جی سی یو کے بعد آکسفورڈ یونین کی بھی عمران خان کو خطاب کی دعوت
آکسفورڈ یونین کے صدر احمد نواز نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر ان تمام ناموں کی تفصیل جاری کی ہے کہ جو یونین کی 200ویں سالگرہ کے موقع پر خطاب کریں گے۔

گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور کے بعد آکسفورڈ یونین نے اپنی 200ویں سالگرہ کے موقع پر چیئرمین تحریک انصاف اور سابق وزیراعظم عمران خان کے ساتھ ملالہ یوسفزئی سمیت دیگر بااثر عالمی رہنماؤں کو خطاب کے لیے مدعو کیا ہے۔
آکسفورڈ یونین کے صدر احمد نواز نے آئندہ ہونے والی تقریب کے عالمی مقررین کے ناموں کا اعلان کیا ہے جن میں عمران خان اور ملالہ یوسفزئی کے نام بھی شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
ماہرین تعلیم کی جی سی یو کے وائس چانسلر کے خلاف بیانات کی مذمت
وائس چانسلر جی سی یونیورسٹی کے خلاف پنجاب اسمبلی میں قرارداد جمع
آکسفورڈ یونین سوسائٹی ، جسے عمومی طور پر صرف آکسفورڈ یونین کہا جاتا ہے، انگلینڈ کے شہر آکسفورڈ میں عالمی معاملات پر بحث کا پلیٹ فارم ہے، آکسفورڈ یونین کی رکنیت بنیادی طور پر ان افراد کو دی جاتی ہے آکسفورڈ یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کرچکے ہیں۔
سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام شیئر کرتے ہوئے آکسفورڈ یونین کے صدر احمد نواز نے لکھا ہے کہ "مجھے آپ کے ساتھ ان تمام مقررین کی فہرست شیئر کرتے ہوئے بہت خوش ہوں جو اس مدت میں آکسفورڈ یونین میں ہمارے ساتھ شامل ہوں گے!۔”
I am thrilled to share with you all the list of speakers that will be joining us at @OxfordUnion this term!
From Malala Yousafzai to PM Imran Khan to Dr Anthony Fauci & many other world leaders will be joining us in the Oxford Union Chambers!
Termcard:https://t.co/E26MQW6vwk pic.twitter.com/DEN1qXzLiN
— Ahmad Nawaz (@Ahmadnawazaps) September 30, 2022
احمد نواز نے مزید لکھا ہے کہ "ملالہ یوسفزئی سے لے کر سابق وزیر اعظم عمران خان اور ڈاکٹر انتھونی فوکی سمیت بہت سے دوسرے عالمی رہنما ہمارے ساتھ آکسفورڈ یونین چیمبرز میں ہمارے ساتھ شامل ہوں!”
آکسفورڈ یونین کے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ سے احمد نواز کا پیغام پڑھ کر سنایا گیا ہے کہ "ہم آکسفورڈ یونین کی 200ویں سالگرہ کے قریب پہنچ رہے ہیں، مجھے آپ کو اس یونین کے وجود میں آنے کی تمام وجوہات کی یاد دلانا چاہتے ہیں کہ یہاں پر اظہار رائے کی مکمل آزادی ہے ، اظہار رائے کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے یونین موجود ہے۔ یونین کو حال ہی میں متنازعہ مقررین کی میزبانی کرنے پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے، لیکن کسی کو یہ کبھی نہیں بھولنا چاہیے کہ یہ محض مقررین کی میزبانی کا پلیٹ فارم نہیں ہے، بلکہ ان کے خیالات کو چیلنج کرنے ، وجہ معلوم کرنے اور تنقید کرنے کا پلیٹ فارم بھی ہے۔”
ایک سابق صدری کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے پیغام میں کہا گیا ہے کہ "اختلاف رائے کوئی برا لفظ نہیں ہے!، اگر آپ فکری طور پر چیلنج یا اس سے اختلاف نہیں کرنا چاہتے، تو شاید یونین میں آپ کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔”
آکسفورڈ یونین کی 200ویں سالگرہ کے موقع پر عمران خان سمیت دیگر عالمی رہنماؤں کو خطاب کا موقع فراہم کیا جائے گا۔ پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کا جی سی یو لاہور میں خطاب کے بعد ایک اور مشہور تعلیمی ادارے میں خطاب ہوگا۔
واضح رہے کہ رواں ہفتے جی سی یونیورسٹی لاہور میں عمران خان کے خطاب پر وفاقی حکومت نے بہت زیادہ واویلا مچایا تھا ، گورنر پنجاب بلیغ الرحمان نے تعلیمی ادارے میں سیاسی خطاب کی دعوت دینے پر وائس چانسلر ڈاکٹر اصغر زیدی کو وفاقی یونیورسٹیز کے لیے قائم کردہ سرچ کمیٹی سے برطرف کر دیا تھا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ اتحادی حکومت کے لیے ایک شرمناک لمحہ ہو گا جب عالمی سطح پر تسلیم شدہ آکسفورڈ یونیورسٹی انہیں (عمران خان) کو بطور اسپیکر مدعو کیا گیا ہے۔ جبکہ حکومت نے ان کے جی سی یونیورسٹی میں خطاب کو متنازعہ قرار دیا تھا، ایک تعلیمی ادارے کو سیاسی اکھاڑہ بنانے کے مترادف قرار دیا تھا۔









