سپریم کورٹ کا ریکوڈک منصوبے میں چھوٹ اور رولز میں نرمی کی پالیسی بنانے کا حکم
چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ تمام بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے لیے ملک کی یکساں پالیسی سے شفافیت آئے گی۔
سپریم کورٹ نے حکومت کو بلوچستان میں واقع ریکوڈک معدنی منصوبے پر باقاعدہ اتھارٹی اور پالیسی بنانے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ریکوڈک منصوبے کا گزشتہ معاہدہ مخصوص کمپنی کے لیے قواعد میں نرمی پر کالعدم ہوا تھا۔
چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے جسٹس اعجازالاحسن، جسٹس منیب اختر، جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی پر مشتمل 5 رکنی لارجر بینچ نے ریکوڈک معاہدے سے متعلق صدارتی ریفرنس پر سماعت کی۔
یہ بھی پڑھیے
نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسف زئی کی شادی کی پہلی سالگرہ شوہر سے مستی مذاق
آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے الوداعی دوروں کا آغاز کردیا
ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ ریکوڈک منصوبے سے بین الاقوامی سرمایہ کاروں کی ہچکچاہٹ ختم ہوگی اور ملک میں سرمایہ آئے گا۔
چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے کہا کہ ابھی تک آپ مطمئن نہیں کر سکے کہ ایک مخصوص کمپنی کے لیے حکومت نئی قانون سازی کیوں کر رہی ہے؟
انہوں نے استفسار کیا کہ بار بار یہ کہہ کر ڈرایا جارہا ہے کہ ریکوڈک منصوبہ 15 دسمبر تک طے نہ ہوا تو 10 ارب ڈالر کا بوجھ پڑ جائے گا، جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالت کو ڈرا نہیں رہے لیکن اگر 10 ارب ڈالر کا جرمانہ پڑ گیا تو قوم ہی بھگتے گی اور بلوچستان حکومت اس معاہدے میں برابر کی حصہ دار ہے۔
عدالت نے دریافت کیا کہ ریکوڈک منصوبے میں چھوٹ اور رولز میں نرمی کو پالیسی کا حصہ بنایا جاسکتا ہے اور اگر ایک بار پالیسی بن جائے گی تو عدالت کے لیے فیصلہ کرنے میں آسانی ہوگی۔
چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ تمام بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے لیے ملک کی یکساں پالیسی سے شفافیت آئے گی، جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ ریکوڈک منصوبے میں 10 ارب ڈالر کی ملک کی سب سے بڑی سرمایہ کاری ہو رہی ہے۔
انہوں نے تجویز دی کہ سی پیک کی طرز کی ایک اتھارٹی بنائیں جو ریکوڈک منصوبے کا جائزہ لیتی رہے، دوبارہ ریکوڈک منصوبے کو تباہ ہونے نہیں دینا چاہتے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ ریکوڈک معاہدے میں ملک پر ابھی بھی 4.5 ارب ڈالر کا بوجھ ہے، آپ ایک معاہدے کی آسانی کے لیے رولز میں نرمی کر سکتے ہیں لیکن اپنا معیار نہیں گرا سکتے۔
عدالت نے کہا کہ ریکوڈک سے ملحقہ علاقوں میں آبادی کے حقوق بھی متاثر نہیں ہونے چاہئیں۔
بعد ازاں عدالت نے کیس کی مزید سماعت 14 نومبر تک ملتوی کردی۔









