دعا زہرا کا معاملہ سپریم کورٹ پہنچ گیا، بازیابی کیلئے درخواست دائر

درخواست میں دعا زہرا کی بازیابی  اور  میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی استدعا کی گئی ہے

کراچی سے لاہور جاکر شادی کرنے والی لڑکی دعا زہرا کی با حفاظت  بازیابی کیلئے   سپریم کو رٹ  کراچی رجسٹری میں درخواست دائر کردی گئی ہے ۔

معروف سماجی کارکن  اور قانون دان جبران ناصر نے  کراچی سے لاہور جاکر شادی کرنے والی لڑکی دعا زہرا کی بازیابی کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کردی ہے ۔

یہ بھی پرھیے

شہلا رضا نے دعا زہرا کیس کا فیصلہ دینے والے ججز کو  ناتجربہ کار کہہ دیا

مائیکروبلاگنگ سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں جبران ناصر نے بتایا کہ    دعا زہرا کے والد  مہدی کاظمی کی ہدایت پر  سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں  درخواست دائر کی ہے ۔

 

جبران ناصر نے بتایا کہ  ہم نے دائر درخواست میں  بچی دعا زہرا کی با حفاظت بازیابی  اور عمر کے تعین کے لیے  میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی استدعا بھی کی ہے ۔

خیال رہے کہ دعا زہرا نامی لڑکی اپریل میں کراچی سے لاپتہ ہوئیں تھی جس پر اس  کے والدین نے اغوا کا کیس درج کروایا تھا  جس پر پولیس نے کارروائی کرکے لڑکی کو پنجاب کے شہر بہاولنگر سے بازیاب کروا کر  عدالت میں پیش کیا تھا ۔

عدالت میں پیشی کے موقع پر دعا  نے تسلیم کیا  کہ وہ ایک بالغ لڑکی ہے اور اس نے اپنی مرضی سے ظہیر نامی لڑکے سے شادی کی ہے تاہم دعا کے والدین نے دعویٰ کیا کہ بچی کی کم عمر ہے جس پر عدالت نے میڈیکل کروانے کا حکم دیا تھا ۔

عدالتی حکم پر کیے جانے والے میڈیکل میں دعا زہرا کی عمر  16 سے 17 سال کے درمیان ہے جبکہ اس نے شادی پنجاب میں کی جہاں شادی کی کم از کم عمر 16 سال ہے جس پر عدالت نے دعا زہرا کو ظہیر کے ساتھ جانے کی اجازت دی تھی ۔

متعلقہ تحاریر