احسن اقبال کی بریت پر شادیانے بجانے والے عمران خان کی معافی قبول کرنے پر برہم

طلال، دانیال اور نہال کے ساتھ بھی ایسا ہی رویہ اختیار کیا جاتا مگر عمران خان تو لاڈلہ پلس ہے،ایک اور ٹوئٹ میں انہوں نے لکھا کہ نوازشریف کےلیے بلیک لاء ڈکشنری اور عمران خان کے لیے خراج تحسین ،یہ پیمانہ عدل ہے؟ حنا پرویز بٹ کا ردعمل

اسلام آباد ہائیکورٹ کی  جانب سے مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما اور وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقیات احسن اقبال کی نارووال اسپورٹس  کمپلیکس میں بریت پرڈھول پیٹنے والے  لیگی رہنما اور صحافی اسی عدالت کی جانب سے توہین عدالت کیس میں عمران خان کی معافی قبول کرنے پر بھڑک اٹھے اور معزز عدالت کیخلاف سوشل میڈیا پر تنقید شروع کردی۔

عدالت عظمیٰ کی جانب سے جج زیبا چوہدری کی دی گئی دھمکیوں پرتوہین عدالت کے از خود نوٹس کیس میں  عمران خان  کی معافی قبول کیے جانے کےبعد لیگی رہنما حنا پرویز بٹ اور صحافی اسد طور سمیت متعدد افراد نے عدالت عظمیٰ کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

یہ بھی پڑھیے

عمران خان نے خاتون جج سے ذاتی حیثیت میں معافی مانگنے کی استدعا کردی

سرکاری وسائل کا استعمال، کپتان کو پھر الیکشن کمیشن سے بلاوا آگیا

 

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب، جسٹس طارق محمود جہانگیری اور جسٹس بابر ستار پر مشتمل5 رکنی  لارجر بینچ نے گزشتہ روز کیس کی سماعت کی جس میں پی ٹی آئی کے سربراہ کو توہین عدالت کیس میں فرد جرم کا سامنا کرنے کی توقع تھی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج زیبا چوہدری کے خلاف قابل اعتراض ریمارکس پر عمران خان کے خلاف توہین عدالت کے الزامات عائد نہ کرنے کا فیصلہ اس وقت کیا جب انہوں نے یہ بیان دیا کہ وہ خاتون جج سے ذاتی طور پر معافی مانگنے کے لیے تیار ہیں اور وعدہ کیا کہ وہ مستقبل میں ایسا کچھ نہیں کریں گے جس سے عدلیہ کے وقار کو ٹھیس پہنچے ۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے عمران خان کی معافی قبول کیے جانے پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کی رکن پنجاب اسمبلی حنا پرویز بٹ نے اپنے ٹوئٹس میں لکھا کہ کاش طلال، دانیال اور نہال کے ساتھ بھی ایسا ہی رویہ اختیار کیا جاتا مگر عمران خان تو لاڈلہ پلس ہے۔

ایک اور ٹوئٹ میں انہوں نے لکھا کہ نوازشریف کےلیے بلیک لا ڈکشنری اور عمران خان کے لیے خراج تحسین ،یہ پیمانہ عدل ہے؟؟؟

صحافی اور یوٹیوبر اسد علی طور نے بھی عدلیہ کو تنقید کانشانہ بناتے ہوئے اپنے ٹوئٹ میں لکھا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے گلگت بلتستان کے سابق جج رانا شمیم کی معافی متعدد مرتبہ مسترد کیے جانے کے بعد  گزشتہ دنوں اچانک قبول کیا جانا اشارہ تھا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ بہت ہی مشہور رہنما عمران خان کی معافی قبول کرنے کیلیے زمین تیار کررہی ہے۔

ایک اور ٹوئٹ میں انہوں نے لکھا کہ معافی مانگ کر عمران خان نے خود کو بالکل نہیں بچایا بلکہ اسلام آباد ہائیکورٹ کو مُشکل سے نکالا ہے۔ یقین نہیں آتا تو عمران خان کے الفاظ کا چناؤ اور ججز کی دریا دلی پڑھ لیجئے۔

یاد رہے ایک روز قبل ہی اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس نارووال اسپورٹس کمپلیکس ریفرنس میں مسلم لیگ ن کے سیکریٹری جنرل اور وفاقی وزیرمنصوبہ بندی احسن اقبال کو بری کیا تھا ۔

تجزیہ کا روں کا کہنا ہے کہ سیاسی رہنماؤں کو اس روش سے باز آجانا چاہیے کہ فیصلہ اپنے حق میں آئے تو خوشی کے شادیانے بجائے جائیں اور مخالفت میں آئے تو عدالت کو برا بھلا کہا جائے۔

متعلقہ تحاریر