اعظم سواتی کی ایک ہفتے میں دوسری پریس کانفرنس: اداروں پر الزامات تیزتر

سینیٹر اعظم سواتی کا کہنا ہے مجھے جان سے مار دیتے تو اتنا دکھ نہ ہوتا ، مگر مجھے برہنہ کرکے تشدد کیا گیا اور ویڈیو بنائی گئی جس کا افسوس ساری زندگی رہے گا۔

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور سینیٹر اعظم سواتی نے کہاہے کہ جب وہ گرفتار تھے ،ان کی عزت پر ہاتھ ڈالا گیا اور نامعلوم جگہ لے جا کر ان کی ویڈیو بنائی گئی۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سینیٹر اعظم سواتی نے کہا کہ ان کے گھر میں لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی فارنزک جانچ کرائی جائے تاکہ معلوم ہو سکے کہ ان کے گھر میں کتنے افراد آئے تھے۔

یہ بھی پڑھیے

وزیراعظم کی جانب سے انتخابات کی تیاری کا آغاز: کسانوں کے لیے خزانے کا منہ کھول دیا

ڈیجیٹل میڈیا کی دوڑ میں پی پی پی اور ن لیگ تحریک انصاف سے بہت پیچھے ہے، احمد جواد

ان کا کہنا تھاکہ سی سی ٹی وی کیمرے ان کے آدھے کیس کی شہادت  ہیں جو افراد انہیں گرفتار کرنے آئے وہ سی سی ٹی وی کیمرے اور بیک اپ بھی لے گئے۔

سینیٹر اعظم سواتی نے الزام لگایا کہ جو افراد انہیں گرفتار کرنے آئے، وہ ان کے گھر سے تلاشی کے دوران قیمتی چیزیں بھی لے گئے، جب کہ 2 دن بعد اپنی کسٹڈی میں ان سے دستخط بھی کروائے۔

اعظم سواتی نے کہا کہ ان کی جان نکال لیتے تو انہیں پروا نہیں تھی مگر ان کی عزت پر ہاتھ ڈالا گیا اور نامعلوم مقام پر لے جا کر انہیں برہنہ کرکے ویڈیو بنائی گئی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایسا کرنے والوں کو سخت سزائیں دی جائیں۔

اعظم سواتی نے کہا کہ اگر وہ غلط بیانی کریں تو اللہ انہیں سزا دے۔ گرفتاری کے دوران ان پر بدترین تشدد کیا گیا اور سارے راستے انہیں مارے پیٹتے رہے اوران کی چیخوں کو ریکارڈ کرتے رہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 74 سال کے شہری سے ایسا سلوک سب کے لئے قابل مذمت ہونا چاہیے۔ سارے آئین اور قانون ہم جیسے شہریوں کے لئے ہے مگر بعض سرکاری اہلکار آئین و قانون سے ماورا ہیں۔ رانا ثناءاللہ تم سرٹیفائڈ مجرم اور جھوٹے ہو، جو تم بو رہے ہو وہی کاٹو گے۔

متعلقہ تحاریر