سپریم کورٹ کا آئی جی پنجاب کو عمران خان پر حملے کی ایف آئی آر درج کرنے کا حکم
چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا ہے کہ اگر 24 گھنٹوں کے اندر مقدمہ درج نہ ہوا تو سپریم کورٹ سوموٹو لے گی۔ عدالت آئی جی پنجاب کے ساتھ کھڑی ہے۔
سپریم کورٹ آف پاکستان نے آئی جی پنجاب فیصل شاہکار کو چیئرمین تحریک انصاف عمران خان پر حملے کی ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دے دیا ہے۔
چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا ہے کہ آئی جی پنجاب 24 گھنٹوں میں ایف آئی آر درج کریں ورنہ سوموٹو ایکشن لیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیے
عمران خان کا منگل کے روز سے وزیرآباد سے لانگ مارچ دوبارہ شروع کرنے کا اعلان
تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں عمران خان کے خلاف توہین عدالت کی وفاقی حکومت کی درخواست پر کیس کی سماعت شروع ہوئی تو چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے پی ٹی آئی کے وکیل سلمان اکرم راجہ کو عمران خان کا جواب جمع کرانے کےلیے ایک ہفتے کی مہلت دی۔ اس کے ساتھ ہی چیف جسٹس نے ان کے پوچھا کہ عمران خان پر حملے کی ایف آئی آر درج ہوئی ہے یانہیں۔
جس پر آئی جی پنجاب جو ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں موجود تھے ، ان کو روسٹرم پر بلایا گیا۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ میں نے آپ کے بارے میں سنا ہے کہ آپ نےبہت سے بین الاقوامی کیسز میں بہترین کارکردگی دکھائی ہے ، مگر یہاں پر ابھی تک عمران خان پر حملے کی ایف آئی آر درج نہیں ہوئی اس کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں۔
جس پر آئی جی پنجاب نے عدالت کو بتایا کہ ایف آئی آر کے معاملے پر صوبائی حکومت کو کچھ تحفظات ہیں جس بنا پر ابھی تک ایف آئی آر درج نہیں ہوسکی۔
انہوں نے عدالت کو بتایا کہ وزیراعلیٰ پنجاب نے انہیں ایف آئی آر کے اندراج سے منع فرمایا ہے۔
چیف جسٹس عمر عطا بندیال کا کہنا تھا سپریم کورٹ آپ کے ساتھ ہے آپ قانونی کارروائی مکمل کریں۔ قومی لیڈر پر قاتلانہ حملہ ہوا ہے، معاملے کی حساسیت کو سمجھیں۔
چیف جسٹس کا کہنا تھا ایف آئی آر کے اندراج نہ ہونے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ابھی تک تفتیش ہی شروع نہیں ہوئی۔ اور جہاں یہ واقعہ ہوا تھا وہاں سے بھی شواہد کو ختم کردیا گیا ہوگا۔ اس طرح کی تفتیش عدالت کے نظر میں بھی قابل قبول نہیں ہوتی۔









