شریف خاندان کی کرپشن پر بننے والی ڈاکومنٹری فلم ریلیز کے قریب

او ٹی ٹی پلیٹ فارمز پر ریلیز ہونے والی ڈاکومنٹری فلم "بی ہائیڈ دا کلوز ڈور" میں شریف خاندان کی کرپشن کا احاطہ کیا گیا۔

سرے محل سے شروع ہونے والی کہانی اب پہنچ گئی ہے شریف خاندان کی کرپشن تک ، او ٹی ٹی پلیٹ فارمز پر "بی ہائیڈ دا کلوز ڈور” کے نام سے ایک ڈاکومنٹری ریلیز ہونے جارہی ہے جس میں تفصیل کے ساتھ شریف خاندان کی کرپشن کی ساری رام کہانی بیان کی گئی ہے۔

او ٹی ٹی پلیٹ فارمز کسی بھی ڈاکومنٹری کو اس وقت تک اپنے پلیٹ فارمز سے آن ایئر ہونے کی اجازت نہیں دیتے جب تک انہیں اس بات کا یقین نہ ہو جائے کہ جو ڈاکومنٹری ان کے پلیٹ فارمز سے آن ایئر ہونے جارہی ہے وہ حقیقت پر مبنی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

تیمور جھگڑا کے بعد مونس الہیٰ کا وفاق سے واجبات کی ادائیگی کا مطالبہ

مریم نواز ضمنی الیکشن میں شکست فاش پر جواب دینے کے قابل نہیں رہیں

او ٹی ٹی پلیٹ فارمز سب سے پہلے ڈاکومنٹری کے کانٹینٹ پر ریسرچ کرتے ہیں ، کیونکہ او ٹی ٹی پلیٹ فارمز کی انتظامیہ کو اس بات کا اچھی طرح سے ادراک ہے کہ اگر ڈاکومنٹری کا کانٹینٹ حقیقت پر مبنی نہیں ہوگا تو اس کے خلاف کوئی بھی قانونی چارہ جوئی کا حق رکھتا ہے۔

واضح رہے کہ گذشتہ دنوں "دی لانڈرومیٹ” کے نام سے ایک مزاحیہ فلم نیٹ فلکس پر ریلیز کی جس میں ہلکے پھلکے انداز میں شریف خاندان کی کرپشن اور پاناما لیکس کے حقائق کا احاطہ کیا گیا تھا۔

"دی لانڈرومیٹ” فلم میں میرل اسٹریپ اور گیری اولڈ مین جیسے بڑے امریکی اداکاروں نے اپنے فن کا مظاہرہ کیا تھا۔ اس فلم میں پاناما سٹی کی لا فرم موزیک فونسیکا کی جانب سے  دنیا کے امیر ترین شہریوں کی بے حساب دولت کمانے میں مدد کرنے کے طریقہ کا احاطہ کیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ گذشتہ دنوں وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے عدالت میں پیشی کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پاناما لیکس کو نوازشریف کو  ہٹانے کا ڈرامہ قرار دے دیا تھا۔

اسحاق ڈار کے دعوے کے برعکس فلم "دی لانڈرومیٹ” میں پاناما پیپرز پر تفصیل سے روشنی ڈالی گئی تھی ۔ فلم می دکھایا گیا تھا کہ” ایلن مارٹن (میرل اسٹریپ) کی چھٹیاں ایک ناقابل فہم موڑ لیتی  ہیں اور وہ ایک جعلی انشورنس پالیسی کی چھان بین شروع کر دیتی ہے، وہ پاناما سٹی کی ایک قانونی فرم کی مشکوک لین دین  کا کھوج لگانے  کے چکر میں مشکل سے دوچار ہوجاتی ہے۔دنیا کے امیر ترین شہریوں کی بڑی دولت کمانے میں اس قانونی فرم  کا ذاتی مفادشامل ہوتا  ہے“۔

اسی طرح 90 کی دہائی میں بی بی سی نے سرے محل کے اوپر ایک ڈاکومنٹری تیار کی تھی جس میں سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو اور سابق صدر آصف علی زرداری کی کرپشن کو چاک کیا گیا تھا۔ تاہم پیپلز پارٹی کی قیادت نے بی بی سی کے خلاف آج تک کوئی قانونی چارہ جوئی نہیں کی ہے۔

متعلقہ تحاریر