اسحاق ڈار کی واپسی ، صدر مملکت اور احتساب عدالت نے خوش آمدید کرلیا
مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور سینیٹر اسحاق ڈار نے چوتھی بار وزیر خزانہ کا حلف اٹھا لیا ، ڈاکٹر عارف علوی نے ان سے حلف لیا۔
صدر مملکت عارف علوی نے ملزم وزیراعظم سے حلف نہیں لیا تھا جبکہ اشتہاری اسحاق ڈار سے وزیر خزانہ کا حلف لے لیا ہے۔ حلف برداری کی تقریب سے وزیراعظم شہباز شریف نے صدر مملکت ڈاکٹر عارف سے 20 منٹ تک الگ سے ملاقات کی تھی۔
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینیئر رہنما اور سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے وفاقی وزیر خزانہ کی حیثیت سے حلف اٹھا لیا، صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے ان سے حلف لیا۔ وہ پانچ برس سے لندن میں خود ساختہ جلا وطنی کاٹ رہے تھے اور عدالت کے حکم کے باوجود پیش نہ ہونے پر انہیں مفرور قرار دیا تھا۔
یہ بھی پڑھیے
مریم نواز کی پاسپورٹ واپسی تین اکتوبر تک ملتوی، قصور وار اپنا ہی وکیل نکلا
پرویز مشرف کے بدلے نواز اور اسحاق کی واپسی، مریم نواز رنگے ہاتھوں پکڑی گئیں
حلف برداری کی تقریب ایوان صدر اسلام آباد میں ہوئی جس میں وزیراعظم محمد شہباز شریف، وفاقی وزرا ، وزیراعظم کے معاونین خصوصی، اراکین پارلیمنٹ، سول و فوجی افسران اور مسلم لیگ(ن) کے رہنماؤں سمیت سیاسی عمائدین نے شرکت کی۔
حلف اٹھانے کے ساتھ ہی اسحاق ڈار چوتھی بار وزیرِ خزانہ بن گئے۔ کل انہوں نے ایوان بالا کے رکن کی حیثیت سے حلف اٹھایا تھا۔ وہ تقریبا ساڑھے چار برس قبل پنجاب سے ٹیکنوکریٹ کی نشست پر سینیٹر منتخب ہوئے تھے۔ اس سے قبل بھی اسحاق ڈار تین مرتبہ وزیر خزانہ رہ چکے ہیں۔
وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی میڈیا گفتگو
حلف برداری کے بعد وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار احتساب عدالت میں پیش ہوئے۔ بعدازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ میں طبیعت کی خرابی کے باوجود ملک میں واپس آنا چاہتا تھا مگر دنیا بھر کے تمام سفارتخانوں کو ہدایات دی گئیں تھیں کہ پاسپورٹ جاری نہیں کرنا ہے۔ موجودہ حکومت نے پاسپورٹ جاری کیا تو میں پاکستان میں آگیا ہوں۔
اسحاق ڈار کا کہنا تھا عمران خان کی حکومت نے میرا پاسپورٹ کینسل کردیا تھا ، میرا پاسپورٹ میرے پاس پچھلے چار سال سے نہیں تھا۔ عمران حکومت نے سب سے پہلے میرا پاسپورٹ کینسل کیا۔ عمران خان کے وزراء ٹی وی پر بیٹھ کر کہتے تھے مجھے انٹرپول کے ذریعے ملک واپس لائیں گے۔ مجھ پر جعلی کیس بنایا گیا۔
وفاقی وزیر خزانہ کا کہنا تھا مجھ پر الزام لگایا گیا کہ میں نے 20 سال سے ٹیکس ریٹرن فائل نہیں کیے۔ کبھی ٹیکس ریٹرن فائل کرنے میں تاخیر نہیں کی۔ جنہوں نے مجھ پر کیس بنایا انہیں شرم آنی چاہیے۔
سیاسی مخالفین سے اپیل کرتے ہوئے اسحاق ڈار کا کہنا تھا خدا کے لیے بس کردیں پاکستان کو آگے جانے دیں، میری پہلی ترجیح کرنسی اور دوسری ترجیح مہنگائی پر قابو پانا ہے۔ ہم کسی ڈیل پر یقین نہیں رکھتے ۔ پاکستان تیس سال پیچھے چلا گیا ہے۔
محمد اسحاق ڈار اور پاکستان مسلم لیگ (ن)
انہوں نے پہلی بار وزارتِ خزانہ کا منصب 1998ء ، دوسری مرتبہ 2008ء اور تیسری بار 2013ء میں سنبھالا تھا۔
اسحاق ڈار جو مسلم لیگ نواز کے قائد نواز شریف کے سمدھی بھی ہیں، 9 مارچ 2018 کو صوبہ پنجاب سے ٹیکنوکریٹ کی نشست پر سینیٹر منتخب ہوئے تھے تاہم پانچ برس سے لندن میں خود ساختہ جلاوطنی گزارنے کی وجہ سے وہ اب تک سینیٹ کی رکنیت کا حلف نہیں اٹھا سکے تھے۔
احتساب عدالت نے رواں برس مئی میں سابق وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار کے اثاثہ جات ریفرنس میں بار بار طلب کیے جانے کے باوجود پیش نہ ہونے پر دائمی وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے۔
23 ستمبر کو اسلام آباد کی احتساب عدالت نے اسحاق ڈار کے دائمی وارنٹ گرفتاری معطل کرتے ہوئے اسحاق ڈار کو 7 اکتوبر تک وطن واپس آکر عدالت میں پیش ہونے کا حکم سنایا تھا۔









