توہین عدالت کیس: اسلام آباد ہائی کورٹ کا عمران خان پر فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کیا یہ فیصلے جلسوں میں ہوں گے یا عدالتیں کریں گی؟ عدالت کے گزشتہ آرڈر کے بعد بھی یہ ریپلائی فائل کیا گیا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے فل کورٹ بینچ نے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کے خلاف فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ دیا ہے۔ سابق وزیراعظم پر 15 روز بعد باقاعدہ فرد جرم عائد کی جائے گی۔ عدالت عالیہ نے کچھ دیر قبل فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ میں خاتون جج کو دھمکی دینے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی ، عدالت نے وکلاء کے دلائل سننے کے بعد عمران خان پر فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ دیا۔

یہ بھی پڑھیے

توہین عدالت کیس: اسلام آباد ہائی کورٹ کا عمران خان پر فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ

پیپلزپارٹی کے رہنماؤں کی ایما پر پولیس غیرقانونی طورپر صحافیوں کو گرفتارکرنے لگی

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے فیصلہ پڑھ کرسنایا۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا توہین عدالت کیس میں عمران خان کا جواب تسلی بخش نہیں تھا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ عمران خان پر 22 ستمبر کو فرد جرم عائد کی جائے گی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بینچ سماعت کی ۔ جسٹس میاں گل حسن ، جسٹس محسن اختر کیانی ، جسٹس بابر ستار اور جسٹس طارق محمود جہانگیری بینچ کا حصہ تھے۔

عمران خان کے وکیل حامد خان کے دلائل

عمران خان کے وکیل حامد خان نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ عدالت کو گزشتہ روز ضمنی جواب جمع کرایا گیا، ہم یہ معاملہ کلوز کرنا چاہتے ہیں۔

وکیل حامد خان کا کہنا تھا ہم نے نہائت احترام کے ساتھ گزارشات پیش کر دی ہیں، سپریم کورٹ میں توہین عدالت کیسز کے بعض حوالہ جات بھی پیش کیے ہیں، عدالت نے ایک اور موقع دیا جس پر تفصیلی جواب داخل کرا دیا ہے۔

اس پر چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ ہم نے آپ کو یہ چیز سمجھائی تھی کہ یہ معاملہ کریمنل توہین عدالت کا ہے۔ جلسے میں زیر التوا مقدمے پر بات کی گئی۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا ہم نے آپ لکھا ہوا جواب پڑھ لیا ہے۔ آپ نے شہباز گل پر ٹارچر والی بات کے ساتھ مبینہ نہیں لکھا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کیا یہ فیصلے جلسوں میں ہوں گے یا عدالتیں کریں گی؟ عدالت کے گزشتہ آرڈر کے بعد بھی یہ ریپلائی فائل کیا گیا۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ کا استفسار تھا آپ اس کو contest کرنا چاہتے ہیں؟ ضلعی عدلیہ کے ججز بہت suffer کرتے ہیں، اگر یہی الفاظ ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ کے جج کے بارے میں ادا کرتے تو یہی جواب ہوتا آپ کا؟

اس پر وکیل حامد خان کا کہنا تھا کہ ہم نے لکھا کہ جج کے احساسات کو ٹھیس پہنچی تو اس پر شرمندگی ہے۔

چیف جسٹس نے کہا آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ ججز کے کوئی احساسات نہیں ہوتے۔ جج کے بارے میں اشتعال انگیزی پھیلائی گئی، وہ جج کہیں جا رہی ہوں تو ان کے ساتھ کوئی واقعہ پیش آ سکتا ہے۔

جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ اس کورٹ نے آپ کو طریقے سے gravity سمجھا دی ہے۔

اس دوران عدالتی سوالات پر عمران خان نے اپنے وکلاء سے مشورہ بھی کیا۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے ریمارکس دیئے آپ کا کریمنل توہین عدالت کا کیس بنتا ہے، اگر ہم کہی گئی باتوں پر توہین عدالت لگانا شروع کریں تو روز یہی کام کریں، اس عدالت کو جو کچھ بھی کہا جائے، ہم کبھی نوٹس نہیں لیتے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کو پتہ ہے کہ توہین عدالت کی ایک درخواست جسٹس بابر ستار نے خارج کی، وہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ ادھر باہر لے آئیں گے۔

