الیکشن کمیشن توشہ خانہ ریفرنس میں عمران خان کو کیوں نااہل نہیں کرسکتا؟

الیکشن کمیشن کے پاس سپریم کورٹ کے گزشتہ سال کے فیصلے کے پیش نظر کسی بھی رکن اسمبلی کو نااہل قرار دینے کا دائرہ اختیار نہیں ہے جس میں ایم پی اے سلمان نعیم کو بحال کیا گیا تھا، سابق اٹارنی جنرل وقار رانا

الیکشن کمیشن آف پاکستان سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے خلاف توشہ خانہ ریفرنس پر فیصلہ آج سنائےگا۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے عمران خان سمیت تمام فریقین کو نوٹس جاری کردیےگئے ہیں۔عمران خان کے خلاف توشہ خانہ کیس کا فیصلہ آج دوپہر 2 بجے سنایا جائےگا، الیکشن کمیشن نے سکیورٹی کے لیے وزارت داخلہ سے رینجرز، ایف سی اور  پولیس فورس بھی طلب کی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

ملکی قیادت آئین اور قانون کی خلاف ورزی نہ کرے ، سپریم کورٹ

عمران خان نے آڈیو لیکس کی تحقیقات کیلئے سپریم کورٹ سے رجوع کرلیا

یاد رہےکہ الیکشن کمیشن نے توشہ خانہ کیس کا فیصلہ 19 ستمبرکو محفوظ کیا تھا۔اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے اگست میں اراکین قومی اسمبلی کی درخواست پر عمران خان کے خلاف توشہ خانہ ریفرنس الیکشن کمیشن بھیجا تھا جس میں ان کی نااہلی کی درخواست کی گی تھی۔

 الیکشن کمیشن آج عمران خان کے سیاسی مستقبل کے حوالے سے اہم فیصلہ سنانے جارہا ہے  جبکہ ان کے مخالف  مسلم لیگ (ن) کی زیرقیادت حکمران اتحاد کو یقین ہے کہ  یہ ایک مضبوط کیس ہے کیونکہ عدلیہ کی طرف سے دیے گئے اسی نوعیت کے کچھ فیصلے اس کے اس موقف کو تقویت دیتے ہیں کہ ایک  غیر ضروری غلطی ایک خودکار نااہلی تھی۔

تاہم قانونی ماہرین اس فرق کی نشاندہی کرتے ہیں اور سخت شکوک و شبہات کا اظہار کرتے ہیں کہ آیا اہم قانونی بنیادی تقاضوں کے ساتھ ساتھ عدالت عظمیٰ کے احکام الیکشن کمیشن کو یہ اختیار دیتے ہیں کہ وہ آئین کے آرٹیکل 62ون ایف کے تحت سابق وزیراعظم کو نااہل قرار دے سکے۔

انگریزی روزنامہ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق سینئر وکلا  کا ماننا ہے کہ الیکشن کمیشن  قانون کی عدالت کے دائرے میں بھی نہیں آتا، جو آئین کے آرٹیکل 62ون ایف کے تحت کوئی فیصلہ سنا سکے۔

سابق ایڈیشنل اٹارنی جنرل وقار رانا کے مطابق الیکشن کمیشن کے پاس سپریم کورٹ کے گزشتہ سال کے فیصلے کے پیش نظر کسی بھی قانون ساز کو نااہل قرار دینے کا دائرہ اختیار نہیں ہے جس میں ایم پی اے سلمان نعیم کو بحال کیا گیا تھا۔

وقار رانا نے مزید کہا کہ  اگر الیکشن کمیشن ایسا کرنے کے لئے آگے بڑھتا ہے، تو اس کے پاس عمران خان  کو نااہل قرار دینے کے لئے درکار قانونی اہلیت نہیں ہوگی کیونکہ وہ پہلے ہی رکن قومی اسمبلی کے طور پر استعفی دے چکے ہیں تاہم ایک اور وکیل نے نشاندہی کی کہ عمران کو اب بھی رکن قومی اسمبلی   تصور کیا جا سکتا ہے کیونکہ قومی اسمبلی کےاسپیکر کی جانب سے ان کا استعفیٰ ابھی قبول کرنا باقی ہے۔

یاد رہے کہ  گزشتہ سال اگست میں سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا تھا کہ الیکشن کمیشن کو انتخابی امیدوار یا رکن اسمبلی کی اہلیت یا نااہلی پر غور کرنے کا اختیار نہیں ہے۔جسٹس منیب اختر اور جسٹس سید منصور علی شاہ پر مشتمل سپریم کورٹ کے بینچ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا تھاکہ”ہمارے خیال میں آرٹیکل 218(3) کے لحاظ سے خود الیکشن کمیشن کے اندر کوئی طاقت یا دائرہ اختیار نہیں ہے کہ وہ کسی امیدواریارکن کی اہلیت یانااہلی پر غور کرے، چاہے وہ آزاد، کسی ذاتی معاملے میں ہو، یا انتخابی تنازع کا حصہ ہو۔

