشان

گرے لسٹ سے نکلنے کا کریڈٹ پی ٹی آئی اور فوج کو جاتا ہے، مائیکل کوگلمین

ان کا کہنا تھاکہ پاکستان دیگر ممالک کے لیے ماڈل بنے گا، ہم آن سائٹ دورے کے لیے تیار رہیں گے، ایف اے ٹی ایف نے تسلیم کیا ہے کہ پاکستان نے دہشت گردوں کی مالی معاونت کا سلسلہ روکا ہے۔ دہشتگردوں کی مالی امداد کو روکنا پاکستان کی اولین ترجیح ہے۔

وزیر مملکت برائے خارجہ نے کہا کہ پاکستان کو دوبارہ ایسے حالات کی طرف نہیں جانے دیں گے، ایف اے ٹی ایف کی ٹیم اکتوبر میں پاکستان کا دورہ کرے گی، پاکستان حق دار ہے کہ دوست ممالک ہماری مدد کریں۔

حنا ربانی کھر کا کہنا تھاکہ پاکستان نے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے تمام ایکشن پلان پر عمل درآمد کیا، پاکستان گرے لسٹ سے باہر نکلنے کیلئے ایک قدم دور ہے۔

حنا ربانی کھر کا کہنا تھا کہ ایف اے ٹی ایف کی ٹیم کے دورہ پاکستان کے شیڈول پر کام کررہے ہیں،  دورے کی تاریخ مشترکہ گفتگو کے بعد طے کی جائیں گی۔

انہوں نے کہا کہ یہ ہماری کوششوں کا نتیجہ ہے، پہلا ایکشن پلان بہت طویل تھا لیکن یہ ایکشن پلان ہم نے مقررہ وقت سے قبل پورا کرلیا اور اس کو ایف اے ٹی ایف کے تمام اراکین نے تسلیم کیا اور پاکستان کی تیز رفتار پیش رفت کو خوش آئند قرار دیا۔

ان کا کہنا تھاکہ ایف اے ٹی ایف نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا کہ پاکستان نے شرائط پر عمل درآمد کیا اور تمام تر تکنیکی بینج مارک سے بخوبی نمٹا۔ 2018 اور 2021 میں دیے گئے تمام ایکشن پلانز پر  پاکستان نےکامیابی سے عمل درآمد کیا۔

حنا ربانی کھر نے کہا کے ایف اے ٹی ایف کی ٹیم پاکستان کا دورہ کرے گی ،یہ اقدام مجوزہ طریقہ کار کے مطابق پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالنے کے منصوبہ کا حصہ ہے ۔انہوں نے کہانکہ جب کسی بھی ملک کو گرے لسٹ سے نکالنا مقصود ہوتا ہے تو  ٹیکینکل طریقہ کار اختیار کرتے ہیں۔

حنا ربانی کھر نے بتایا کہ پاکستان نے گزشتہ سال ایکشن پلانز میں کامیابی سے متعلق تین پیش رفت رپورٹس ایف اے ٹی ایف کو پیش کیں، جس میں منی لانڈرنگ کے حوالے سے حاصل ہونے والی کامیابی کا حوالہ دیا گیا۔پاکستان نے ایکشن پلانز کےتمام 7 پوائنٹس پر مقررہ وقت میں کامیابی سے عمل درآمد کیا۔

ایف اے ٹی ایف، پاکستان کا نام تین بار گرے لسٹ میں شامل کیا گیا

پاکستان کا نام پہلی بار فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی جانب سے 2008 میں گرے لسٹ‘ میں شامل کیا گیا تھا۔

پھر 2012 اور 2018 میں بھی پاکستان کو مزید 2 بار اس فہرست میں شامل کیا گیا،

کیونکہ پاکستان مبینہ طور پر بین الاقوامی اینٹی منی لانڈرنگ (اے ایم ایل) اور دہشت گردی کی مالی معاونت کا مقابلہ کرنے (سی ایف ٹی) کے معیارات کو پورا کرنے میں ناکام رہا تھا۔

جون 2010 میں پاکستان کا نام ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سےنکال دیا گیا۔

فروری 2012 کو منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کے خطرات سے مؤثر طریقے سے نمٹنے کے لیے طے شدہ معیارات کی مکمل تعمیل نہ کرنے پر پاکستان کو دوبارہ ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں ڈال دیا گیا۔

فروری 2015 کو پاکستان کو گرے لسٹ سے نکال دیا گیا تھا۔

جون 2018 کو پاکستان کو تیسری بار گرے لسٹ میں ڈال دیا گیا۔

ایف اے ٹی ایف کے صدر مارکس پلیئر تسلیم کرچکے ہیں کہ پاکستان نے 34 نکات پر مشتمل 2 علیحدہ ایکشن پلانز کی تمام شرائط پوری کرلی ہیں۔

متعلقہ تحاریر