پرویز مشرف کے بدلے نواز اور اسحاق کی واپسی، مریم نواز رنگے ہاتھوں پکڑی گئیں
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے وزیراعظم ہاؤس سے مریم نواز کی مبینہ آڈیو لیکس سے لگتا ہے کہ پرائم منسٹر ہاؤس ن لیگ کی نائب صدر کے خلاف کوئی بڑا گیم پلان ترتیب دے رہا ہے۔
آڈیو لیک پر آڈیو لیک، مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کی ایک اور مبینہ آڈیو لیک سامنے آگئی ہے جس میں سابق صدر پرویز مشرف کے بدلے اپنے والد کی واپسی کی شرط رکھ رہی ہیں ، کہیں ایسا تو نہیں کہ وزیراعظم ہاؤس مریم نواز کی سیاسی ساکھ کو متاثر کرنے آڈیو لیک کررہا ہو۔
وزیراعظم شہباز شریف اور مریم نواز کی نئی مبینہ آڈیو ہم نیوز چینل سے جڑے صحافی شاکر محمود اعوان نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر شیئر کی ہے۔ جس میں مریم نواز سابق صدر پرویز مشرف کی واپسی کے بدلے اسحاق ڈار اور اپنے والد کی واپسی مانگ رہی ہیں۔
سنتاجا،،،،، شرماتاجا،،،
مشرف کے بدلے میں اسحاق ڈار، نواز شریف کی واپسی،،،، pic.twitter.com/2tXfFA6C9h— Shakir Mehmood Awan (@ShakirAwan88) September 27, 2022
یہ بھی پڑھیے
نجی اور سرکاری جامعات میں سیاسی اکٹھ کی ایک تاریخ ہے، مریم نواز یادہانی کرلیں
مریم نواز اور شہباز شریف کی مبینہ آڈیو کا متن
مریم نواز : بس اللہ کرے ہمارا کوئی کچھ اور نہیں ،،،، ڈار صاحب واپس آجائیں۔
مریم نواز : میں نے اس پر بڑی محنت کی ہے۔
مریم نواز : انکل میں کوئی ایک مہینے سے اس پر لگی ہوئی ہوں۔ بندہ چپ کرکے کہہ دے کہ ،،، نہ کرو یہ۔
وزیراعظم شہباز شریف : ابھی تک تو انہوں نے اس پر بہت محنت کی ہے۔ جج کے خلاف رپورٹ بنانا اس لیے بھی ضروری ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف : ہم اس کے بغیر ہی ڈار صاحب کو لے آئے تو۔
مریم نواز : نہیں نہیں انکل ان کو منا کر لانا چاہیے۔
وزیراعظم شہباز شریف : صلح کرلیں۔
مریم نواز : انکل میں ابھی کل ہی ابو کو ٹوئٹ بیٹھ کر دیکھ رہی تھی ، تو ڈی جی آئی ایس پی آر آئے ہوئے تھے۔
مریم نواز : میں نے دیکھا وہ کہہ رہے ہیں کہ مشرف کو واپس آنا چاہیے۔ اور اگر وہ آنا چاہیں ، ان کی فیملی وغیرہ آنا چاہیں تو ہمیں ان کو سہولت فراہم کریں گے۔
مریم نواز : میں کہتی ہوں کہ دو جمع دو چار کرلیتے ہیں۔ میں نے کہا اگر انہوں نے لانا ہے ، تو پھر انہوں نے آنا ہے۔
مریم نواز : اس وقت ہم پاگل لگیں گے یہ سوچتے ہوئے کہ یہ فوج کر رہی ہے جو کررہی ہے۔ گورنمنٹ کی کوئی say نہیں ، ان سے کسی نے پوچھا بھی نہیں ہے۔
مریم نواز : اور اگر ہم نے کوئی "پرابلم کری ایٹ” کرتے ہیں یا راستے میں رکاوٹ پیدا کرتے ہیں تو پھر ایک اور missgiving شروع ہو جائے گی۔
مریم نواز : اور پھر انکل می نے ابو کو فون کیا اور میں نے کہا کہ "آئی سی دس کمنگ”۔ اور بجائے اس کے کہ ہم کہیں ہمارے اوپر ایک اور فیصلہ ٹھونسا گیا ہے۔
مریم نواز : پھر اس کے بعد ہماری مزید جگ ہنسائی ہو گی ، اس لیے اس سے بہتر ہے کہ آپ کہہ دیں کہ ہم نے اللہ تعالیٰ کی خاطر کیا ہے۔ میں نے کہا آپ یہ ٹوئٹ کردیں، اور انہوں نے فوراً میری بات مان لی۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے اس پوری آڈیو کا جو سب سے زیادہ سیاسی نقصان ہوگا وہ مریم نواز اور سابق وزیراعظم نواز شریف ہو گا ، اور ہوسکتا ہےکہ ان کی سیاست ہی ختم ہو جائے ، لگتا یہ ہے کہ شہباز شریف اور حمزہ شہباز اس ساری صورتحال سے بچ نکلیں گے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مبینہ آڈیو لیک وزیراعظم ہاؤس سے ہورہی ہیں ، جو ظاہر ہے شہباز شریف کے زیراثر ہے ، کہیں ایسا تو نہیں کہ وزیراعظم ہاؤس میں مریم نواز اور نواز شریف کے خلاف تانے بانے بُنے جارہے ہوں۔ مطلب منہ میں رام رام بغل میں چھری۔