عدالت عظمیٰ کا یہ  اکثریتی فیصلہ جسٹس منیب اختر نے تحریر کیا تھا جبکہ  جسٹس سید منصور علی شاہ نے اس کی توثیق کی تھی۔فیصلے کے مطابق الیکشن کمیشن نے ان معاملات میں ارکان اسمبلی کی اہلیت کا فیصلہ کیا جنہیں اعلیٰ عدالتوں نے بھیجا تھا۔

فیصلے میں کہا گیا کہ اہلیت یانااہلی کے سوال کو الیکشن کے دن سے پہلے ایک وقف شدہ طریقہ کار کے ذریعے اچھی طرح جانچا جاتا ہے۔اور بلاشبہ الیکشن کے بعد ہارنے والا امیدوار ہمیشہ الیکشن ٹریبونل کے سامنے پٹیشن دائر کر سکتا ہے اور  اس مسئلے پر دوبارہ سوال اٹھا سکتا  ہے ۔ الیکشن ٹربیونل کے فیصلے کے خلاف اس عدالت میں براہ راست اپیل دائرکی جاسکتی ہے۔

فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ  جب ایسا فریم ورک دستیاب ہو تو یہ دیکھنا مشکل ہے کہ اس طرح کے کسی دائرہ اختیار کو  103S. AA اور یا S. 9 کے تحت کیوں پڑھنا چاہیے تاکہ کمیشن کو بااختیار بنایا جا سکے ۔

فیصلے میں کہاگیا ہے کہ  ہمارے خیال میں اگر پارلیمنٹ کے پاس آرٹیکل 222 کے تحت بنائے گئے قانون کے تحت کمیشن کو ایسا دائرہ اختیار دینے کی قانون سازی کی اہلیت ہے (ایک مفروضہ جو ہم اس فیصلے کے مقاصد کے لیے بناتے ہیں، بغیر فیصلہ کیے)، تو اسے واضح طور پر کیا جانا چاہیے۔ اور اظہار خیال اور واضح زبان کے استعمال سے103s. AA اور یا s. 9  کی شق اس سے بہت کم ہے ۔

عدالت نے یہ بھی مشاہدہ کیا کہ جہاں تک اہلیت یا نااہلی کا سوال، انتخابی تنازع کے ایک حصے کے طور پر پیدا ہوتا ہے اور کمیشن کے ذریعے براہ راست آرٹیکل 218(3) کے حوالے سے غور کیا جاتا ہے، تو آرٹیکل 225 کی دفعات کو ذہن میں رکھنے کی  ضرورت ہے۔

مذکورہ دفع میں کہا گیا ہے کہ”کسی ایوان یا صوبائی اسمبلی کے انتخابات پر سوالیہ نشان نہیں لگایا جائے گا سوائے اس انتخابی درخواست کے جو کہ کسی ٹریبونل کو قانون کے متعین کردہ طریقہ کار کے تحت پیش کی جائے “۔

”آرٹیکل 218(3) کے لحاظ سے کمیشن کو وراثت میں حاصل ہونے والی ایک آزاد طاقت کو ماننا اس آئینی شق کی خلاف ورزی کرے گا جو کہ واضح طور پر منفی الفاظ میں ڈالی گئی ہے۔ آرٹیکل 225 کے دائرہ کار میں آنے پر الیکشن ٹربیونل کے ذریعے غور کیا جانا چاہیے نہ کہ کہیں اور، کسی دوسرے فورم کے سامنے جیسا کہ، الیکشن کمیشن جو کہ آرٹیکل 218(3) کے تحت اپنے دائرہ اختیار کو استعمال کرنے کا ارادہ رکھتا ہے“۔

اعدالت نے یہ بھی کہا کہ” اس وجہ سے اس میں کوئی شک نہیں کہ103s. AA اور یا s. 9  کے  لحاظ سے کمیشن کو”ایک الیکشن ٹریبونل سمجھا جاتا تھا، اور اب بھی ہے جس کے سامنے ایک انتخابی پٹیشن پیش کی گئی ہے“۔فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ نے حنیف عباسی کیس میں یہ بھی نوٹ کیا کہ نہ تو ای سی پی عدالت ہے اور نہ ہی ٹریبونل۔

 اس سے قبل  اسلام آباد ہائی کورٹ   نے فیصل واوڈا کا کیس فیصلے کے لیے الیکشن کمیشن کو بھجوا  یا۔ فی الحال  واوڈا کی اپیل سپریم کورٹ میں زیر التوا ہے۔ سماعت کے دوران عدالت نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ کیا ای سی پی کو آئین کے آرٹیکل 62 1 ایف کے تحت نااہل قرار دینے کا اختیار ہے؟

متعلقہ تحاریر