متنازع ٹویٹس کیس: اعظم سواتی کا عدالت میں لمبی جنگ لڑنے کا اعلان
رہنما تحریک انصاف اور سینیٹر اعظم سواتی کا کہنا ہے جب تک پورے پاکستان کو نہیں بتایا جائے گا کہ مجھے کس جرم میں گرفتار کیا گیا چین سے نہیں بیٹھوں گا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے متنازع ٹویٹس کیس میں پی ٹی آئی کے رہنما سینیٹر اعظم خان سواتی کی ضمانت منسوخی کے خلاف وفاق کی درخواست پر معاونت کرنے کی ہدایت کر دی۔ اعظم سواتی کا کہنا ہے میری عزت پر بات آئی ہے آخری دم تک لڑوں گا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس عامر فاروق نے سینیٹر اعظم سواتی کی ضمانت منسوخی کے لئے وفاق کی درخواست پر سماعت کی۔
درخواست گزار ایف آئی اے کے ٹیکنیکل اسسٹنٹ انیس الرحمان کی جانب سے راجہ رضوان عباسی ایڈووکیٹ عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔
یہ بھی پڑھیے
ارشد شریف قتل کیس پر بنائے گئے کمیشن کے سامنے پیش ہونے کو تیار ہوں، عمران خان
حکومت نے سوشل میڈیا کی مشکیں کسنے کیلیے ایف آئی اے کو کارروائی کا اختیار دیدیا
انہوں نے مؤقف اپنایا کہ اسپیشل کورٹ پیکا ایکٹ کے تحت درج دفعات کے کیسز کو ڈیل کر سکتی ہے، اعظم سواتی کے کیس میں اسپیشل کورٹ نے دائرہ اختیار سے تجاوز کیا۔
جسٹس عامر فاروق نے اسپیشل کورٹ کے دائرہ اختیار نہ ہونے کے سوال پر مزید معاونت کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ دائرہ اختیار سے متعلق عدالت کی مزید معاونت کریں۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے کیس کی سماعت ایک ہفتے تک کے لئے ملتوی کر دی۔
اعظم خان سواتی کو متنازع ٹوئٹس کے حوالے سے بغاوت پر اکسانے کے الزام میں 13 اکتوبر کو حراست میں لے لیا گیا تھا۔
اعظم سواتی کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعہ 131 (بغاوت پر اکسانے)، 500 (ہتک عزت)، 501 (ہتک آمیز مواد)، 505 (فساد پھیلانے)، 109 (اکسانے) اورالیکٹرانک کرائم کی روک تھام (پیکا) ایکٹ کی دفعہ 20 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
میری عزت کو تار تار کر دیا گیا ہے، جب تک وہ لوگ عدالت کے کٹہرے میں آکر میرا جرم نہیں بتائیں گے میں چین سے نہیں بیٹھوں گا۔ سینیٹر @AzamKhanSwatiPk pic.twitter.com/s4CiiIZ8ey
— PTI (@PTIofficial) November 3, 2022
پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور سینیٹر اعظم سواتی کا کہنا ہے جب تک میرے مجرم عدالت کے کٹہرے میں نہیں کھڑے ہوں گے ، جب تک یہ میری اولاد اور پورے پاکستان کو نہیں بتائیں گے کہ میرا جرم کیا تھا۔ اس وقت تک میں چین سے نہیں بیٹھوں گا۔









