حکومت کا یوٹیلیٹی اسٹورز پر پانچ بنیادی اشیائے ضروریہ سستے داموں فراہم کرنے کا فیصلہ
وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے آٹا ، چینی ، گھی ، دالیں اور چاول عوام الناس کو بازار سے کم نرخوں پر فراہمی یقینی بنایا جائے۔
حکومت غریب اور پسماندہ طبقے کو آٹا ،چینی،گھی،دالیں اور چاول یوٹیلٹی اسٹورز کے ذریعے سستے داموں فراہم کرے گی، وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس میں بلوچستان اور خیبرپختونخوا سمیت ملک بھر میں یوٹیلیٹی اسٹورز کی تعداد بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ شہباز شریف نے ہدایت کی کہ کراچی میں یوٹیلیٹی اسٹورز کی تعداد بڑھانے کے لئے دو ہفتے میں جامع منصوبہ پیش کیاجائے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس میں یوٹیلیٹی اسٹورز کے حوالے سے خصوصی اجلاس ہوا جس میں بتایا گیا کہ وزیر اعظم ریلیف پیکیج کے تحت 11 کروڑ 30 لاکھ مستحق افراد مستفید ہوچکے ہیں جن کو فی کلو آٹے پر 60 روپے ، چینی پر 21 روپے ، گھی پر 250 روپے جبکہ دالوں اور چاول پر 15-20روپے ٹارگٹڈ سبسڈی دی گئی ہے ، سمبسڈی کا طریقہ کار ڈیجیٹل ہے جبکہ نادرا اور وزارت تخفیف غربت کے ڈیٹا سے منسلک ہے۔
یہ بھی پڑھیے
کراچی میں لاک ڈاؤن کا امکان، شہر میں کورونا کیسز 10 فیصد سے زائد ہوگئے
فیٹف کی گرے لسٹ سے نکلنا پاکستان کے لیے تہہ در تہہ سود مند ہے، ماہرین
اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ صوبہ خیبر پختونخوا میں 942 یوٹیلٹی سٹور ز پر سستے آٹے کی فراہمی یقینی بنائی جارہی ہے جبکہ وزیراعظم شہباز شریف کی خصوصی ہدایت پر 1000 نئے سیل پوائنٹس اور 200 موبائل سٹور ز کا اضافہ کیا جارہا ہے ۔
اجلاس کو بلوچستان کے حوالے سے بتایا گیا کہ وزیراعظم شہباز شریف کے رمضان میں دورے اور خصوصی ہدایات کے تحت بلوچستان میں اشیاء ضروریہ کی بازار سے بار عایت فراہمی کو یقینی بنایا جارہا ہے جس کے لئے نہ صرف یوٹیلٹی اسٹورز بلکہ موبائل سٹور ز بھی قائم کئے گئے ہیں جن کی بدولت دور دراز علاقوں تک سبسڈی کی فراہمی یقینی بنائی جا رہی ہے۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ آٹے ، چینی ، گھی، دالیں ، اور چاول کی بازار سے کم نرخوں پر فراہمی یقینی بنائی جائے گی ۔ وزیر اعظم نے کراچی میں یوٹیلٹی سٹورز کے نیٹ ورک میں توسیع کی بھی منظوری دی۔
انہوں نے کہا کہ کراچی میں یوٹیلٹی سٹورز کی کم تعداد کسی صورت منظور نہیں ۔ انہوں نے ہدایت کی کہ کراچی میں یوٹیلٹی سٹورز کی تعداد میں اضافہ کا جامع منصوبہ دو ہفتے میں پیش کیا جاۓ ۔
وزیر اعظم نے کہا کہ پسماندہ طبقے کو اس وقت ریلیف کی سب سے زیادہ ضرورت ہے ، پسماندہ طبقے کے ریلیف کیلئے حکومت ہر قیمت خرچ کرنے کو تیار ہے ، پسماندہ طبقے کو اشیاء ضر ور میہ پر ریلیف حکومت کی اولین ترجیح ہے ۔
وزیر اعظم نے سبسڈی کا نظام شفاف اور ڈیجیٹل بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ مختلف قسم کی سبسڈیاں اکٹھی کر کے ایک جامع نظام بنایا جائے اور خصوصی طور پر پسماندہ طبقے کو ریلیف کی فراہمی میں ترجیح دی جائے۔
وزیراعظم نے سبسڈی کے نظام میں اصلاحات کیلئے وفاقی وزیر خزانہ ، وفاقی وزیر صنعت و پیداوار اور وفاقی وزیر تخفیف غربت کو تعاون سے حکمت عملی تشکیل دینے کی ہدایت کی۔
اجلاس کو یوٹیلٹی سٹورز پر دی جانے والی سبسڈی ، پسماندہ طبقے کو ٹار گنڈ سمبسڈی ، یوٹیلٹی سٹورز کی ملک بھر میں تعداد میں توسیع اور خیبر پختونخوا میں وزیر اعظم کے وژن کے تحت ستے آٹے کی فراہمی کے پرو گرام پر پیشرفت سے تفصیلی طور پر آگاہ کیا گیا ۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن ملک میں اس وقت 3822 سٹورز کو براہ راست اور 1380 فرنچائز چلارہا ہے جبکہ 30 جولائی تک بلوچستان ، سند ھ ، کشمیر ، گلگت بلتستان اور پنجاب میں 300 سے زیادہ نئے اسٹور ز بنائے جائیں۔









