آڈیو لیکس پر عمران خان کا عدالت جانے کا اعلان، رانا ثناء اللہ کا ملزمان کو پکڑنے کا دعویٰ

وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے دعویٰ کیا کہ پی ایم او کی آڈیو لیکس میں ملوث افراد کی نشاندہی کر لی گئی ہے تاہم اس سارے معاملے میں کوئی دشمن انٹیلی جنس ایجنسی ملوث نہیں ہے۔

وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے دعویٰ کیا کہ وزیراعظم آفس (پی ایم او) کی آڈیو لیکس میں ملوث افراد کی شناخت کرلی گئی ہے تاہم کسی دشمن ملک کی انٹیلی جنس ایجنسی ملوث نہیں ہے۔

وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کی جانب سے یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب ایک روز پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سربراہ اور سابق وزیراعظم عمران خان نے آڈیو لیکس کے معاملے پر سپریم کورٹ جانے کا اعلان کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

چیئرمین پی پی کی رہائش گاہ بلاول ہاؤس کے عین سامنے کھلے نالے میں گاڑی جاگری

منی لانڈرنگ کیس کے 8 اکاؤنٹس کا معاملہ، مرحوم مقصود چپڑاسی اربوں کے مالک نکل آئے

گذشتہ روز ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا آڈیو لیکس کےمعاملے میں کسی غیرملکی جاسوس ایجنسی کے ملوث ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔

وزیر داخلہ کا مزید کہنا تھا کہ ’وزیراعظم ہاؤس کے کچھ عملے کے ملوث ہونے کے شواہد ملے ہیں‘۔

ان کا کہنا تھا ’ایسی چیزیں پیسے کے لیے کی جاتی ہیں‘۔

وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا تھا مزید تحقیقات جاری ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس تحقیقاتی رپورٹ کو پبلک کرنے میں کوئی حرج نہیں تاہم اس حوالے سے حتمی فیصلے وزیراعظم شہباز شریف، وفاقی کابینہ اور قومی سلامتی کمیٹی (این ایس سی) کرے گی۔

رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا آڈیو لیکس کے معاملے میں ملوث کچھ افراد کی تصدیق ہو گئی ہے تاہم انہوں نے اس بات کی تصدیق نہیں کی کہ آیا کوئی گرفتاری عمل میں آئی ہے یا نہیں۔

آڈیو لیکس کے بعد میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ انٹیلی جنس ایجنسیز نے دو مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا تھا۔

پاکستان کے معروف انگریزی روزنامچے ڈان نیوز نے گرفتاری کے حوالے سے خبر شائع کی تھی تاہم حکومت اور متعلقہ حلقوں کی جانب سے کوئی باضابطہ تصدیق نہیں ہوئی تھی۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق ‘ایک خفیہ ایجنسی’ نے پیر کے روز دو مشتبہ افراد کو حراست میں لیا تھا جو پرائم منسٹر ہاؤس کی بگنگ اور فون ہیکنگ میں ملوث تھے۔ نجی چینل کی رپورٹ کے مطابق دو ملزمان میں سے ایک ہیکر کا تعلق راولپنڈی سے ہے جبکہ دوسرے کا تعلق وسطی پنجاب کے شہر سے ہے جبکہ دونوں مشتبہ افراد وزیراعظم ہاؤس کی سیکورٹی پر تعینات عملے سے رابطے میں تھے۔

اے آر وائی نیوز نے اپنی خبر میں مزید کہا تھا کہ پرائم منسٹر ہاؤس کی سیکورٹی پر تعینات عملے کے بعض افراد کو آڈیو لیکس کے سلسلے میں جلد گرفتار کیے جانے کا امکان ہے۔

جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ "وزیراعظم کے دفتر میں ٹیلی فونک گفتگو اور غیر رسمی گفتگو کو ریکارڈ کرنے کے لیے ایک "چھوٹی” ریکارڈنگ ڈیوائس کو نصب کیا گیا تھا۔

وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ ان کیمرہ بریفنگ کے ذریعے کی جانے والی تحقیقات کے نتائج عدالتوں کے ساتھ شیئر کیے جا سکتے ہیں۔

گزشتہ روز عمران خان نے آڈیو لیکس کے معاملے پر سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کرنے کا عندیہ دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا ہم آڈیو لیکس کے معاملے پر عدالت عظمیٰ سے جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دینے کی استدعا کریں گے ، تاکہ معلوم کیا جاسکے کہ وزیراعظم ہاؤس کی بگنگ میں کون سی ’’انٹیلی جنس ایجنسی‘‘ ملوث ہے۔

عمران خان کا گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ "ہم آڈیو لیکس کی صداقت کو ثابت کرنے کے لیے عدالت میں جانے کا ارادہ رکھتے ہیں اور پھر ایک جے آئی ٹی تشکیل دینے کا ارادہ رکھتے ہیں جو اس بات کی تحقیقات کرے کہ کون سی انٹیلی جنس ایجنسی بگنگ کے لیے ذمہ دار ہے اور کون آڈیوز کو لیک کر رہا ہے، جن میں سے بہت سے ایڈٹ اور ڈاکٹریٹ کی گئی ہیں۔”

متعلقہ تحاریر