وزیراعظم کا 10 سال سے زیر التوا ماڈل جیل منصوبے کی تکمیل کا حکم

شہباز شریف نے جیل کی جلد تکمیل کے لیے وزیرداخلہ رانا ثناء اللہ کی قیادت میں 6 رکنی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف کو اچانک جیل کا خیال آگیا، 10 سال سے زیر تعمیر جدید اسلام آباد جیل کمپلیکس کی جدید ترین طرز پر تعمیر مکمل کرنے کے احکامات جاری کردیے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے 10 سال سے تاخیر کا شکار اسلام آباد جیل کی تعمیر میں تاخیر کا نوٹس لے لیا۔ وزیراعظم شہباز شریف کا اسلام آباد میں 10 سال سے زیر تعمیر جیل اگلے مالی سال میں مکمل کرنے کا حکم دے دیا یے۔

یہ بھی پڑھیے

گلوکار شہزاد رائے کراچی کی ناقابل رہائش شہروں میں شمولیت پر افسردہ

نیب قانون میں تبدیلی: کاروباری اور سرمایہ کار طبقے کا تحفظ کیسے ممکن؟

وزیراعظم نے جیل منصوبے کے جائزے کے لئے 6 رکنی کمیٹی بنا دی ہے۔ وزیر داخلہ رانا ثناءاللہ  کمیٹی کے سربراہ مقرر، سیکرٹری ٹو وزیراعظم ڈاکٹر توقیر شاہ کے دستخطوں سے حکم نامہ جاری کیا گیا ہے۔

کمیٹی کے ارکان میں داخلہ، ہاؤسنگ، منصوبہ بندی کی وزارتوں کے سیکریٹری، چیف کمشنر اسلام آباد اور چئیرمن سی ڈی اے شامل ہیں ۔

وزیر اعظم نے کمیٹی سے ایک ہفتے میں رپورٹ طلب کر لی۔ وزیراعظم نے اسلام آباد ماڈل جیل کمپلیکس کا سالوں سے زیر التوا منصوبہ ہنگامی بنیادوں پر مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔

جدید ترین عالمی معیار اور سہولیات کی حامل اسلام آباد جیل کی تعمیر فنڈز نہ ہونے کی وجہ سے مکمل نہیں ہو سکی۔

وزیراعظم نے اگلے مالی سال میں مکمل کرنے کا حکم دے دیا ہے اور اس سلسے میں  نوٹیفیکیشن جاری کیا گیا ہے۔

اسلام آباد جیل کمپلیکس کو دنیا کی جدید جیلوں کی طرز پر تعمیر کیا جارہا ہے۔ عمارت کی تعمیر نہ ہونے سے اسلام آباد کے قیدیوں کو گزشتہ 6 دہائیوں سے اڈیالہ جیل میں رکھا جارہا ہے۔

موٹر وے کے قریب سیکٹر ایچ 16 میں 90 ایکڑ پر محیط یہ جدید جیل تعمیر ہو رہی ہے۔ دو منزلہ بیرکوں والی اس جیل میں 2 ہزار قیدیوں کو رکھنے کی گنجائش موجود ہے۔

اسکول، مساجد، ٹریننگ سینٹر، کھیل کے میدان، آئی سی ٹی کی عدالتیں بھی اس جیل کمپلیکس کا حصہ ہیں۔ جیل حکام کی تربیت کا مرکز بھی منصوبے کا حصہ ہے۔

متعلقہ تحاریر