48 گھنٹے گزرنے کے باوجود سندھ اور پنجاب پولیس ظہیر احمد کی گرفتاری میں ناکام
وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے اسٹریجک ریفارمز سلمان صوفی کا کہنا ہے سندھ پولیس کی درخواست پر پنجاب پولیس کو ظہیر احمد کی گرفتاری کا حکم دے دیا ہے۔
دعا زہرہ کی کم عمری میں شادی کا معاملہ ، وزیراعظم شہباز شریف کے معاون خصوصی سلمان صوفی نے پنجاب پولیس کو دعا زہرہ کے شوہر ظہیر احمد کی گرفتاری کا حکم دے دیا ہے ، تاہم 48 گھنٹے گزرنے کے باوجود دونوں صوبوں کی پولیس ظہیر احمد کو گرفتار کرنے میں ناکام ہے، تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے کسی کو گرفتار کرنا ہے تو اس گینگ کو گرفتار کرے جس نے دعا زہرہ کو اتنا بڑا قدم اٹھانے پر مجبور کیا۔
سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام جاری کرتے ہوئے وزیراعظم کے معاون خصوصی سلمان صوفی نے لکھا ہے کہ "دعا زہرہ کیس کے مرکزی ملزم ظہیر احمد کی گرفتاری کے لیے سندھ پولیس نے درخواست دی ہے۔”
یہ بھی پڑھیے
دعا زہرہ کیس میں ظہیر احمد پر اغواء اور حبس بےجا کا مقدمہ بنتا ہے، وکیل جبران ناصر
دعا زہرہ کیس میں بدنام زمانہ گوگا گینگ کے ملوث ہونے کا انکشاف
سلمان صوفی نےمزید لکھا ہے کہ "سندھ پولیس کی درخواست پر پنجاب پولیس کو حکم دےدیا ہے کہ ملزم کو ٹریس کریں اور گرفتار کریں اور چائلڈ پروٹیکشن بیورو بچی کو حفاظتی مرکز کی تحویل میں دے۔”
ان کا کہنا ہے کہ "بچوں اور بچیوں کے زیادتی پر کوئی نرمی نہیں برتی جائے گی۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم کے معاون خصوصی نے دعا زہرہ کیس میں خصوصی دلچسپی لیتے ہوئے گذشتہ ماہ کہا تھا کہ "دعا زہرہ کیس کی مکمل جانچ کی جائے گی اور تمام دستیاب وسائل کو استعمال کیا جائے گا۔”
انہوں نے کہا تھا کہ "بچوں اور والدین کا تحفظ بہت ضروری ہے۔’
سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام جاری کرتے ہوئے لکھا تھا کہ "دعا زہرہ کیس نے کم عمری کی شادی اور بچوں کے ذہنی استحصال کے ایک اہم عنصر کو بے نقاب کیا ہے۔”
واضح رہے کہ دو روز قبل دعا زہرہ اغوا کیس کے تفتیشی افسر شوکت شہانی نے ایڈیشنل سیشن جج کے پاس رپورٹ جمع کرائی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ کراچی سے جب دعا زہرہ کو مبینہ طور پر اغوا کیا گیا اس وقت ظہیر احمد اسی شہر میں موجود تھا۔
یاد رہے کہ دعا زہرہ نے سب سے پہلے جو بیان ریکارڈ کرایا تھا اس میں کہا تھا کہ وہ اپنی مرضی سےکراچی سےلاہور گئی تھی ، اس کو کسی نے اغواء نہیں کیا تھا ، جبکہ ظہیر احمد نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ میرے علم میں لائے بغیر دعا زہرہ لاہور پہنچی تھی اور اس نے لاہور پہنچ کر مجھے فون کیا تھا۔
تفتیشی افسر شوکت شہانی کی جانب سے جمع کرائی گئی رپورٹ میں جس سم نمبر کا انکشاف کیا گیا تھا وہ ظہیر احمد کے نام رجسٹرڈ تھی ، اور جس دن دعا زہرہ کراچی سے غائب ہوئی اس دن اس نمبر کی لوکیشن کراچی میں پائی گئی تھی۔

واضح رہے کہ نیوز 360 نے 13 جولائی کو اپنے ذرائع سے ایک اہم خبر دی تھی کہ دعا زہرہ کے اغواء میں گوگا گینگ ملوث ہے جو کم عمر بچوں اور بچیوں کو ورغلا کر اغواء کرتا ہے اور ان بچوں اور بچیوں کو بیرون ملک اسمگل کردیتا ہے ، دعا زیرہ کیس میں گوگا گینگ نے ظہیر احمد کو مہرےکے طور پر استعمال کیا ہے۔
نیوز 360 کو اس سے قبل یہ اطلاع ملی تھی کہ ظہیر احمد کے گوگا گینگ سے تعلقات ہیں اور انہوں نے مبینہ طور پر دعا زہرہ کو پنجاب میں نکاح کے لیے راضی کیا تھا۔ 17 اپریل کو دعا زہرہ لاہور پہنچی اور اسے فوری طور پر پنجاب کے ضلع اوکاڑہ کی تحصیل دیپالپور پہنچایا گیا اور ایک بااثر شخص کی رہائش گاہ پر رکھا گیا۔
پنجاب پولیس نے عدالتی حکم کو دعا زہرہ کو دیپالپور سے بازیاب کرایا تھا۔ نیوز 360 کے ذرائع کے مطابق ظہیر احمد اور دعا زہرہ کو 17 سے 26 اپریل تک اوکاڑہ کی رہائش گاہ پر رکھا گیا ، ذرائع نے بتایا ہے کہ ڈی پی او اوکاڑہ نے بھی اس ساری کہانی میں ملوث تھے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے اگر پولیس نے کسی کو گرفتار کرنا ہے تو گوگا گینگ کے سرکردہ لوگوں کو گرفتار کرے ، جو بچوں اور بچیوں کو بلیک میل کرتے ہیں اور ورغلا کر گھروں سے فرار ہونے پر مجبور کرتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے اگر پولیس نے صرف ظہیر احمد کو گرفتار کیا تو کل کو کوئی اور ظہیر احمد پیدا ہو جائے اور کوئی اور دعا زہرہ گھر سے فرار ہو جائے گی اور یہ سلسلہ چلتا رہے گا۔ وہ کہتے ہیں کہ چور نہیں چور کی ماں کو پکڑو ، اسی طرح سے ظہیر احمد کو نہیں گوگا گینگ کو پکڑو۔









