وزیر اعظم شہباز شریف چھ ماہ کے دوران ہیرو سے زیرو بن گئے

مسلم لیگ (ن) کے صدر اور وزیر اعظم شہباز شریف کو اقتدار میں چھ ماہ مکمل ہونے کے بعد سے اپنے سیاسی کیریئر کے مشکل ترین لمحات کا سامنا ہے۔

پاکستان مسلم لیگ نواز (پی ایم ایل این) کے صدر اور وزیر اعظم شہباز شریف کو مرکز میں حکومت ملے چھ ماہ کا عرصہ گزر گیا ہے مگر وہ ان چھ میں ہیرو سے زیرو کی پوزیشن پر آ گئے ہیں۔ تازہ ترین دھچکا انہیں ضمنی انتخابات میں  شکست کی صورت میں لگا ہے۔

وزیر اعظم شہباز شریف کو چھ ماہ تک ملک پر حکومت کرنے کے بعد سے اب اپنے سیاسی کیریئر میں مزید چیلنجز کا سامنا ہے۔ حکومت کو قبول کرنے کے بعد شہباز شریف اور ان کی جماعت مسلم لیگ ن کو پے در پے ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

ضمنی انتخابات میں عمران خان کی تاریخی فتح: پی ڈی ایم اپنے ہی جال میں پھنس گئی

وزیراعظم شہباز شریف نے کس کے کہنے پر پریس کانفرنس منسوخ کی؟

اقتدار میں آنے کے چھ ماہ بعد وزیر اعظم شریف کی سیاسی جماعت کو پنجاب میں ضمنی انتخابات کے پہلے مرحلے میں ذلت آمیز شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے جبکہ اس سے پیشتر ان کے بیٹے حمزہ شہباز کو اپنی وزارت اعلیٰ سے بھی ہاتھ دھونا پڑا تھا۔

ناکامیاں کا سلسلہ یہیں نہیں رکا بلکہ لندن میں بیٹھے ہوئے مسلم لیگ ن کے تاحیات قائد نواز شریف نے ان کے لگائے ہوئے وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کو ہٹا کر اسحاق ڈار کو وزیر خزانہ لگا دیا ہے۔

حالیہ ضمنی انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کے گڑھ پنجاب شہباز شریف کو بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ قومی کی تین اور صوبائی اسملبی کے 3 نشستوں میں سے پاکستان تحریک انصاف نے 5 نشستوں پر میدان مارلیا ہے اور ن لیگ کے حصے میں صرف ایک نشست آئی ہے۔ جس کے مطلب ہے کہ شہباز شریف یہاں بھی اچھی کارکردگی  دکھانے میں مکمل ناکام نظر آئے ہیں۔

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سربراہ عمران خان نے 16 اکتوبر کو ہونے والے ضمنی انتخابات میں قومی اسمبلی کی آٹھ میں سے چھ نشستوں پر تاریخی کامیابی حاصل کرلی ہے۔

غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج کے مطابق عمران خان کی زیرقیادت پی ٹی آئی نے اتوار کے ضمنی انتخابات میں اپنی آٹھ میں سے چھ اور پنجاب اسمبلی کی مسلم لیگ (ن) کے منحرف ارکان کی وجہ سے خالی ہونے والی 2 نشستوں پر کامیابی حاصل کرلی ہے۔

پی ٹی آئی قومی اسمبلی کی دو نشستوں ، این اے 157 ملتان اور این اے 237 ملیر کراچی سے پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے ہاتھوں ہار گئی۔

تاہم تحریک انصاف نے این اے 22 مردان ، این اے 31 پشاور ، این اے 24 چارسدہ ، این اے 108 فیصل آباد آٹھ ، این اے 118 ننکانہ صاحب ، این اے 239 کورنگی ، اور پی پی 209 خانیوال اور پی پی 241 بہاولنگر سے نشستیں حاصل کرلی ہیں۔

حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز (پی ایم ایل ن) نے پی پی 139 شیخوپورہ سے کامیابی حاصل کی ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ گزشتہ چھ ماہ کی کارکردگی دیکھی جائے تو اس عرصے میں سب سے زیادہ نقصان میں رہے میں وزیراعظم شہباز شریف۔

ان کا کہنا ہے کہ مرکز میں حکومت سنبھالنے کے بعد سے وزیراعظم شہباز شریف ہیرو سے زیرو بن گئے ہیں۔ معشیت زبوں حالی کا شکار ہے، افراط زر تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہے ، ایکسپورٹ نہ ہونے کے برابر رہ گئی ، زرمبادلہ کے ذخائر تاریخ کی نچلی ترین سطح پر پہنچ گئے۔

متعلقہ تحاریر