آرمی ایکٹ میں ترامیم ، وزیر دفاع کچھ نہ کہہ کر بھی بہت کچھ کہہ گئے

خواجہ محمد آصف کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں پاکستان آرمی ایکٹ میں کچھ بنیادی تبدیلیاں کی جارہی ہیں۔

وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ میڈیا پر آرمی ایکٹ میں ترامیم کے حوالے چلنے والی خبریں افواہوں سے زیادہ کچھ نہیں ، سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں کچھ بنیادی  تبدیلیاں آنے والے وقت میں کی جائیں گی۔

ان خیالات کا انکشاف انہوں نے گزشتہ روز سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ٹوئٹ کرتے ہوئے کیا ہے۔

اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر پیغام شیئر کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ "پاکستان آرمی ایکٹ میں ترامیم پر میڈیا کی تشہیر غیر ضروری ہے۔ حکومت مذکورہ ایکٹ میں کسی بڑی تبدیلی پر غور نہیں کر رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

موٹروے پر دھرنے سے عوام کے حقوق متاثر ہوں گے، اسلام آباد ہائی کورٹ

پاکستان انفارمیشن کمیشن کے تینوں افسران ریٹائر، عوام کی معلومات تک رسائی ناممکن

انہوں نے مزید لکھا ہے کہ "ایس سی پی (سپریم کورٹ آف پاکستان) نے اپنے سی پی 39/2019 کے فیصلے میں پی اے اے (پاکستان آرمی ایکٹ) کی کچھ متعلقہ شقوں پر نظرثانی کا حکم دیا تھا۔ جس کی مناسب وقت پر تعمیل کی جائے گی۔”

دوسری جانب مختلف میڈیا چینل رپورٹس کررہے ہیں کہ نئے آرمی چیف کی تقرری سے متعلق حکومت نے آرمی ایکٹ 1952 کی کچھ شقوں میں ترامیم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ایک ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق دفعہ 176 اے کی شق میں کی جانے والی ترمیم کے تحت لفظ ری اپائنٹمنٹ کو ریٹین سے بدل دیا جائے گا۔

خبر میں بتایا گیا ہے کہ آرمی ایکٹ میں ترامیم کو اب مختلف زاویوں سے دیکھا جا رہا ہے۔

کابینہ کمیٹی برائے قانون سازی نے 1952 کے آرمی ایکٹ میں متعدد ترامیم کی تجویز دی ہے۔ موجودہ قوانین میں وزیراعظم تقرری کی سمری منظوری کے لیے صدر کو بھیجنے کا پابند ہے۔

خبر میں یہ بھی بتایا گیا کہ آرمی ایکٹ میں ترامیم کے حوالے سے اجلاس 11 تاریخ کو ہونا تھا جو ملتوی کر دیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ 2020 میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے سپریم کورٹ کے حکم پر قبل از تقرری آرڈر میں اس وقت ترمیم کی تھ ، جب آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے حوالے سے کچھ قانونی شکوک و شبہات پیدا ہو گئے تھے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف کا بیان اس بات کی غماضی کررہا ہے کہ آرمی ایکٹ میں تبدیلی ہورہی ہے ، یہ الگ بات کہ انہوں نے پردے رکھنے کے لیے سپریم کورٹ کے حکم کا حوالہ دے دیا ہے۔

متعلقہ تحاریر