اٹارنی جنرل اشتر اوصاف کے دلائل

اٹارنی جنرل اشتر اوصاف نے کہا کہ میں تین باتیں کروں گا، توہین کرنے والے کی نیت اور مقصد بہت اہم ہوتا ہے، 2014ء میں بھی عمران خان کیخلاف توہین عدالت کیس چلایا گیا تھا، ایسے ہی الزامات تھے، ایسا ہی طریقہ کار تھا لیکن معاف کردیا گیا تھا۔

اٹارنی جنرل کا کہنا تھا عمران خان نے اپنے جواب میں بیان حلفی نہیں دیا، عمران خان کے بیان حلفی کے بغیر جواب کی کوئی حیثیت نہیں۔

اشتر اوصاف کا کہنا تھا سپریم کورٹ نے معاف کیا یہ سمجھتے ہیں بار بار وہی کریں بار بار معافی ہو، عمران خان کو اِس بار صرف نوٹس نہیں شوکاز نوٹس ہوا۔

عدالتی معاون منیر اے ملک کے دلائل

منیر اے ملک کا کہنا تھا الزام ہے کہ خاتون سیشن جج کے خلاف توہین آمیز زبان استعمال کی گئی، یہ بھی الزام ہے کہ زیر التوا مقدمے پر بھی اثرانداز ہونے کی کوشش کی گئی۔

معاون خصوصی منیر اے ملک کا کہنا تھا عدالتیں توہین عدالت کیس میں تحمل اور گریز کا مظاہرہ کرتی ہیں، اسلام آبادہائیکورٹ کا جو معیار ہے کوئی اس کی ساکھ پر اثرانداز نہیں ہوسکتا۔

عدالتی معاون مخدوم علی خان کے دلائل

مخدوم علی خان کا کہنا تھا مفاد عامہ انصاف کی فراہمی میں ہے تو اظہار رائے کی آزادی میں بھی، امریکا میں صدر نے عدالتی فیصلے کو بدترین کہا تھا ، وہاں عدلیہ نے گریز کا مظاہرہ کیا دوسرا راستہ نکالا وہ نکالتے ہیں۔

اس پر چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ امریکا میں ہی مگر ڈونلڈ ٹرمپ کا ٹوئٹر اکاونٹ معطل ہوا تھا، ڈونلڈ ٹرمپ کا اکاونٹ پیروکاروں کو اشتعال دلانے پر معطل ہوا تھا۔

مخدوم علی خان کا کہنا تھا ایک پارٹی کو شکست ہو گی اور ایک کو فتح ، سوال یہ ہے کہ عوام میں عدلیہ کی ساکھ کا کیا ہو گا۔ تقریر کے الفاظ اتنے توہین آمیز ہیں کہ میں انہیں عدالت میں دہرا بھی نہیں سکتا۔

عدالتی معاون مخدوم علی خان کی بھی توہین عدالت کی کارروائی ختم کرنے کی رائے دے دی۔

چیف جسٹس نے کہا اسی پارٹی کے دیگر لیڈرز نے اس کورٹ کے خلاف باتیں کیں، ہمیں ان چیزوں سے فرق نہیں پڑتا، توہین عدالت کی درخواست مسترد کی گئی،  مخدوم صاحب ایک بات ہم آپ کو بالکل واضح کہنا چاہتے ہیں، توہین عدالت کارروائی کے بعد جو کنڈکٹ ہونا چائیے تھا وہ نہیں نظر آیا۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا کیا کسی کی انا عدلیہ کے وقار سے زیادہ اہم ہے؟ غیر مشروط معافی کی بات بھی نہیں کی گئی۔

اس پر مخدوم علی خان کا کہنا تھا پچھتاوے کا اظہار اس کیس میں کیا جا چکا ہے، عدالت اس اظہار کیلئے کوئی اور ایکسپریشن چاہتی ہو تو بھی بتا سکتی ہے۔

عمران خان کی نشست سے کھڑے ہو کر روسٹرم پر آنے کی استدعا

چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کا کہنا تھا کہ کیا میں آکر اپنا موقف بیان کر سکتا ہوں؟

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے جواب دیا کہ ہم نے سب وکلا کے دلائل سن لئے ہیں۔

متعلقہ تحاریر