پی ٹی آئی نے عمر ظہور کے خلاف دبئی میں قانونی کارروائی کا عندیہ دے دیا
رہنما تحریک انصاف فواد چوہدری کا کہنا ہے عمر ظہور ناروے کا مفرور شخص ہے جس نے گزشتہ رات جیو نیوز کے پروگرام میں انٹرویو دیتے ہوئے جھوٹ بولا کہ اس نے عمران خان کو سعودی سے ملنے والی گھڑی 2 ملین ڈالر میں خریدی۔
پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما اور سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے دبئی کے معروف بزنس مین عمر فاروق ظہور کے خلاف قانونی کارروائی کا عندیہ دے دیا۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے پی ٹی آئی رہنما فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ نواز شریف اور آصف علی زرداری پر ایک ایک کیس 20 ، 20 ارب روپے کا ہے ، مگر عمران خان پر الزام لگایا جاتا ہے کہ عمران خان نے تحفے میں ملی ہوئی گھڑی بیچ کر ساڑھے تین کروڑ روپے منافع کمایا۔
فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ پاکستان میں صرف عمران خان اور پی ٹی آئی ہی کرپشن کے خلاف بیانیے پر کھڑے ہیں۔ اس لیے اگر عمران خان اور پی ٹی آئی پر کوئی الزام لگتا ہے تو اس کو جواب ہمارے پاس ہونا چاہیے۔ جتنا ہم دوسروں کو جوابدہ سمجھتے ہیں اس سے زیادہ ہم اپنے آپ کو جوابدہ سمجھتے ہیں۔ اس لیے سوال اٹھانے میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیے
توشہ خانہ کی گھڑیوں کا معاملہ: حکومت، جیو نیوز، عمر فاروق بمقابلہ پی ٹی آئی
نئے آرمی چیف کی تقرری سنیارٹی کی بنیاد پر کی جائے، لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر
رہنما تحریک انصاف کا کہنا تھا جب تک عمران خان سیاست میں کودے نہیں تھے تب تک پاکستان میں کرپشن کوئی مسئلہ ہی نہیں تھا ، ہمارے ہاں کہا جاتا تھا کہ کوئی نہیں کھاتا ہے تو لگاتا بھی تو ہے۔ پاکستان کے اندر یہ ایک بیانیہ بن گیا تھا اور لوگوں کو کوئی مسئلہ نہیں تھا۔
سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری کا کہنا تھا آج کرپشن پاکستان کا سب سے بڑا موضوع ہے۔ آج اگر لوگ کرپشن کو مسترد کرتے ہیں تو وہ عمران خان کی وجہ سے کرتے ہیں۔
پریس کانفرنس کے اصل موضوع کی جانب آتے ہوئے فواد چوہدری کا کہنا تھا جو بھی تحائف وزیراعظم کو ملتے ہیں وہ وزیراعظم وصول نہیں کرتا ، فارن آفس کا چیف آف پروٹوکول تحائف وصول کرتا ہے ، جو گھڑی سعودی حکومت سے ملی ، ہمارے اس کے وقت چیف آف پروٹوکول نے وہ گھڑی وصول کی ، جو تحائف باہر ملتے ہیں ان تحائف کو توشہ خانہ ڈیپارٹمنٹ میں جمع کرادیا جاتا ہے۔ ان تحائف کی رسید کابینہ ڈویژن جاری کرتی ہے۔ کابینہ ڈویژن تحفے کی قیمت طے کرتی ہے اور متعلقہ حکام کو آگاہ کردیا جاتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر ہم موجودہ کیس کو دیکھیں جو گھڑیوں کے سیٹ کے حوالے سے تو کابینہ ڈویژن نے اس ویلیو 10 کروڑ روپے طے کی۔ عمران خان صاحب نے اس کا فیصد ادا کرکے تحفہ اپنی ذاتی ملکیت میں لے لیا۔ عمران خان نے یہ تحفہ 5 کروڑ 70 لاکھ روپے میں بیچا۔ اس پر کیپیٹل گین ٹیکس بھی ادا کیا گیا ، عمران خان کے گوشواروں میں یہ سب تفصیلات درج ہیں۔
فواد چوہدری کا کہنا تھا ہم نے عمر فاروق ظہور نامی کسی شخص کو گھڑی نہیں بیچی ، اور نہ یہ گھڑی کبھی فرح گجر کے حوالے کی گئی ۔ اور نہ ہی ان کا اس سے کوئی تعلق تھا۔
عمر فاروق ظہور سے متعلق انکشاف کرتے ہوئے فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ عمر ظہور کی فیملی ناروے میں رہتی تھی۔ یہ چار بھائی ہیں جن میں تین جیل میں ہیں اور عمر ظہور فرار ہوکے دبئی آگیا تھا۔ عمر ظہور پر منی لانڈرنگ کا کیس ہے۔
فواد چوہدری کا کہنا تھا عمر ظہور نے شاہزیب خانزادہ کے پروگرام میں جھوٹ بولا کہ انہوں نے گھڑی کے 2 ملین ڈالر ادا کیے تھے۔ جو بندہ اپنی بیٹیوں کے لیے خرچہ دینے کا روادار نہیں وہ 2 ملین ڈالر میں گھڑی کیسے خرید سکتا ہے۔
فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ ان تمام حالات کو دیکھتے ہوئے پی ٹی آئی نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم عمر ظہور کے خلاف دبئی میں قانونی کارروائی کریں گے ، اور جنگ گروپ کے خلاف ہم لندن میں قانونی کارروائی کا آغاز کررہے ہیں۔
رہنما تحریک انصاف کا کہنا تھا کہ پاکستان کی سب سے بڑی پارٹی کو کیس کرنے کے لیے لندن جانا پڑرہا تو آپ اندازہ لگاسکتے ہیں کہ ہمارے عدالتی نظام کا معیار کیا رہا گیا ہے ، کل رات شہید ارشد شریف کی والدہ نے بھی سی این این کو انٹرویو دیتے ہوئے پاکستان کے عدالتی نظام پر عدم اعتماد کا اظہار کیا تھا۔









