موسمیاتی تبدیلیوں سے پاکستان کا ایک تہائی حصہ پانی میں ڈوب گیا، وزیراعظم شہباز شریف
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان کا گلوبل وارمنگ میں حصہ نہ ہونے کے برابر ہے ، پھر بھی ہم سب سے زیادہ متاثر ہوئے۔
وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی سے تباہی نے پاکستان کا ایک تہائی حصہ زیر آب کردیا۔ حالیہ سیلاب سے پاکستان کے 3 کروڑ 30 لاکھ افراد متاثر ہوئے۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 77ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا پاکستان کے لوگ پوچھتے ہیں ان کے ساتھ ایسا کیوں ہوا؟ 40 دن اور 40 رات تک ایسا سیلاب آیا جیسا دنیا نے کبھی نہیں دیکھا۔ میرا سوال یہ ہے کہ کیا ہم اس بحران میں اکیلے رہ جائیں گے جس کے ہم ذمہ دار بھی نہیں۔ پاکستان کا گلوبل وارمنگ میں حصہ نہ ہونے کے برابر ہے۔
یہ بھی پڑھیے
اسٹیٹ بینک نے سیلاب متاثرین کی مدد کیلئے روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کا پلیٹ فارم مہیا کردیا
ٹی ایل پی نے فرانسیسی صدر سے ملاقات کو وزیر اعظم اور وزیرخارجہ کی غلطی قرار دیدیا
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان نے دہشتگردی کے خاتمے کے لیے بے مثال قربانیاں دیں ، پاکستان دو دہائیوں سے دہشتگردی کا شکار ملک ہے ، جس نے 80 ہزار سے زائد جانوں کی قربانیاں دیں۔
انہوں نے کہا کہ دہشتگردی اور منشیات کی اسمگلنگ روکنے کے لیے دنیا کو مل کر کام کرنا ہوگا۔
وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان پرامن افغانستان دیکھنا چاہتا ہے ، پاکستان ایسا افغانستان چاہتا ہے جو اپنے آپ کے ساتھ ساتھ دنیا کے لیے امن کا باعث بنے ۔ اس وقت افغان حکومت کے ساتھ کشیدگی سے افغان عوام کو نقصان پہنچے گا۔ ہم سرحد پار سے ہونے والی دہشتگردی کے خاتمے کے لیے ڈٹے ہوئے ہیں۔ افغانستان کے مالی مسائل کے حل کے لیے ان کے ذخائر کو جاری کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں ماورائے عدالت قتل کیے جارہے ہیں ، پاکستان کے یکطرفہ عمل سے امن عمل متاثر ہوا ، جنوبی ایشیا میں امن کا انحصار مقبوضہ جموں و کشمیر کے مسئلہ کے حل میں ہے۔ بھارت مقبوضہ کشمیر میں اپنے 5 اگست 2019 کے اقدام کو واپس لے ۔ بھارت مسلم اکثریت والے علاقوں کو ہندو اکثریت میں تبدیل کرنا چاہتا ہے۔ کشمیریوں کے خلاف بھارتیوں کی بربریت نے مقبوضہ کشمیر کو دنیا کی سب سے بڑی فوجی چھاؤنی بنا دیا ہے۔ یو این او کی قراردادوں کے مطابق حق رائے دہی یقینی بنانے تک مقبوضہ کشمیر میں امن قائم نہیں ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ 20ویں صدی کے معاملات سے توجہ ہٹا کر 21ویں صدی کے مسائل کی جانب توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ بھارت کو سمجھنا ہوگا کہ دونوں ممالک ایٹمی طاقت ہیں جنگ مسائل کا حل نہیں۔ ورنہ جنگیں لڑنے کے لیے زمین ہی باقی نہیں بچے گی ، ہم پڑوسی ممالک ہیں ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہمیں امن کے ساتھ رہنا ہے یا جنگ کرکے۔ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں صرف پرامن مذاکرات ہی سے مسائل حل ہوتے ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا اسلامو فوبیا ایک عالمی رحجان ہے ، نائن الیون کے واقعے کے بعد مسلمانوں کے خلاف رویوں میں تبدیلی آئی۔









