ویڈیو لیکس کا معاملہ، این ایس سی نے اعلیٰ تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دینے کی منظوری دے دی
اجلاس میں آڈیو لیکس کے معاملے کی تحقیقات کے لیے اعلیٰ سطح کمیٹی کے قیام کی توثیق کی گئی، 8 رکنی کمیٹی کے سربراہ وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ ہوں گے۔
وزیراعظم کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی کا اہم اجلاس ہوا ، جس میں آڈیو لیکس کے معاملے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا اور اس کے مضمرات پر بات چیت کی گئی۔
اجلاس میں وزیر دفاع خواجہ آصف، وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ، وزیر خزانہ اسحاق ڈاراور سیکرٹری خارجہ سہیل محمود شریک ہیں۔ عسکری قیادت، انٹیلی جنس اداروں کے سربراہان نے بھی شرکت کی۔
یہ بھی پڑھیے
ایف بی آر کی فکس ٹیکس سے متعلق میٹنگ، تاجروں نے شکایتوں کے انبار لگادیئے
وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس کے دوران آڈیو لیکس کے معاملے پر خصوصی توجہ دی گئی۔ اجلاس میں حساس اداروں کے حکام نے وزیراعظم ہاؤس اور دیگر اہم مقامات کی سیکیورٹی، سائبر اسپیس اور دیگر متعلقہ پہلوؤں پر تفصیلی بریفنگ دی۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ سوشل میڈیا پر آڈیوز کی تخریب کاری کے معاملے کی تحقیقات جاری ہیں۔ وزیراعظم ہاؤس کی سیکیورٹی سے متعلق بعض پہلوؤں کی نشاندہی کی گئی ہے اور ان کے تدارک کے لیے فول پروف اقدامات کیے گئے ہیں۔
اس کے علاوہ اجلاس کے شرکاء کو بتایا گیا کہ وزیراعظم ہاؤس اور دیگر اہم مقامات، عمارتوں اور وزارتوں کی سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ مستقبل میں ایسی صورتحال سے بچا جا سکے۔
نیشنل سیکورٹی کمیٹی کا فیصلہ
اجلاس میں آڈیو لیکس کے معاملے کی تحقیقات کے لیے اعلیٰ سطح کمیٹی کے قیام کی توثیق کی گئی، 8 رکنی کمیٹی کے سربراہ وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ ہوں گے۔
اجلاس میں جدید ٹیکنالوجی اور سائبر اسپیس کے موجودہ بدلتے ہوئے ماحول کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومتی کمیونیکیشنز کی حفاظت کو یقینی بنانے پر اتفاق کیا گیا تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ آئندہ سیکورٹی لیپس نہ ہو۔
مشاورت کے بعد اجلاس کے شرکاء نے فیصلہ کیا کہ سائبر سیکورٹی سے متعلق ایک "قانونی فریم ورک” تیار کیا جائے اور اس تناظر میں وزارت قانون و انصاف کو "قانونی فریم ورک” تیار کرنے کی ہدایت کی گئی۔
تباہ کن سیلاب اور ریلیف کے اقدامات کا جائزہ
اجلاس میں ملک میں آنے والے تاریخی تباہ کن سیلاب، متاثرین کی امداد، امدادی اقدامات اور موجودہ سیکورٹی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس کے دوران فوری ریلیف کے اقدامات، محفوظ مقامات پر منتقلی، خوراک، علاج معالجہ اور ضروری اشیاء کی فراہمی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
اجلاس کے شرکاء نے سیلاب زدگان کی جانیں بچانے، متاثرین کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے اور سیلاب میں گھرے افراد کو خوراک اور دیگر اشیاء فراہم کرنے میں انتظامیہ اور اداروں بالخصوص فوج، بحریہ اور فضائیہ کے کردار کو خراج تحسین پیش کیا۔ مشکل حالات میں فوج کے جذبہ خدمت کو سراہا گیا۔
لسبیلہ کے شہیدوں کو سلام
اس موقع پر اجلاس کے شرکاء نے بلوچستان کے شہر لسبیلہ میں آرمی ایوی ایشن کے ہیلی کاپٹر کے حادثے میں سیلاب زدگان کی مدد کرتے ہوئے شہید ہونے والے افسران اور جوانوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ قوم اپنے شہداء اور ان کے اہل خانہ کو سلام پیش کرتی ہے۔
گذشتہ سے پیوستہ
واضح رہے کہ گزشتہ دنوں وزیراعظم ہاؤس میں ہونے والے اجلاس کے حوالے سے آڈیو لیکس سامنے آنے پر پی ایم ہاؤس کی سکیورٹی کے حوالے سے سوالات اٹھائے جا رہے تھے۔
وزیراعظم کا نیوز کانفرنس میں آڈیو لیکس کے معاملے پر اعلیٰ سطح کی مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی بنانے کا اعلان کرتے ہوئے کہنا تھا کہ آڈیو لیکس بہت سنجیدہ معاملہ ہے، جو سیکورٹی پر بہت بڑا سوالیہ نشان ہیں، یہ وزیراعظم ہاؤس کی نہیں ریاست پاکستان کے وقار کی بات ہے۔









