ظاہرجعفر کی بربریت کا نشانہ بننے والی نورمقدم کی 29 ویں سالگرہ  

سابق سفارت کار شوکت مقدم کی مقتولہ صاحبزادی نورمقدم کی 29 ویں سالگرہ آج منائی جارہی ہے، جسٹس فار نور نامی ایک ٹوئٹر ہینڈل سے مقتولہ کے بھائی محمد علی مقدم نے جذباتی ٹوئٹ کی جس میں انہوں نے اپنی مقتولہ بہن کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ آج زندہ ہوتی تو 29 سال کی ہوتی مگر اسے بے دردی سے چھین لیا گیا

سابق سفارت کار شوکت مقدم کی مقتولہ صاحبزادی نورمقدم  کی 29 ویں سالگرہ آج منائی جارہی ہے۔ مقتولہ کے بھائی کا کہنا ہے اگر وہ زندہ ہوتی تو آج 29 سال کی ہوتیں ۔

اسلام آباد میں ظاہر جعفر نامی شخص کے ہاتھوں بدترین تشدد کے بعد جاں بحق ہونے والی سابق سفارت کار کی بیٹی نورمقدم کی آج 29 ویں سالگرہ منائی جا رہی ہے ۔

یہ بھی پڑھیے

نور مقدم کے سفاکانہ قتل کو ایک برس مکمل ہونے پر اسلام آباد میں مظاہرہ

جسٹس فار نور نامی ایک ٹوئٹر ہینڈل سے مقتولہ کے بھائی محمد علی مقدم نے اپنی بہن کی ایک تصویر شیئر کی جس میں وہ اپنی سالگرہ کا کیک کاٹ رہیں ہیں ۔

محمدعلی مقدم نے لکھا کہ سالگرہ مبارک نورو بابا!  آج تم زندہ ہوتی تو پوری 29 سال کی ہوچکی ہوتی تاہم تمہیں ہم سے بہت بے دردی سے چھین لیا گیا ۔

نورمقدم کے بھائی نے یہ تصویر ان کی 25 ویں سالگرہ کے موقع پر لے گئی تھی۔ محمد علی مقدم نے کہا کہ میں تمہیں بہت یاد کرتا ہوں، امید ہے تم سکون میں ہوگی ۔

نور مقدم کے بھائی محمد علی مقدم نے جذباتی جملہ لکھا کہ مجھے یقین ہے تم آسمانوں سے ہماری طرف دیکھ کر مسکرا رہی ہوگی ۔

یاد رہے کہ گزشتہ سال 20 جولائی کو  سابق سفیر شوکت مقدم کی 27 سالہ بیٹی نور مقدم اسلام آباد میں ظاہر جعفر رہائش گاہ پر مردہ حالت میں پائی گئی تھی۔

پولیس حکام نے واقعے سے متعلق بتایا تھا کہ مقتولہ کو گولی مارنے کے بعد  ذبح کیا گیا۔ نورمقدم کے بہیمانہ قتل کے بعد ملک بھر میں احتجاج  ہوا اور انہیں انصاف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ۔

پولیس نے  نورمقدم  کے قتل میں ملوث معروف کاروباری شخص کے بیٹے ظاہر ذاکر جعفر کو قتل میں مبینہ طور پر ملوث ہونے پر گرفتار کیا اور تین روز کی جسمانی تحویل حاصل کی۔

اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نورمقدم قتل کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے مجرم ظاہر جعفر کو سزائے موت سناچکی ہے جبکہ سہولت کاروں کو 10، 10 سال قید کی سزا سنائی گئی ۔

متعلقہ تحاریر