عمران خان نے 24 ستمبر کا اپنا بیان چلا کر حکومت کا کھیل ایکسپوز کردیا

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مذہبی منافرت اور سیاست منافرت نے ہر شخص کو غیرمحفوظ کردیا ہے۔ ان کا کہنا ہے اگر یہ عمل ایک شخص کا ذاتی نوعیت کا ہے تو یہ اور بھی زیادہ خطرناک ہے۔

سابق وزیراعظم اور چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے مذہبی جنونی کے ہاتھوں اپنے قتل کی منصوبہ بندی سے متعلق 24 ستمبر کے خطاب کی وڈیو چلا کر حکومتی بیانیے سے ہوا نکال دی ہے۔

گزشتہ رات چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے شوکت خانم اسپتال سے قوم سے اپنے خطاب واضح الفاظ میں کہا کہ میرے قتل کی پلاننگ تین لوگوں نے مل کر بنائی تھی۔ ہم نے ایف آئی آر درج کرانے کی کوشش کی ، مگر سب ڈرتے ہیں ، کیونکہ یہ قانون سے اوپر ہیں۔ ملک کی سب سے بڑی پارٹی کے سربراہ کو انصاف نہیں مل رہا۔ میں جیسے ٹھیک ہوجاؤں گا میں پھر سڑکوں پر نکلوں گا۔ اسلام آباد میں آنے کی کل دوں گا۔

یہ بھی پڑھیے

مریم نواز کی عمران خان پر شدید تنقید ، سربراہ پی ٹی آئی کو قصہ پارینہ قرار دے دیا

خرم دستگیر کا گوجرانوالہ میں عمران خان کیخلاف گھڑی چور کے بینرز لگانے کا اعتراف

گزشتہ روز قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف کا کہنا تھا کہ عمران خان پر حملے کے پیچھے مذہبی جنونیت ہے۔ سابق وزیراعظم صاحب نے وقت فوقت جو زبان استعمال کی ہے ، جو حدود کراس کی ہیں ، انہوں نے متعدد مرتبہ مذہب کی ریڈلائنز کو کراس کیا ہے۔ جس کی وجہ سے ایک شخص کو جنون لاحق ہوا اور وہ یہ عمل کر گزرا۔

گزشتہ روز ہی دوپہر کے وقت وزیراطلاعات مریم اورنگزیب کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ پریس کانفرنسز یا تقاریر کی حد تک ، ایک بات کا جواب دیا جاتا ہے ، ہم چاہتے ہیں کہ اس میں بھی شائستگی ہو۔ تشدد کی ہر صورت اور ہر شکل کی ہم مذمت کرتے ہیں۔

رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ عمران خان پر حملہ کرنے والے شخص کا اعترافی بیان اس چیز کا ثبوت ہے کہ اس شخص نے مذہبی جنونیت کے ہاتھوں مجبور ہوکر حملہ کیا۔

دوسری جانب عمران خان پر حملے کرنے والے ملزم نے اپنے بیان عمران خان پر توہین مذہب کا الزام لگایا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عمران خان 24 ستمبر والا کلپ اس وقت بھی چلا سکتے تھے جب اسد عمر اور میاں اسلم اقبال نے بیان جاری کیا جاری کیا تھا ، مگر چیئرمین تحریک انصاف نے اس بات کا انتظار کیا گیا کہ حکومت حملے کے حوالے سے کیا موقف دیتی ہے ، اور عمران خان کی سوچ کے مطابق حملے کو حکومتی وزراء نے مذہبی جنونیت کے ساتھ جوڑ دیا اور عمران خان کے 24 ستمبر کے خطاب کو سچ کر دکھایا۔

تاہم سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مذہبی منافرت اور سیاست منافرت نے ہر شخص کو غیرمحفوظ کردیا ہے۔ ان کا کہنا ہے اگر یہ عمل ایک شخص کا ذاتی نوعیت کا ہے تو یہ اور بھی زیادہ خطرناک ہے۔

متعلقہ تحاریر