نیب ترامیم سے منظم کرپشن کو فروغ ملے گا، سپریم کورٹ

نیب ترامیم کیس میں عمران خان کے وکیل کے دلائل جاری ہیں، تاہم مقدمہ کی مزید سماعت آئندہ منگل کو ہوگی۔

چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال نے کہاہے کہ آمدن سے زائد اثاثے پوری دنیا میں جرم تصور کئے جاتے ہیں، عدالت عظمیٰ عالمی معیار اور مقامی قانون کے تناظر میں نیب ترامیم کا جائزہ لے گی۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے ہیں کہ نیب ترامیم سے منظم کرپشن کو فروغ ملے گا۔

‏سپریم کورٹ کے ‏چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں ‏جسٹس اعجازالاحسن اور جسٹس منصور علی شاہ پر مشتمل 3 رکنی بینچ نے  نیب ترامیم کے خلاف چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی درخواست پر سماعت کی۔

یہ بھی پڑھیے

امریکی ڈالر کو مسلسل 14 روز تک دباؤ میں رکھنے والا پاکستانی روپیہ آج کمزور پڑگیا

شہباز شریف اور حمزہ شہباز ایف آئی اے منی لانڈرنگ کیس میں بری

پاکستان تحریک انصاف کے وکیل خواجہ حارث نے پانچویں روز بھی دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا کہ کابینہ اور ورکنگ ڈیولپمنٹ پارٹیز کے فیصلے بھی قومی احتساب بیورو کے دائرہ اختیار سے نکال دیئے گئے ہیں، جس پر چیف جسٹس کہا کہ کمیٹیوں اور کابینہ میں فیصلے مشترکہ ہوتے ہیں، کیا مشترکہ فیصلوں پر پوری کابینہ اور کمیٹی کو ملزم بنایا جائے گا؟۔

پوری کابینہ یا کمیٹی ملزم بنے گی تو فیصلے کون کرے گا؟ ہر کام پارلیمان کرنے لگی تو فیصلہ سازی کا عمل سست روی کا شکار ہو جائے گا۔

چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل نے کہا کہ موجودہ حکومت کا پہلا ٹارگٹ ہی اپنے نیب کیسز ختم کرنا تھا، کیا نیب تحقیقات پر خرچ اربوں روپے ضائع ہونے دیئے جائیں؟۔

پی ٹی آئی کے وکیل نے کہا کہ اختیارات کے ناجائز استعمال کے لیے کوئی اور قانون موجود نہیں ہے، نیب ترامیم کے بعد 50 کروڑ سے زائد کی کرپشن ثابت کرنا بھی ناممکن بنا دیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھاکہ ترمیم کے بعد مالی فائدہ ثابت ہونے پر ہی کارروائی ہوسکے گی، اختیارات کے ناجائز استعمال کے لیے عوامی عہدیدار کا براہ راست فائدہ لینا ثابت کرنا ہوگا، عوامی عہدیدار کے فرنٹ مین اور بچوں کے مالی فائدے پر بھی کیس نہیں بنے گا۔

چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ کئی بیوروکریٹ ریفرنس میں بری ہوئے لیکن انہوں نے جیلیں کاٹیں، بعض اوقات حالات بیوروکریسی کے کنٹرول میں نہیں ہوتے۔

پی ٹی آئی کے وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ حالیہ نیب ترامیم انسداد کرپشن کے عالمی کنونشن کے بھی خلاف ہیں۔ مخصوص افراد کو فائدہ پہنچانے کے لیے نیب ترامیم کی گئی ہیں۔

عمران خان کے وکیل کے دلائل جاری ہیں، مقدمہ کی مزید سماعت آئندہ منگل کو ہوگی۔

متعلقہ تحاریر