جاوید اقبال کا اصل سہولت کار کون تھا؟مدت ملازمت میں توسیع کس نے دلوائی؟

سابق وزیراعظم عمران خان جسٹس (ر) جاوید اقبال کو ان کے عہدے سے ہٹانا چاہتے تھے لیکن جاوید اقبال  نے اپنے”پرانےدوستوں “ کو اپنی خدمات یاد دلاکر نیب پر دوبارہ کنٹرول حاصل کیااور طیبہ گل نامی خاتون کا میڈیا بلیک آؤٹ بھی کروادیا، سینئر صحافی اعزاز سید

جیو نیوز کے سینئر رپورٹر اعزاز سید کےبیان سے سابق چیئرمین نیب جسٹس(ر) جاوید اقبال کے خلاف ہراسانی کا الزام عائد کرنے والی خاتون طیبہ گل کے سابق وزیراعظم عمران خان سے متعلق  دعوے کی نفی ہوگئی۔

طیبہ گل نامی خاتون نے الزام عائد کیا تھا کہ جب نیب نےجیو نیو ز کے مالک میر شکیل الرحمان کو گرفتار کیا تو عمران خان نے اس ڈر سے کہ میں کہیں جیو کو چیئرمین نیب کے خلاف کوئی ثبوت نہ دے دوں، مجھے 45 دن تک وزیراعظم ہاؤس میں یرغمال بنا کر رکھا، مجھ سے موبائل وغیرہ لے لئے گئے۔

یہ بھی پڑھیے

طیبہ گل ہراسگی معاملہ: پی اے سی کا عدم پیشی پر جاوید اقبال کے وارنٹ جاری کا عندیہ

متنازع چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال  نے استعفیٰ دے دیا

گزشتہ روز جیونیوز کے پروگرام آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ میں گفتگو کرتے ہوئے طیبہ گل نے الزام عائد کیا کہ سابق وزیر اعظم نے میری ویڈیوز حاصل کر کے نیب میں اپنے کیس بند کر ا لیے اور مجھے انصاف فراہم کرنے کا وعدہ کر کے ڈیڑھ ماہ وزیراعظم ہاؤس میں رکھا۔

دوسری جانب سینئر صحافی اعزازسید نے گزشتہ روز ڈان نیوز کے پروگرام ذرا ہٹ کے میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ چیئرمین نیب جاوید اقبال جب  پوری قوت کے ساتھ  چیئرمین نیب تھے تو انہیں بہت سے دوسرے لوگ بھی تحفظ دے رہے تھے جن کا نام نہیں لیا جائے تو بہتر ہے۔

اعزاز سید نے مزیدکہا کہ طیبہ گل صاحبہ کا کہنا ہے کہ ان کیخلاف 40 پرچے کاٹےگئے تو وہ چیئرمین نیب کے کہنے پر تو نہیں کاٹے گئے ہوں گے وہ انہیں (چیئرمین نیب کو)تحفظ دینے والوں کے حکم پر کاٹے گئے ہوں گے۔ان کا کہنا تھا کہ  جاوید اقبال ہمیں ایک بندہ نظر آتا ہے لیکن یہ ایک بندے کا نام نہیں یہ پورے ایک  مائنڈ سیٹ اور ایک نیٹ ورک  کانام ہے۔

اعزازسید کا کہنا تھا کہ سابق وزیراعظم عمران خان جسٹس (ر) جاوید اقبال کو ان کے عہدے سے ہٹانا چاہتے تھے لیکن جاوید اقبال  نے اپنے”پرانےدوستوں “ کو اپنی خدمات یاد دلاکر نیب پر دوبارہ کنٹرول حاصل کیااور طیبہ گل نامی خاتون کا میڈیا بلیک آؤٹ بھی کروادیا۔

البتہ اعزاز سید نے طیبہ گل کے اس الزام کو دہرایا کہ سابق وزیراعظم عمران خان نے خاتون کو  وزیراعظم ہاؤس میں رکھ کرنہ صرف چیئرمین نیب سے اپنے کام کروائے بلکہ ان  پر مس کنڈکٹ کا ریفرنس بناکر انہیں برطرف کرنے کے بجائے ان کی مدت ملازمت میں توسیع بھی کردی۔اعزا زسید نےمزید کہا کہ البتہ یہ الگ سوال ہے کہ طیبہ گل کو وزیراعظم ہاؤس کون لیکرآیا۔

تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اصل سوال یہی بنتا ہے کہ طیبہ گل کو وزیراعظم ہاؤس کون لیکر آیا کیونکہ طیبہ گل اگر ڈیڑھ ماہ تک وزیراعظم ہاؤس میں رہی ہیں تو وزیراعظم ہاؤس کی لاگ بک میں لازماً ان کی آمد و رفت کا اندراج ہوا ہوگا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ وزیراعظم ہاؤس میں آنے والے مہمانوں لاگ بک میں لازمی اندراج ہوتا ہے  اور یہ لاگ بک وزیراعظم کے ملٹری سیکریٹری کے  کنٹرول میں ہوتی ہے جو کہ بریگیڈیئر رینک کا افسر ہوتا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اصل سوال یہ ہے کہ سابق چیئرمین نیب جسٹس(ر) جاوید اقبال اصل سہولت کار کون تھا؟ کس نے ان کی مدت ملازمت میں توسیع کروائی؟

متعلقہ تحاریر